145

خواتین کو ریپ کا نشانہ بنانے والوں کو مردانگی سے محروم کرنے پر غور

روم(مانیٹرنگ ڈیسک) مختلف ممالک کے قوانین میں جنسی زیادتی کی مختلف سزا مقرر کی گئی ہے اور اب اٹلی میں اس قبیح جرم کی ایسی سزا رائج کرنے پر غور کیا جا رہا ہے کہ سن کر کوئی مرد کسی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات بھی نہیں کرے گا۔ ڈیلی سٹار کے مطابق اٹلی کی حکومت جنسی زیادتی کے ملزموں کو ’خصی‘ کردینے کی سزا تجویز کر رہی ہے اور اس کو قانونی شکل دینے کے لیے غوروخوض کیا جا رہا ہے۔

اٹلی کے وزیرداخلہ میٹیو سیلوینی نے ابتدائی طور پر جنسی زیادتی کے مجرموں کو یہ سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے یہ تجویز ان تین مردوں کو سزا دینے کے لیے دی تھی جنہوں نے ایک امریکی لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے بعد ان کی پارٹی نے بھی اس تجویز کی حمایت کر دی تاہم پارٹی کی طرف سے کہا گیا کہ ”جنسی زیادتی کے سنگین نوعیت کے واقعات میں مجرموں کو یہ سزا دی جائے گی اور وہ بھی ان مجرموں کو جو خود یہ سزا لینے پر رضامند ہوں گے۔“اس وقت اٹلی میں اتحادی حکومت قائم ہے اور کئی دیگر اتحادی جماعتیں حکومتی جماعت کی اس تجویز سے متفق نظر نہیں آ رہیں اور اس معاملے پر ان کے مابین کافی تلخی پیدا ہو چکی ہے۔

حکومت کی بڑی اتحادی جماعت ’فائیو سٹار‘ اور اس کی خاتون رکن اسمبلی ویرونیکا گیانونے کی طرف سے بھی اس تجویز کی مخالفت کی گئی ہے۔ ویرونیکا کا کہنا تھا کہ ”کسی مجرم سے یہ کہنا ہی مذاق ہو گا کہ ہم آپ کو ’نامرد‘ کرنا چاہتے ہیں، کیا تم اس پر رضامند ہو؟جنسی زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانا انہیں سزا دینے کا کوئی درست طریقہ نہیں ہے۔ اس کے لیے انہیں جیل کی سزا ہی دینی چاہیے۔“رپورٹ کے مطابق اگر حکومت اس تجویز کو قانون بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو مختلف کیمیکلز کے ذریعے مردوں کو نامرد بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں