124

کیاکسی شخص کی نمازجنازہ ایک سے زائد باراداکی جاسکتی ہے

کراچی (ویب ڈیسک) عمومی طورپر اپنے آبائی علاقے سے دور کسی دوسری جگہ انتقال کرنیوالے افراد کی اسی علاقے میں بھی ایک نماز جنازہ ہوتی ہے اور پھر  مرحوم کے آبائی علاقے میں بھی دوبارہ نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا شخص جو پہلی مرتبہ نماز جنازہ کا حصہ بن چکا  ہو، کیا وہ دوسری مرتبہ نماز جنازہ میں شریک ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اس سوال کا جواب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے دیدیا۔ روزنامہ جنگ کے توسط سے ایک شہری کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’ اگر میت کے ولی نے جنازہ کی نماز پڑھ لی یا اس کی اجازت سے پڑھائی گئی یا جس کا حق ہے اس نے جنازہ کی نماز پڑھائی تو جنازہ کی نماز ادا ہوگئی اور فرضِ کفایہ ادا ہوگیا ، اب ولی یا اوران لوگوں کے لیے دوبارہ جنازہ پڑھنا منع ہے ، کیوں کہ جنازہ کی نماز بار بار پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ اگر میت کے ولی نے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی اور نہ ہی اس کی اجازت سے جنازہ کی نماز پڑھی گئی، بلکہ ایسے لوگوں نے جنازہ کی نماز پڑھی یا پڑھائی جن کو ولایت حاصل نہیں تھی تو میت کا ولی دوبارہ جنازہ کی نماز پڑھ سکتا ہے، اور اس دوسری جماعت میں وہ لوگ بھی شریک ہوسکتے ہیں جو پہلی جماعت میں شریک نہیں تھے، اور جو لوگ پہلی جماعت میں شریک تھے ،ان کے لیے دوسری جماعت میں شریک ہونا درست نہیں۔(ہندیہ،1 / 163، الفصل الخامس فی الصلاۃ علیٰ المیت، ط، رشیدیہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں