190

5 سال میں 16 مردوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کی انتہائی دردناک کہانی

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں گزشتہ دنوں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ایک لڑکی نے پولیس کے ایف آئی آر درج نہ کرنے پر خود کو آگ لگا لی تھی تاہم اس کی زندگی بچا لی گئی۔ اب اس کی انتہائی افسوسناک کہانی منظرعام پر آ گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے گاﺅں ’ہیپر‘ کی رہائشی اس لڑکی کے خودسوزی کی کوشش کرنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور لڑکی نے پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے 5سال کے دوران 16مرد جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور اس زیادتی کی وجہ سے وہ ایک بچے کی ماں بھی بن چکی ہے۔

لڑکی کو 2011ءمیں اس کے باپ اور آنٹی نے فروخت کر دیا تھا، جس کے بعد2014ءمیں اس کے ساتھ بدکاری شروع ہوئی جو گزشتہ دنوں اس کی خودسوزی تک جاری رہی۔ لڑکی نے بتایا کہ ”مجھے میرے باپ نے جس پہلے شخص کے ہاتھ فروخت کیا وہ اس شخص کا مقروض تھاجس کے پاس ملازمت کرتا تھا۔ اس کے مالک نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے شوہر کو بتایا لیکن اس نے بھی مجھے خاموش رہنے کی ہدایت کر دی۔ ایک سال بعد میں اس شخص کے بچے کی ماں بن گئی۔ اس کے علاوہ 15مزید مردوں نے مجھے مختلف مواقع پر زیادتی کا نشانہ بنایا جن کے نام ’گڈو، مدھو، ویپن، گرمیت، رامو، انوج، گوپال، ڈاکٹر سبھاش، ڈاکٹر پروین، ارون، سوربھ، نگینو اور کیدرہیں۔ “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں