وزیراعظم آزادکشمیرکی آمدپربجلی بند کیوں کی؟محکمہ برقیات راولاکوٹ کے تین ملازم گرفتار

راولاکوٹ (محمد خورشیدبیگ) محکمہ برقیات کے تین ملازمین گرفتار ، گرفتار ملازمین میں اعجاز شاہسوار، ندیم بٹ اور محمد بشارت شامل ہیں، برقیات ملازمین کی تنظیم غیر جریدہ فنی ملازمین کے ضلعی جنرل سیکرٹری سردار داؤد خان کے مطابق ملازمین کے خلاف درج مقدمہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کی آمد پر نواحی سیاحتی مقام چھوٹا گلہ کی بجلی بند کی تھی اور اس علاقہ میں وزیراعظم رہائش پذیر تھے، سردار داؤد کا کہنا تھا کہ یہ بے بنیاد مقدمہ ہے، ملازمین نے اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کیا، البتہ محکمہ کے آفیسران ملازمین کی ہڑتال کے باعث انتقامی کارروائی کر رہے ہیں، واضح رہے کہ محکمہ کے ملازمین گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے مسلسل ہڑتال پر ہیں اور انکا مطالبہ تھا کہ اعجاز شاہسوار کی جبری برطرفی کا حکم نامہ معطل کیا جائے، ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے والے ایس سی برقیات کا تبادلہ کیا جائے اور ملازمین کی معطلیوں اور دیگر انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، دو روز قبل ہی اعجاز شاہسوار کی جبری برطرفی کے حکم نامے کو سروس ٹربیونل نے خلاف ضابطہ قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا تھا، جبکہ دیگر مطالبات تاحال پورے نہیں کئے گئے، سروس ٹربیونل کے فیصلہ کے بعد یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ایس ای برقیات نے ذاتی عناد پر ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی ہیں لیکن دیگر مطالبات پورے کرنے کی بجائے انہوں نے ایک مرتبہ پھر ملازمین کو نئے مقدمات میں گرفتار کروا کر بحرانی کیفیت کو مزید طویل کر دیا ہے، یہ بھی واضح رہے کہ یہ معاملہ ملازمین کی تنظیم محکمہ برقیات فنی ملازمین کے مرکزی صدر اعجاز شاہسوار کی گرفتاری سے شروع ہوا تھا، ایک ڈویژنل آفیسر نے رسمی گفتگو کے دوران یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ایس ای برقیات نے ملازمین اور ایس ڈی او برقیات کے مابین صلح نامہ تحریر ہونے کے باوجود جج کے ساتھ ساز باز کر کے ملازمین کی عبوری ضمانتیں منسوخ کروا کر انہیں گرفتار کروایا تھا، بعد ازاں ہڑتالی ملازمین کو گرفتار نہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر پونچھ کو کرسی چھوڑنے کا کہنے سمیت ایس ای نے کمشنر پونچھ کو تضحیک آمیز خط بھی تحریر کیا تھا. اس کے علاوہ خلاف قواعد ایک ملازم کی تقرری بھی کی گئی جسے چیف انجینئر نے ملازمین کے احتجاج کے بعد منسوخ کیا. ایس ای برقیات سے متعلق گزشتہ سال فروری میں مہتمم برقیات آپریشن ڈویژن راولاکوٹ اعلی حکام کو ایک خط بھی تحریر کر چکے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ایس ای کا ذہنی توازن درست نہیں لہٰذا انکا علاج کروایا جائے، بلات کی ترسیل کرنے والے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایس ای برقیات نے یہ ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ جہاں سو یونٹ سرف ہو وہاں ڈیڑھ سو یونٹ اور جہاں پچاس ہو وہاں سو یونٹ کا بل ارسال کیا جائے. اس کے علاوہ ایس ای برقیات مختلف موقعوں پر یہ کہتے بھی پائے گئے ہیں کہ وہ راولاکوٹ والوں کا علاج کرنے آئے ہیں انہیں ٹھیک کر کے ہی جائیں گے. برقیات کے اعلی حکام اور انتظامی افسران تمام صورتحال سے باخبر ہونے کے باوجودایک آفیسر کو بچانے کےلئے اس بحرانی کیفیت کو طول دے رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں