سعودی جیل میں برسوں سے قید پاکستانی بچوں کو رہا کرا لیا گیا

جدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4 اپریل 2019ء) پاکستان کے قونصل خانے کے جنرل ویلفیئر ونگ کی کوششوں کے نتیجے میں سعودی جیل میں بند دو بچوں 9سالہ محمد ایان ولد محمد شبیر اور 6 سالہ عبدالمنان ولد محمد شبیر کو جیل سے رہائی دلوا کر اُن کے پاکستان میں واقع آبائی شہرملتان بھجوا دیا گیا۔ مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے جدہ میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی نجیب اللہ خان دُرانی نے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی معاون برائے سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری نے اُن خبروں کا نوٹس لیا تھا جن کے مطابق سعودی جیلوں میں پاکستانی خواتین اور بچے بھی قید ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی سعودی جیلوں میں بند پاکستانی خواتین اور بچوں کے ویڈیو کلپس وائرل ہوئے تھے۔ جس کے بعد زُلفی بخاری نے اس معاملے کی چھان بین کرنے کا حکم دیا تھا اور ان قیدیوں کی رہائی کے لیے سعودی حکام سے رابطہ کرنے کا بھی کہا تھا۔

سعودی حکام سے پاکستانی عہدے داروں کی میٹنگ کے نتیجے میں تین بچوں ایان، منان اور بُشریٰ پروین کی رہائی عمل میں لائی گئی۔ان بچوں کو سعودی مملکت میں سوشل پروٹیکشن ہومز میں رکھا گیا تھا۔ یہ تینوں بچے 2016ء سے بند تھے کیونکہ ان کے والدین کو سعودی عرب میں ہیروئن کی اسمگلنگ کے جُرم میں سزا سُنائی گئی تھی۔ بُشریٰ پروین نامی 8سالہ بچہ کو چند روز قبل ہی اُس کی خالہ فاطمہ اعجاز کے ساتھ پاکستان بھجوا دیا گیا ہے جو اُسے لینے کی خاطر مملکت آئی تھی۔ ایان اور منان نامی دونوں بچوں کی رہائی اور وطن واپسی کے حوالے سے تمام تر اخرجات جدہ میں واقع پاکستانی قونصل خانے نے اُٹھائے۔دُرانی نے سعودی مملکت میں عمرہ کی غرض سے آنے والے تمام پاکستانیوں کو تاکید کی کہ وہ مملکت کی روایات اور قوانین کی مکمل پاس داری کریں۔ سعودی عرب میں منشیات کی منتقلی کے حوالے سے قوانین انتہائی سخت ہیں۔ دُرانی کی جانب سے اس معاملے میں قونصل جنرل شہریار اکبر خان اور دیگر سفارتی عملے کے بھرپور تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا گیا۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں