174

سکول کے استاد پر ریپ کا الزام لگانے والی نوجوان لڑکی کو لوگوں نے جلا دیا

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں سکول کے استاد پر جنسی زیادتی کا الزام لگانے والی نوجوان لڑکی کو لوگوں نے زندہ جلا دیا۔میل آن لائن کے مطابق نصرت جہاں رفیع نامی اس لڑکی نے دو ہفتے قبل اپنے سکول کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی درخواست دی تھی۔جنسی ہراسگی کے خلاف بولنے کی جرات کے 5 دن بعد ہی اسے تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا۔

19 سالہ نصرت کا تعلق ڈھاکا سے 160 کلومیٹر دور جنوب میں واقع ایک چھوٹے قصبے فینی سے تھا جہاں وہ ایک سکول میں پڑھتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ 27 مارچ کو سکول کے ہیڈماسٹر نے اسے اپنے دفتر میں بلایا اور متعدد بار غیر مناسب طریقے سے چھونے کی کوشش کی اور اس سے پہلے کہ وہ مزید ہراساں کرتے وہ کمرے سے باہر بھاگ گئی۔نصرت جہاں گھر والوں کی مدد سے ہیڈماسٹر کی اس حرکت کی رپورٹ کرنے پولیس کے پاس چلی گئی۔

نصرت نے مقامی پولیس سٹیشن میں اپنا بیان دیاجس کی ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس افسر نے اپنے موبائل کے ذریعے ویڈیو بنا لی، جو بعدازاں سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی۔نصرت جہاں کا تعلق ایک چھوٹے قصبے کے قدامت پسند گھرانے سے تھا اور وہ ایک سکول جاتی تھی۔ ان جیسی لڑکی کے لیے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے پر بات کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے تھے۔ متاثرہ افراد کو اکثر اپنی برادری کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ذاتی حیثیت یا آن لائن پر ہراساں کیا جاتا ہے اور بعض واقعات میں ان کو شدید حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نصرت کو یہ سب بھگتنا پڑا۔

27 مارچ کو نصرت کے پولیس کے پاس جانے کے بعد ہیڈ ماسٹر کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور نصرت کے لیے حالات اس کے بعد خراب ہوئے تھے۔ چند افراد کے ایک گروہ نے سڑکوں پر ہیڈ ماسٹر کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس احتجاج کا انتظام سکول کے دو مرد طلبا نے کیا تھا اور اس میں مقامی سیاستدان بھی مبینہ طور پر شامل ہوئے تھے۔ لوگوں نے نصرت پر مختلف الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے۔

اس سب کے باوجود 6 اپریل کو اس مبینہ جنسی حملے کے 11 روز بعد نصرت اپنے سالانہ امتحانات دینے کے لیے سکول چلی گئی جہاں مشتعل لوگوں نے پہلے اس سے اپنا کیس واپس لینے کو کہا اور پھر اس پر تیل چھڑک کر اسے آگ لگا دی، جس سے نصرت کا 80فیصد جسم جھلس گیا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال لیجایا گیا جہاں وہ چار زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد چل بسی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں