227

دنیاکاوہ ملک جہاں داماداورسسرکاایک دوسرے کوسلام کرنابھی ممنوع ہے

نواکشوط(این این آئی)افریقی ملک موریطانیہ کے مختلف طبقات میں لوگ ایک عجیب وغریب سماجی روایت میں آج تک جکڑے ہوئے ہیں۔ اس روایت کے تحت داماد اور اس کے سسرکی میل ملاقات،ایک مجلس میں بیٹھنے، ایک ساتھ کھانا کھانے حتیٰ کہ سلام کرنے کو بھی ممنوع سمجھاجاتا ہے۔اگر داماد گھر پر آجائے تو اس کی بیوی کا والد منہ چھپا کر وہاں سے کھسک جاتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق موریطانیہ میں یہ روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور اگرکوئی اس کے خلاف ورزی کرتا ہے معاشرے میں اسے’بے حیا’ تصورکیا جاتا ہے۔اگرچہ اس قدیم سماجی روایت کے خلاف اب اکا دکا آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بعض لوگ داماد اور اس کے سسر کے درمیان ہونے والی ملاقات پر پابندی کو ازمنہ رفتہ کی بربریت پرمبنی روایت قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ روایت موریطانیہ میں عربوں کی آمد سے بھی پہلے کی ہے جسے قبائل نے اختیارکیا اور آج لوگ اس میں جکڑے ہوئے ہیں۔ مخالفت کے باوجود موریطانیہ میں ایک بڑا طبقہ اس روایت کو احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ روایت کے حامیوں کا کہناتھا کہ داماد اور اس کے سسر کے درمیان ملاقات سے اجتناب دراصل سسر کے احترام کا تقاضا ہے۔ یہ مناسب نہیں کہ اگر کسی محفل میں داماد موجود ہوتو سسر وہاں بیٹھے، یا دونوں ایک دوسرے کو سلام کریں، یا کوئی بات چیت کریں۔ دونوں میں سے کسی ایک کو اس مجلس سے نکل جانا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں