پڑھیئے راجہ محمد زبیر بھٹی کی تحریر:سانحہ دھمول کا سبق

غلطیاں کرنا حضرت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ہر باشعور شخص دورانِ عمل لازماً غلطی کرتا ہے اور ایسا کبھی جان بوجھ کر نہیں کیا جاتا،بس یہ ہوہی جاتا ہے۔ اصحاب ذی فہم و شعور اور روشن دماغ معاشرے اپنے ارد گرد ہونے والی غلطیوں،حادثات،آفات اور ان سے ہونے والے نقصانات پر غوروفکر اور تحقیق کر کے مستقبل میں انہیں دوہرائے جانے سے روکنے کی تدابیر کرتے ہیں۔ضلع کوٹلی کے نواحی گاؤں دھمول میں 18فروری2019کو ایک دلخراش وقوعہ رونما ہوا جس میں بڑے بھائی نے پہلے چھوٹے بھائی کو اور بعد میں خود کو گولی مارکر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔اس طرح دو بیش قدر افراد کوجن کی زندگی اپنے بھر پور جوبن پر اوربہاروں سے مزئین تھی،چند سیکنڈوں میں موت نے اپنے گھپ اندھیروں میں غائب کر دیا۔اس سانحے میں دو سہاگنیں بیوہ،ایک سے لے کر سات سال تک کی عمر کے سات معصوم بچے یتیم اور بد قسمت والدین بڑھاپے میں اپنے انوار نظر سے محروم ہوئے۔دونوں بھائی معاشرے کو اپنی بہترین خدمات فراہم کر رہے تھے اس لیے یہ ایک اجتماعی سماجی نقصان کا بھی باعث بنا۔آج چار ہفتے گزر جانے کے باوجود مرحومین کے لواحقین تو کیا اہل محلہ بھی ابھی تک سکتے میں ہیں۔لوگوں کو ابھی تک یقین ہی نہیں آرہا کہ ایسا ہوبھی سکتا ہے ۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ اس اندوہناک حادثے کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آ سکی۔مختلف لوگوں نے اپنے علم و تجربے ،فہم و فراست اور حاصل شدہ معلومات کے مطابق کوئی نہ کوئی وجہ اخذ کر کے خود کو مطمئن کر لیا۔ کسی نے سمجھا کہ یہ گھر کے اندر خواتین کے لڑائی جھگڑے کا نتیجہ ہے،کسی نے کہا کہ کاروباری معاملات میں اختلافات اس کی بنیاد ہیں، کچھ نے جائیداد کا تنازعہ خیال کیا جبکہ جو لوگ مرحومین کو گھر تک جانتے تھے انہوں نے اسے تقدیر کا لکھا کہہ کر بات ختم کر دی۔
دھمول کا قیامت خیز واقعہ خادم مغل نامی ایک صاحب کے گھر میں پیش آیا۔خادم صاحب یہاں اپنے خاندان کے دیگر گھرانوں سے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔ ان کا اپنا مصالحوں کا کاروبار ہے۔ان کے تین بیٹے ،بڑا شفاعت،درمیانہ فیضان اور سب سے چھوٹا توقیر تھے۔تینوں بھائی پڑھے لکھے تھے۔شفاعت آٹھ دس سال پہلے دوبئی گیا اور محنت مزدوری کر کے کچھ پیسے جمع کر لایا۔اس نے واپس آکر شہر میں کپڑے کا کاروبار شروع کیا۔خوش بختی سے کاروبار اچھا چل پڑا۔فیضان اپنے والد کے ساتھ کام کرتا تھا۔جب کپڑے کا کام بڑھ گیا تو شفاعت نے اسے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔چھوٹے نے ہوش سنبھالا تو وہ بھی اسی دکان میں کام کرنے لگا۔تینوں کی عمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا اس لیے وہ ایک دوسرے سے بے تکلف تھے۔ان کا ایک دوسرے کے ساتھ سلوک کو دیکھ کر کوئی یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ بھائی ہیں یا دوست ہیں۔ وہ ہنس مکھ ،حلیم الطبع اور تحمل مزاجی سے متصف تھے۔ان کے کاروبار کی کامیابی کے پیچھے ان کی تحمل مزاجی،بردباری، خوش اخلاقی اور احسن رویّہ ہی تھا ۔بد مزج ،کھردرا اور تلخ بندہ ایسا کامیاب کاروبار نہیں کر سکتا جس کا بازار میں حریفوں کے ساتھ سخت مقابلہ ہو۔
بزنس میں سب بھائیوں کا حصہ طے شدہ تھا اس لیے اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ساری سرمایہ کاری بڑے بھائی کی تھی اسے اگر کسی سے اختلاف ہوتا تو وہ لڑائی جھگڑے کی بجائے اسے کاروبار سے الگ کر سکتا تھا۔تینوں میں سے کوئی لالچی یا حریص نہیں تھا۔سب ایک دوسرے کے لیے جان چھڑکتے تھے،ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے،والدین کا بے حد احترام کرتے تھے،ان کی خدمت کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے۔اتنی حساس اور فرمانبردار اولاد مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے جو والدین کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ کر رہ جائے۔ویسے تو سب ہی اپنے اپنے فرائض میں اتنے محو رہتے تھے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کے مواقع کم ہی میسر ہوتے تھے لیکن جب بھی موقع ملتا وہ اپنے والد کے ساتھ اپنے مستقبل کے خوابوں کے بارے میں منصوبہ بندیوں پر بات کرتے تھے۔ خود خادم صاحب بھی ایک ذمہ دار اور جہاندیدہ والد تھے۔وہ جانتے تھے کہ اگر اس نظام میں کوئی خرابی ہو گی تو کہاں سے ہو گی۔انہوں نے تینوں بیٹوں کو الگ الگ اور مکمل خود مختار گھر دے رکھے تھے۔ہر بندہ اپنے ذاتی خلوت کدے میں رہتا تھا۔اپنا پکانا ،اپنا کھانااور اپنی آزاد مرضی سے سونا جاگنا۔تین بھائیوں کے گیارہ بچے تھے جو دادا دادی کی نگرانی میں رہتے تھے۔سب بچوں کا یکساں خیال رکھا جاتا تھا۔یہاں بھی تلخی کا کوئی امکان نہیں تھا۔شفاعت کا مکان تکمیل کے آخری مراحل میں تھا ۔وہ بڑی محنت اور توجہ سے اپنا مکان بنا رہا تھا۔دن میں کئی کئی بار آکر اسے دیکھتا تھا،ماہرین اور داستوں کے ساتھ صلاح مشورے کرتاتھا۔کسی سے ٹائیلوں پر بات ہوتی،کسی سے دروازے کھڑکیوں پر تو کسی کے ساتھ فرنیچر پر مشورہ ہوتا۔بھائیوں نے طے کر رکھا تھا کہ پہلے بڑے کا مکان بنے گا پھر سب سے چھوٹے کا اور فیضان کا اس کے بعد۔ وہ مکان ضرور بنا رہے تھے لیکن رہنا اپنے والدین کے ساتھ ہی چاہتے تھے۔کوئی بھی انہیں چھوڑ کر جانے پر تیار نہیں تھا۔تینون کی بیویاں مہذب گھرانوں سے اور تعلیم یافتہ تھیں۔اجتماعی طور پریہ سارا گھرانہ ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا تھا۔کہیں دکھ،درداور تلخی وغیرہ کا گزر تک نہیں تھا۔ہوس،جلن اورحسد وغیرہ جیسے جذبات و احساسات ہمیشہ غریب،بھوکے ننگے اور ذہنی پستی والے لوگوں میں زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ گھرانہ ان سب بیماریوں سے پاک تھا۔سب لوگ محنت کرتے تھے اور یکساں ترقی کر رہے تھے۔اتنی خوشحالی دیکھ کر بعض لوگ یہ گمان بھی کرتے ہیں کہ اس گھر کو ضرورکسی کی نظر لگ گئی ہے۔
شفاعت جس کے ہاتھوں یہ جگر پاش حادثہ ہوا ہے چھوٹے بھائیوں کا ایک بزرگ کی طرح خیال رکھتا تھا۔اسے ا پنے معاملات کی اتنی فکر نہیں ہوتی تھی جتنی چھوٹوں کے بارے میں ہوتی تھی۔ان کے درمیان تلخی تو کیا کبھی اختلاف رائے تک نہیں ہوا۔ایسا کبھی شنید میں نہیں آیا کہ ان کے درمیان کوئی تفاوتِ رائے ہوا ہو اور ان کے والدین کو اسے دور کرنا پڑا ہو۔شفاعت کا اپنے کاروبار کو فیضان کا نام دینا اس کے بھائی سے پیار کا ایک زندہ نمونہ ہے ورنہ وہ کاروبار کو اپنے یا اپنے کسی بچے کے نام پر بھی کر سکتا تھا۔اس کے پاس زندگی گزارنے کے لیے بڑے بڑے اور سنہری خواب تھے۔دوسرے دونوں کی طرح شفاعت بھی ایک خوبصور ت ،خوبصیرت اور ذہنی ہم آہنگ، خیال رکھنے والی شریکہ حیات،پیارے پیارے بچے،خدا کا سایا والدین،کاروبار،گھر،گاڑی ،سب سے بڑی دولت اچھی صحت، زندگی جینے کی بھر پور امنگ،غرض کہ ہر مثبت چیز موجود تھی۔تو پھر اس نے ایسا کیوں کیا؟ ایک بندہ جس کے پاس جینے کا ہرسامان وامکان موجود ہو وہ موت کے بارے میں کیوں سوچے گا؟ یہ سوال یہاں جنم لیتے ہیں۔
ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے سے ماضی واپس تو نہیں آ سکتا تاہم دوسروں کو ایسے حادثات سے بچانے کی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے۔دھمول کے اس واقع کا آغاز اسی شام کو اس وقت ہوا جب تینوں بھائیوں نے دکان بند کی اور حسبِ معمول اپنی گاڑی میں گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ان کا ایک ملازم بھی ان کے ہمراہ تھا۔تینوں نے اپنی اپنی بیویوں اور والدین سے پوچھا کہ ان کے لیے کیا کیا لانا ہے۔فیضان نے کہا کہ آج کام کا زیادہ دباؤ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ کافی تھک گیا ہے۔اس نے شفاعت سے کہا کہ وہ آج کل دکان پر کم وقت دے رہا ہے جس سے مشکلات ہوتی ہیں۔یہ باتیں فیضان نے غصے یا شکائت کی صورت میں نہیں بلکہ ویسے ہی کیں۔ اس پر شفاعت اچانک بھڑک اٹھااور گالیاں دینی شروع کر دیں۔اس پر توقیر نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ بھائی جان آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔اس پر شفاعت نے اسے بھی برا بھلا کہتے ہوئے گاڑی سے اتار دیا۔راستے میں بھی دونوں بھائیوں کے درمیان تکرار جاری رہی۔شفاعت ایسے لب و لہجے میں بات کر رہا تھا جیسے اس سے پہلے اس نے کبھی نہیں کی تھی۔اس کا طرزعمل اس کی شخصیت کے بالکل اُلٹ تھا۔انہوں نے ملازم کو راستے میں اتارا اور گھر کی طرف چل دیے۔اس دوران ان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی اس کا کسی کو علم نہیں۔گاڑی گھر کے گیراج میں پہنچی تو شفاعت نے اترتے ہی فیضان پر وہاں پڑے بیلچے سے حملہ کر دیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔اس کے بعد وہ گھر کے اندر گیا اور پستول لے آیا۔اسی دوران توقیر بھی وہاں پہنچ گیاتھا۔شفاعت نے فیضان کو سر میں گولی مار دی۔اس نے توقیر پر بھی فائر کیا لیکن وہ بچ گیا اور اس نے ایک دکان کے اندر گھس کر شٹر بند کر لیا۔شفاعت نے سمجھا کہ اسے بھی گولی لگ گئی ہے۔اتنے میں ان کے والدین بھی موقع پر پہنچ گئے۔شفاعت نے کہا کہ اس نے دو کو مار دیا ہے اور اب تیسرا بھی جا رہا ہے۔ والدین نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن جب تک وہ اس کے پاس پہنچتے اس نے اپنے سر میں گولی مار دی۔اس طرح دو قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں علمِ نفسیات کی کوئی تعلیم ہے نہ تربیت۔باشعور سماج اپنے لوگوں کو دیگر علوم کے ساتھ ساتھ نفسیات کی تعلیم و تربیت بھی دیتے ہیں۔انہیں جہاں پر ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ ماہرین کے ذریعے عوام کی کونسلنگ کر کے مسائل کو حل یا کم کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتاجس کی وجہ سے بعض اوقات بڑے بڑے نقصان ہو جاتے ہیں۔انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لین دین اور میل جول میں نفسیات کا اہم کردار ہوتا ہے۔اس علم کی مدد سے ہم ایک دوسرے کی طبیعت کو سمجھتے ہوئے معاملات کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کے ہر گھر کی ترتیب خادم مغل صاحب کے گھرانے کی طرح کی ہے۔ہر گھر میں بہت سے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کے طرزِفکر و عمل سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ نوکریوں اور کاموں پر اکٹھے رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے واقف ہوتے ہیں۔یہ افراد ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر ہی بہت سی باتوں کا درست اندازہ کر سکتے ہیں۔ایسے میں اگر کوئی بندہ خلاف معمول بات یا حرکت کرے تو سننے والے کو فوراً اندازہ ہوجانا چاہیے کہ یہ تو اس بندے کے مزاج کے خلاف ہے۔مثال کے طور پر کسی گھرانے کا کوئی فرد کیسے بھی حالا ت میں گھر میں مار پیٹ نہیں کرتا لیکن کسی روز وہ اچانک کسی کو بے رحمی سے پیٹنا شروع کر دے ،کوئی چالیس سال کا آدمی جو گالی گلوچ تو کیا غیر مہذب الفاظ سے بھی اجتناب کرتا ہو اور وہ کسی وقت سر عام گندی گندی گالیاں دینا شروع کر دے تو دیکھنے وا لوں کو علم ہو جانا چاہیے کہ بندہ غصے میں نہیں وحشت میں مبتلا ہے۔انسان کا دماغ بڑی پیچیدہ چیز ہے ۔یہ کسی بھی وقت کسی خلل کا شکار ہو سکتا ہے۔جو بندہ کسی گڑ بڑ کی لپیٹ میں آجاتا ہے اسے خود خبر نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے لیکن اس کے ارد گرد کو لوگ محسوس کر سکتے ہیں۔دماغ میں خلل کے عارضے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر خلل کے پیچھے کوئی وجہ ہو۔انسانوں سمیت ہر جاندار چیز کا دماغ کسی بیرونی وجہ کے بغیر بھی کسی وقت گڑ بڑ کر سکتا ہے۔دماغ کی خرابی کو(ASD) acute stress disorder کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان کا دماغ اچاننک اپنا عمومی کام چھوڑ جاتا ہے۔وہ یا تو بے حس ہو جاتا ہے یا تخریب پر اتر آتا ہے۔اس حالت میں مبتلا شخص یہ صرف ؂ خودبلکہ اس کے ارد گرد موجود ہربندہ شدید خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔ایسا آدمی کسی چیز کو بھی مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔اگر وہاں موجود لوگ صورت حال کا درست اندازہ کر لیں تو وہ مریض کی مدد کر کے اس سمیت سب کو بچا سکتے ہیں۔
سانحہ دھمول کا سبق یہی ہے کہ ہم ان لوگوں پرپر نظر رکھیں جن کے ساتھ ہمارا مستقل واسطہ رہتا ہے۔اگر کسی وقت ہمیں محسوس ہو کہ سامنے والا اپنے عمومی رویّے ،مزاج اورعادات کے خلاف کوئی بات یا عمل کر رہا ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے رک کر سوچیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ماہرین عام طور پر ایسے غیر متوقع حالات کے لیے STARکا فارمولہ اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔یہاں Sسے مراد stopہے، یعنی کو کچھ ہو رہا ہے اسے یکدم روک دیا جائے،T سے thinkیعنی سوچیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے،Aکا مطلب ہے analyseیعنی تجزیہ کریں کہ ایسا ہونا چاہیے یا نہیں اور Rسے respondکریں یعنی حالات میں بہتری کے لیے دخل اندازی کریں۔دماغ میں خلل سے آدمی صرف جارحیت ہی نہیں اختیار کرتا بلکہ خاموش اور الگ تھلگ بھی ہو سکتا ہے مثلاً کسی بندے کو بہت زیادہ بولنے کی عادت ہے اور وہ اچانک خاموش ہو جاتا ہے،کوئی اپنے روز مرہ کے معمول کے خلاف سب کچھ چھوڑ کرکسی ایک ہی معاملے میں مکمل مشغول ہو جاتا ہے،کوئی مذہبی ہو جاتا ہے؛یہاں تک کہ اگر کوئی بندہ معمول سے زیادہ سونا یا جاگنا شروع کر دے تو اس پربھی سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس بیماری کے لیے عمر کی بھی کوئی قید نہیں اس لیے نہ صرف بڑوں پر بلکہ ہر عمر کے بچوں پربھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم لوگ تھوڑی سی توجہ دے کر بڑے بڑے حادثات کو ٹال سکتے ہیں یا ان سے ہونے والے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ہم اپنے پیاروں کی مدد اور حفاظت کر سکتے ہیں۔معاشرتی سطح پر عوام کو ایک دوسرے کی نفسیات سمجھنے سمجھانے کے لیے لٹریچر فراہم کیا جا سکتا ہے ان کو مختلف قسم کی تربیتیں دی جا سکتی ہیں،نصاب تعلیم میں اس موضوع پر مضامین شامل کیے جا سکتے ہیں تا کہ لوگ ایک خوش و خرم اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں