مظفرآباد،سانحہ کنڈل شاہی میں اپنی جان پرکھیل کرسیاحوں کوبچانے والا نوجوان حصول انصاف کیلئے صحافیوں کے پاس پہنچ گیا

مظفرآباد(اے جے کے نیوز)سانحہ کنڈل شاہی میں اپنی جان پر کھیل کر سیاحوں کو بچانے والا نوجوان حصول انصاف کے لیے صحافیوں کے پاس پہنچ گیا۔مختار قریشی نے صحافیوں کو بتایا کہ 13مئی 2018کو کنڈل شاہی پل ٹوٹتے وقت میں موقع پر موجود تھا۔سیاحوں کو نالے سے نکالنے کے لیے اپنی جان پر کھیل کر لوگوں کو نکالا۔میں واحد آدمی تھا جس نے سب سے زیادہ سیاحوں ،طلباء کو نالے کی موجوں سے باہر نکالا۔حکومت پاکستان نے میرے لیے 30لاکھ کا اعلان کیا تھا۔10لاکھ روپے دے گئے انعام کی بقیہ رقم اور ریسکیو نے 1122 میں نوکری تاحال نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر خان اور سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے اعلان کیا تھا کہ ریسکیو میں بھرتی کیا جائے گا مگر تاحال مجھے ریسکیو میں بھرتی نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر نے 5لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا انعامی رقم تاحال مجھے نہیں دی گئی۔حوصلہ افزائی کے بجائے ہمیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔اعلیٰ حکام نوٹس لیتے ہوئے میرے بقیہ انعامی رقم اور نوکری مجھے دی جائے تاکہ میں انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی کوشش جاری رکھ سکوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں