پڑھیئے فائزہ عباس نقوی کی خوبصورت تحریر:انسان اورکائنات

رنگ ۔ ۔ ۔ خوشبو ۔ ۔ ۔ پھول ۔ ۔ ۔ کہکشائیں ۔ ۔ چاند کی چاندنی،سورج کی روشنی،ہواوں کا مسکرانا،آسمان کی بلندیاں ،زمین کی سرگوشیاں ،چڑیوں کا چہچہانا،کوئل کی کوک،سارے پیارے پیارے موسم،کبھی برسات،کبھی گرمی،کبھی سردیوں کی شا میں ،کبھی خزاں کے بکھرے حسین رنگ اور پتوں کی وہ سرسراہٹ،کبھی گرمیوں کی پرسکون لمبی دوپہریں ،کبھی شاموں کے خوبصورت منظر،اور گھڑی کی ٹک ٹک،کبھی غور کریں ۔ ۔ تو آج کے بہت سے انسان ان رنگوں ،ان خوشبووں ،ان مناظر کی خوبصورتی کو محسوس کرنے سے محروم ہیں ،حالانکہ،قدرت کے یہ سبھی منظر،سبھی موسم،سبھی صبح وشا میں ،انسانوں سےمخاطب ہوتی ہیں ان سے باتیں کرتی ہیں انکو بتاتی ہیں ،کہ کائنات کی ہر شے دوسرے کو فائدہ دینے کے لیے ہے اور اسی میں اس مخلوق کاحسن اور اعزاز ہے ۔ سورج کی روشنی خود کو فائدہ نہیں دیتی دنیا کو روشن کرتی ہے ۔ درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتے،دریا اپنا پانی خود نہیں پیتے،پھول اپنی خوشبو سے گردونوح کو معطر کرتے ہیں ،اور بارشی زمین کو سیراب کرتی ہے ۔ بالکل ایسے ہی انسان بھی دوسرے انسانوں سے جڑے ہیں اور انکو فائدہ یا نقصان ۔ ۔ ۔ خوشی یا غم کا باعث بنتے ہیں ۔ انسان اور کائنات جب مخاطب ہوں تو کبھی سوچا کہ وہ کلام کیسا ہوگا;دھوپ کیا کہتی ہو گی;آسمان کیا کہتا ہو گا;انسان ان پھولوں سے کیسی بات کہتا ہوگا اور ان رنگوں سے کیسے رنگ لیتا ہو گا ۔ کیا ہوتا ہو گا جب یہ دونوں جھگڑتے ہوں گے;کون صلح کرواتا ہو گا;کون دوست بنتے ہوں گے;کیسے ہوائیں تخیل کو مخاطب کرتی ہوں گی کون سے لفظ جچتے ہونگے; ۔ کون سی بات ہوتی ہوگی;کون سی بات رہ جاتی ھو گی ۔ مگر سچ میں کیا انسان اور کائنات کی آپس میں کوئی گفتگو ہوتی ہو گی ۔ گفتگو کے لیے تو،وقت اور توجہ درکار ہے ۔ ۔ لہجہ ۔ ۔ لفظ اور ربط چاہییے ۔ ۔ ۔ گفتگو کے لیے تو زبان بھی شاید ایک سی ہونی چاھییے ۔ ۔ ۔ زبان اگر نہ ایک ہو تب بھی ۔ ۔ ۔ احساس کی خوش روی چاہییے ۔ ۔ ۔ انسان اور کائنات اگر ۔ ۔ ۔ بات کریں تو کائنات تو بہت سا ہنستی ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ نہ جانے وہ کسطرح اداس بھی ہوتی ہوگی ۔ ۔ ۔ کیاشا میں مسکراتی ہونگی ۔ صبحیں گنگناتی ہوں گی ۔ ۔انسان اور کائنات میں کیا ایسی دوستی ہو گی ۔ ۔ ۔ ;;دوست تو دوست کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ انکے ہر دکھ سکھ کو بنا بولے سمجھتے ہیں ۔ انکے دامن کو کبھی بے سکون کرتے نہیں ۔ جتنے ساری اچھائیاں ہوں وہ بے جھجک کیا دیتے نہیں ۔ انسان تو انسان پر ظلم کرتا ہے اس لیے ۔ ۔ ۔ کہ شاید اسنے حق مارا تھا ۔ ۔ درد دیا تھا ۔ ۔ ۔ سچ مارا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ پر کائنات بھی سوچتی ہو گی ۔ ۔ ۔ میں نے تو سب دیا ہی تھا ۔ ۔ ۔ انسان کا دامن بھرا ہی تھا ۔ ۔ ۔ پھر اسنے کیوں حق مارا تھا ۔ ۔ ۔ درد دیا تھا ۔ ۔ ۔ قتل کیا تھا ۔ ۔ ۔ کوں میرے موسموں کو اس نے ۔ ۔ ۔ اپنے ظلم سے بدل دیا تھا ۔ ۔ ۔ کیوں میری روشنی کو اس نے ۔ ۔ ۔ زہر سے اندھیر کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں میری سب خوشبوں کو اسنے ۔ ۔ ۔ بدبووں سے زہر کیا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے کون سا ظلم کیس تھا ۔ ۔ ۔

میں نے کونسا زہر دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ کائنات اور انسان اگر ۔ ۔ ۔ دوست ہوتے ۔ ۔ ۔ ۔ تو کائنات کی روح پر کیے زخموں کو ۔ ۔ ۔ کیسے انسان دیکھ پاتا ۔ ۔ ۔ کیسے اسکا درد سنتا کیسے خوشیاں دے پاتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کائنات اگر نوحہ کہتی ۔ ۔ ۔ تو نہ جانے کیا کہتی ۔ ۔ ۔ کبھی جو انسان نے سنا ہوتا تو ۔ ۔ !!! 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں