266

سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمربڑھانے کا فیصلہ نئی عمر کیا رکھی گئی

پشاور( آن لائن )خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے لیے نئی پالیسی کی تیاری شروع کی ریٹائرمنٹ کے لیے عمر کی حد بڑھانے کا اعلان بجٹ کے موقع پر کیا جائے گا۔ فیصلہ ریٹائڑد سرکاری ملازمین کے پنشن اخراجات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر کیا گیا۔ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے حکومت پر پنشن کی مد میں پڑنے والا بوجھ کم ہو گا۔خیال رہے ملازمین کے

لیے مدت ملازمت 60 سال سے 63 سال کرنے کے لیے تجاویز صوبائی کابینہ کو پیش کی گئی۔تجاویز میں کہا گیا تھا کہ 1960 میں ریٹائرمنٹ کی عمر 50 سال تھی۔1973 میں ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال مقرر کی گئی،سرکاری ملازمین کی مدت ملازمت کی پالیسی اوسط عمر کے تناسب سے تیار کی گئی تھی۔1960 میں پاکستان میں اوسط عمر 45.26 اور ریٹائرمنٹ کی عمر 50 سال جب کہ 1960 میں ہی اوسط عمر 54۔ 38 اور مدت ملازمت کی حد 60 سال مقرر کی گئی۔26سال گزرنے کے بعد بھی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ نہیں کیا گیا،تجاویز میں کہا گیا ہے کہ مدت ملازمتمیں توسیع سے خزانے پر پنشن کے بڑھتے ہوئے دبا کو کم کیا جا سکے گا جب کہ تین سالوں میں حکومت کو 76۔5 بلین روپے کی بچت ہو گی،تجربہ کار بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے خلا کو بھی کم کیا جاسکے گا۔قبل از وقت ریٹارمنٹ کے لیے مدت ملازمت میں 5 سال اور قبل از وقت ریٹارمنٹ کے لیے مدت ملازمت25 سے 30سال کرنے کی تجویز شامل ہے۔ واضح رہے خیبر پختونخوا حکومت ا س سے قبل بھی کئی شاندار اقدامات کر چکی ہے جس کی وجہ سے انہیں سراہا بھی جاتا ہے یہی وجہ ہے خیبرپختونخوا کے لوگوں نے اس بار بھی تحریک انصاف کو ووٹ کر دے کر انہیں منتخب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں