321

چوہدری عزیز ریاستی جھنڈی کی آڑ میں آزاد کشمیر میں گجر برادری کو بیوقوف بنا کر گجر برادری کا لیڈر بننا چاہتا ہے،فیصل ممتازراٹھور


اسلام آباد(اے جے کے نیوز)سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی فیصل ممتاز راٹھور نے وزیر حکومت چوہدری عزیز کے اس بیان کہ وہ چیف جسٹس کے ساتھ کھڑے ہیں پر اپنا موقف بیان کرتے ہوے کہا کہ چوہدری عزیز اپنی کرپشن چھپانے کیلیے کبھی خود اور کبھی ساتھی وزراء کے نام سے بے سروپابیان داغ رہا ہے چیف جسٹس کو متنازع بنایاجارہا ہے چوہدری عزیز کی بیوقوفانہ حرکت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ 49 کے ایوان میں صرف 8 ممبران سپریم کورٹ کے فیصلہ جات سے مطمئن ہیں اور 41 معترض ہیں۔ریاض اختر کیس میں اس سے زیادہ طاقتور لوگ کھڑے تھے لیکن جب قدرت انتقام لینا چاہے تو کوئی طاقتورنہیں رہتا ہمیں عدالتوں یا ججز سے کوئی ذاتی عناد نہیں لیکن ان کے متنازعہ اور غیرمنصفانہ فیصلوں پر راے کا پوراحق رکھتے ہیں۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ چیف جسٹس کو کسی برادری یاحکومتی وزرا کی حمایت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ انکی طاقت آئین اور قانون کی حکمرانی ہوتی ہے اگر معاشرے میں انصاف ہے تو ججز معتبر ہیں اگر حکومتی اور عدالتی نظام انصاف معیا کرنے سے قاصر ہو جاے تو پھر خود بخود بے توقیر ہوجاتا ہے۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ابراہیم ضیاء چیف جسٹس ہیں نہ کہ انجمن گجراں کے چیرمین یا نون لیگ کے صدر کہ گجر برادری کے وزراء کی حمایت کی ضرورت ہو۔ چوہدری عزیز نے پہلے حویلی میں برادری ازم کی لعنت پھیلا کر پر امن فضاء کو خراب کیا اور اب ریاستی جھنڈی کی آڑ میں آزاد کشمیر میں گجر برادری کو بیوقوف بنا کر گجر برادری کا لیڈر بننا چاہتا ہے۔چوہدری عزیز کا قد اتنا نہیں بڑھا کہ وہ آزاد کشمیر میں لیڈری کرتا پھرے گجر برادری کے لیڈر چوہدری لطیف اکبر ہیں اور وہ ہمارے بھی لیڈر ہیں۔کوئی بڑا سیاستدان برادری کی بنیاد بڑا نہیں ہوتا بلکہ ذاتی سوچ و کردار بڑا لیڈر بناتی ہے ازاد کشمیر میں غازی ملت؛ مجاہد اول سے لیکر ممتاز راٹھور اور صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم تک کسی نے برادیوں اور قبیلوں میں نفرت کے بیج نہیں بوے بلکہ وہ سب آپنے کردار سے بڑے بنے۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ چوہدری عزیز نے 2003 میں خود کو راجپوت کہہ کر مرحوم راجہ سبیل کے مقابلے میں سردار سکندرحیات سے وزارت لی تھی تب موصوف کی 78 ماڈل کرولہ کار میں ہر وقت ایک کتاب موجود ہوتی تھی جس میں چوہان؛ راجپوتوں کی سب کاسٹ درج تھے فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ گجر برادری ریاست کی بڑی برادری ہے سب اسکی شرافت اور اخلاق و ریاستی کردار کے معترف ہیں لیکن چوہدری عزیز سب کو بدنام کر رہا ہے انہوں نے کہا اگر برادریوں کی بنیاد وحمایت سے چیف جسٹس بنتے یاعہدوں پر براجماں رہ سکتے تو خواجہ سعید اور خواجہ شہاد کبھی چیف جسٹس نہ بن پاتے اور نہ ہی چوہدری ریاض اختر پیدل گھر جاتے۔فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ چوہدری عزیز کے ذاتی عناد و انتقام کی وجہ سے حویلی گجر برادی تو کیا گجر برادری کے آفیسران بھی یا تو کھڈے لائن ہیں یا نوکریاں چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محبوب اور نعیم قتل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر شدید تعفضات ہیں جن کو چوہدری عزیز کے بیانات مزید تقویت پہچا رہے ہیں۔ ہم آپنے اصولی موقف سے پچھے بلکل نہیں ہٹیں گے امید ہے عدالت نظرثانی میں مقتولین کے ورثا کو انصاف پہنچاے گی۔ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ چوہدری ریاض اختر کے خلاف متحرک ہونے والے راجہ فاروق حیدر خان کا ضمیر اب مر چکا ہے وہ وزراء کے ہاتھوں بلیک میل ہیں اب انہیں آئین؛ قانون؛ کرپشن؛ اقربا پروری؛ کچھ نظر نہیں آتا اب وہ اتنے بلیک میل اور مجبور ہیں کہ کوٹلی اور نکیال جانے کے باوجود اپنے محسن سردار سکندر حیات سے ملاقات نہیں کرسکے جنہوں نے فاروق حیدر خان کو سنئیر وزیر؛ وزیر اعظم اور الیکشن ہارنے کے باوجود مشیر بنایا۔انہوں نے کہا اگر محبوب اور نعیم کیس کے مجرم قاتل نہیں تو پھر سپریم کورٹ اور چیف ایگزیکٹیو فاروق حیدر بتاہیں ان کے قاتل کون ہیں ورنہ ان کا خون سپریم کورٹ اور فاروق حیدر کے سر رہے گا اورکل قیامت کواختیار کام آے گا اور نہ برادری یاحکومت قائم آے گی۔ بے گنا مقتولین کا خون کسی صورت خون رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔ جب انصاف نہیں ملے گا تو ورثا قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہونگے۔انہوں نے کہا کہ چوہدری عزیز کوکوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ راولاکوٹ بار کے معز ز ممبران پر ذاتی حملے اور گالم گلوچ کرے اختلاف راے سب کا حق ہے۔ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس فائل ہونا ایک قانونی معاملہ ہے اسکو چیرمین کشمیر کونسل نے دیکھنا ہے نون لیگ آزاد کشمیر کے وزراء سے کسی نے نہیں پوچھنا کہ اس پر کیا فیصلہ ہونا ہے اس لیے نالائق وزرا ریاست میں تعصب کی لعنت نہ پھیلائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں