279

پاکستان کی معروف یونیورسٹی کا طالب علم جو 3 سال سے ٹوائلٹ میں چھپ چھپ کر لڑکیوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنا رہا تھا، بالآخر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں ایک بدطینت طالب علم ٹوائلٹس میں چھپ چھپ کر لڑکیوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بناتے رنگے ہاتھوں پکڑ اگیا۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق ملزم 2015ءمیں یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا اور گزشتہ تین سال سے یہ مذموم حرکت کر رہا تھا۔ اس کے فون سے یونیورسٹی کی طالبات کی سینکڑوں قابل اعتراض ویڈیوز برآمد ہوئیں جو اس نے اسی طرح باتھ رومز میں چھپ کر بنائی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ملزم نے چند طالبات کو ان کی ویڈیوز کی وجہ سے بلیک میل کرنے کی کوشش بھی کی۔یہ واقعہ آغا خان یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ کے تحت سنایا ہے جس پر کمنٹس میں انٹرنیٹ صارفین ملزم کی اس حرکت پر شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک لڑکی نے لکھا ہے کہ ”یہ کوئی ہراسگی کا کیس نہیں، یہ جنسی خلاف ورزی کا کیس ہے۔ کسی کی اجازت کے بغیر اس کی قابل اعتراض ویڈیو بنانا جنسی زیادتی کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اس شخص کو اتنی ہی سنگین سزا ملنی چاہیے۔“ایک اور صارف نے لکھا کہ ”اس شخص کو ڈگری نہیں ملنی چاہیے۔ اسے خالی ہاتھ یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں