پڑھیئے نجمہ ظہورکاکالم:گالم گلوچ کی سیاست عروج پر

آج کے دور میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ فلاں سیاست دان کے منہ سے پھول جھڑتے ہیں وہ علم و عمل کے پیکر ہیں ذہانت اورسنجیدگی ان کا شیوہ ہے تو شاید کچھ لوگ ہنس دیں کیونکہ ہمارے سیاست دانوں نے گالم گلوچ کو کلچر بنا دیا ہے ان کو لگتا ہے کہ گالم گلوچ اور واحیات الفاظ کے بغیر وہ سیاست کر ہی نہی سکتے۔گویا گالم گلوچ کا کلچر پروموٹ کرنا اب سیاست دانوں کا شیوہ بن چکا ہے۔ یہ کلچر ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسلام میں گالی دینے کے حوالے سے شرعی حکم موجود ہے۔ گالی سنگین جرم اورگناہ کبیرہ ہےاور کسی کو بھی برے نام سے پکارنے کی ممانعت ہے. لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ جھوٹ، گالم گلوچ، تعصب، بددیانتی ہر ایک کا محبوب مشغلہ ہے۔خاص کر یہ مشغلہ سیاست کا ایک مضبوط جزو بن چکا ہے۔ کچھ ایسا کام ہمارے وزیراعظم جناب فاروق حیدرصاحب نے بھی سرانجام دیا ہے۔ گذشتہ دنوں سے وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرخان کی دومختلف آڈیوکال ریکارڈنگزسوشل میڈیاپروائرل ہوگئیں جس کی وجہ سے ایک بڑابھونچال کھڑا ہو گیا ہے ۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر صاحب نے سابق وزیراعظم وصدرآزادکشمیرسردارسکندرحیات کے لیے بہت گھٹیا اور نازییا الفاظ استعمال کیےہیں اور ساتھ ہی ساتھ دوسری طرف چنددن قبل مسلم لیگ ن کی سینئرخاتون رہنمانصرت دورانی صاحبہ جنہوں نے اس جماعت کو خیربادکہہ دیاتھا ان کےبارے ایسی واحیات اور شرمناک باتیں کیں جوکسی بھی شخص کوزیب نہیں دیتی۔ جناب فاروق حیدر صاحب جو اپنے آپ کو ایک الگ ہی شخصیت سمجھتے ہیں سیاسی اصول کا پرچار، تعصب سے پاک سیاست ان کا سب سے اہم مقصد تھا لیکن کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک آڈیو ٹیپ کی صورت میں وائرل ہونے والی آڈیو سن کر لگتا ہے کہ موصوف واقعی میں ایک خاندانی تربیت ،خوبصورت پڑھی لکھی شخصیت اور سب سے بڑھ کر اتنے بڑے عہدے کے تقدس کا بھرپور مظاہرے کرنے والی شخصیت ہیں آڈیو سنے کے بعد ہر ذی شعورشخص ان کے الفاظ کا چناؤ ان کا انداز بیان اور پھر ان کے اپنے عہدے کا استعمال دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح اپنی اعلیٰ ظرفی کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے فرعونیت کے لہجے میں بات کررہے ہیں ایک چیز کی سمجھ نہی آرہی کہ یہ گالم گلوچ والا کلچر پرومٹ کہاں سے ہوالیکن جب ماضی میں نظر پڑی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اول تو یہ بیماری ورثے میں ملی اور دوسرا تب کئی جماعتیں منظم انداز میں اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھیں۔ ماضی میں ہماری سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو زچ اور امیدوار کی کردار کُشی کرنے کے لئے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتی تھیں۔ ان کی انہیں حرکتوں نے معاشرے میں ناسور کا بیج بو دیا۔ افسوس کا مقام۔یہ ہے یہ آڈیو کسی عام انسان کی نہیں ہے بلکہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم صاحب کی ہے جن کو عوام نے ووٹ دے کر یہ عزت و توقیر بخشی ہے۔عام طور پر یہ تاثر ہوتا کہ جب پڑھی لکھی قیادت آگے آتی ہے تو ان سے بہت ساری توقعات وابستہ ہوتی ہیں لیکن ان تمام توقعات کا جنازہ تب نکلا جب سنے میں یہ آیا کہ وزیراعظم صاحب کے نازبیاہ الفاظ کے جواب میں اگے سے جی سر ٹھیک ہے سر کہنے والا کوئی عام آدمی نہیں بلکہ ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص بیر سٹر افتحار گیلانی صاحب تھے۔ بہت ہی افسوس کا مقام ہے گیلانی صاحب ایک پل کہ سوچیں کہ اگر یہی الفاظ اپ کی ماں، بہن کے لیے کوئی استعمال کر رہا ہوتا تو اپ اگے سے ایسا ہی رسپنس دیتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار میں سب جائز ہے صرف کرسی ہونی چاہیے باقی میرٹ، اصول اخلاقیات جایں بہاڑ میں_ حیرت ہوتی ہے کہ ہم کن کن لوگوں کو ووٹ دے کر اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔ وزیراعطم صاحب کے اس شرمناک اقدام سے عوام نہ صرف مایوس ہوئے ہیں بلکہ دوسری طرف عام آدمی بھی یہ سوچنے پرمجبورہوگیاہے کہ عوام کے سامنے مہذب الفاظ کا استعمال کرنے والے حکمران آپس میں جب گفتگو کرتے ہیں تو وہ جائلوں کوبھی پیچھے چھوڑ دیتےہیں۔ یہ فعل انتہائی شرمناک ہے کہ اپنی غلطی کو تسیلم کرنے کے بجائےاور معافی مانگنے کی بجائے عوام۔کو یہ کہناکہ یہ میرے خلاف ایک سازش ہے۔دشمن نے چھپ کر وار کیا ہے۔ہمارے مخالفین میری شہرت سے خوفزادہ ہیں۔میرا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے ایسے اوچھے ہتکھنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔یہ سب جعلی اور فرضی ہے۔مجھے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔میں ان کے راستے میں رکاوٹ ہوں۔میری نیک نامی پہ داغ لگائے جا رہے ہیں۔کچھ لوگوں کو میرا کام ہضم نہیں ہو رہا۔واہ وزیراعظم صاحب آپ کی سوچ کو سلام ہے گھاس کوئی بھی نہیں کھا رہاہے کیا اپ اس آڈیو کو جعلی قرار دے سکتے ہیں یا پھر اس سارے واقعے سے لا تعلقی کا اظہار کر سکتے ہیں اگر بقول آپ کے یہ ایک سازش ہے اپ کہ خلاف تو ان لوگوں کے خلاف بھرپور کاروائی کریں تاکہ اگے سے کسی سفید پوش انسان کے ساتھ ایسا فعل نہ ہو۔ لیکن اگر یہ سچ ہے تو آپ کو نہ صرف معافی مانگنی چاہیے بلکہ اپنے عہدے سے بھی مستعفی ہونا چاہیے کیونکہ اب اس اہم عہدے پر رہنے کا اپ اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں