137

سردارسکندرحیات کوسترلاکھ کی گاڑی دینے کے بعدوزیراعظم آزادکشمیرنے آڈیوٹیپ پر معافی مانگ لی

مظفرآباد(اے جے کے نیوز)  وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ اللہ رب العزت سے اپنے الفاظ پر معافی کا طلبگار ہوں ،مجھے بہت افسوس ہے کہ میرے الفاظ سے سردارسکندرحیات خان اور خواتین کو تکلیف پہنچی، نجی محفلوں کی گفتگو کو منظر عام پرلانا اور فساد پھیلانے کے کے لیے استعمال کرنا افسوسناک ہے، اس حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے ممانعت فرمائی ہے ،نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر کا بھی ٹیلیفون ٹیپ ہوتا ہے تو پھر عام آدمی کا کیا ہوگا ۔میں سب کا احترام کرتا ہوں چاہتا تو بہت ساری باتیں میں بھی کرسکتا تھا یہاں بڑے بڑے لوگوں پر بہت افسوسناک الزام لگتے رہے ان پر بات نہیں کرونگا ۔لوکل گورنمنٹ بورڈ کی آسامیوں کے ٹیسٹ کے دوران نقل کروانے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اسمبلی کو جوابدہ ہیں، الحمداللہ تین سالوں کی ہماری کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔ سابق حکومتوں کے ادوار میں تقرریوں کے حوالہ سے جو کھلواڑ ہوتا رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے ۔میں اپنی بات کر کہ یہاں سے آٹھ جاونگا تاکہ میری موجودگی میں کوئی شائد مجھ پر بات نہ کرسکے، اس لیے آپ سب کو اجازت ہے جو مرضی بات کریں جو ہوا اس پر کوئی وضاحت نہیں دینا چاہتا اللہ رب العزت رمضان کے صدقے ہماری خطاوں کو معاف فرماے۔بدقستمی سے آزادکشمیر میں سوچ محدود ہو تی جارہی ہے ۔ ہمیں کھلے دل کا مظاہرہ کرناہو گا جس کا حق ہے اسے دیناچاہیے ۔ یکساں مواقعوں کی فراہمی کےلئے حکومت پرعزم ہے ۔سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد ایوان راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ تقرریوں کے حوالہ سے اشتہار ات ریاستی اور قومی اخبارات میں شائع کیے جاتے ہیں ہماری خواہش ہے کہ ریاستی اخبارات کو زیادہ سے زیادہ فسیلیٹیٹ کریں ۔ اخباری مالکان سے بات چیت ہوئی اشتہارات کے حوالہ سے جو مسائل ہیں وہ بھی حل کررہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوٹہ سسٹم سے اوپن میرٹ سسٹم بہتر ہے ۔ گزشتہ تین سالوں میں یہ تو نہیں کہتے کہ دودھ اور شہد کی نہریںبہائی ہیں مگر تقرریاں ، تعیناتیوں اور ترقابیوں میں الحمداللہ میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے اندر میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میں ڈکٹیٹر ہوں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میرے جمہوری رویے کی بدولت میری کابینہ کا وزیر میرے ہی خلاف قرار دار لیکر آیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسطرح کی سازشیں پارٹی اور حکومت کو کمزور نہیں کر سکتیں ۔ مسلم لیگ ن متحد و منظم ہے ۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور اختلاف رائے ہونا کوئی بری بات نہیں ۔ جمہوری نظام میں ہر ایک کا حق ہے کہ وہ کسی سے بھی اختلاف رائے کر سکتا ہے ۔ میں اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتاہوں ۔ 


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں