843

ساجدنوابی کے انٹرویونے بھونچال کھڑاکردیا،ڈی آئی جی میرپوراورایس پی کوٹلی سے سوالات اورانکشافات کی بھرمار

کوٹلی(اے جے کے نیوز)ہربدلتے دن کے ساتھ ناڑمتیال لیدرجیکٹس کیس میں نئے نئے انکشافات بھونچال کھڑاکرتے جارہے ہیں۔مشتاق نوابی کے بیٹے حافظ ساجدنوابی کے انٹرویونے تہلکہ مچادیا۔ڈی آئی جی میرپورڈویژن اورایس ایس پی ضلع کوٹلی سے سوالات کی بوچھاڑکردی۔نئے سوالات نے عوام کوبہت کچھ سوچنے پرمجبورکردیا۔ایس پی قرآن اٹھاکرہمارے اوپرلگائے گئے جرائم کامیڈیاکے سامنے اقرارکریں توخداکی قسم اپنے آپ کوپھانسی کاپھندہ لگادونگا۔ایس پی کااپنے بیانات میں تضادخودانکے موقف کوکمزورکرتاہے۔ہماری خواتین پربغیرلیڈیزپولیس کے تشددکیاگیااس ظلم کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ان خیالات کااظہارحافظ ساجدنوابی نے اپنی جاری کردہ ویڈیومیں کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم انصاف کی اپیل کیس کے خاتمے کیلئے نہیں کررہے بلکہ تفتیش اورغیرجانبدارانہ انکوائری کیلئے کررہے ہیں۔ہم انصاف کی اپیل تفتیش اورغیرجانبدارانہ انکوائری کیلئے کررہے ہیں۔اگرکوئی کیس بنایاہے توہم کیس کے خاتمے کیلئے نہیں کہہ رہے۔انکوائری کیلئے کہناہماراحق ہے۔ڈی جی آئی میرپورڈویژن نے پریس کانفرنس میں کہاکہ میں ایس ایس پی ضلع کوٹلی راجہ عرفان سلیم کی تفتیش سے سوفیصدمطمئن ہوں۔یہ آزادکشمیرکے اچھے آفیسر۔انہوں نے کہاکہ عرفان سلیم کی دیانتداری سے پولیس زیادہ واقف ہے مگرآپ اپنے افسرکی درست کارکردگی بارے اظہارنہیں کرناچاہتے ہیں مگرضلع کوٹلی کی عوام کوپتہ چل چکاہے، عرفان سلیم قطعاًدیانتدارنہیں ہیں۔ڈی آئی جی نے کہاکہ اخبارات آخری مرحلہ ہیں۔جناب ڈی آئی جی صاحب،جب کوئی شنوائی نہیں ہوتی توعوام سے رابطہ کرنے کیلئے میڈیاکاسہارالیناپڑتاہے۔ہم اللہ پاک اورنبی کریمﷺ کی قسم کھاکرکہتے ہیں ہمارااس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے اگرہم جھوٹ بولیں توبروزقیامت ہماری اشکال خنزیرجیسی ہوں۔3 نومبرکوانہوں نے ہمارے گھرچھاپہ ماراتوہمیں پتہ چلاکہ ہمارے اوپریہ کیس ہے۔ہم 8 نومبرکو آئی جی شعیب دستگریرکے سامنے پیش ہوئے۔ہم نے درخواست دی تھی۔انہوں نے درخواست مارک کرکے ڈی آئی جی یٰسین قریشی کے پاس ہمیں بھیجا۔عرفان سلیم اتنے بااثرآدمی ہیں کہ آئی جی کی درخواسست کوبھی عملدرآمدنہیں ہونے دیا۔عرفان سلیم کاپانچ کروڑکامکان،پچاس لاکھ کی گاڑی برطانیہ میں پراپرٹی، آج تک کسی نے نہیں پوچھا،یہ سب کہاں سے آیا۔میں ڈی آئی جی میرپورڈویژن سے کچھ سوالات کرناچاہتاہوں اورفیصلہ عوام کی عدالت پرچھوڑتاہوں۔ڈی آئی جی کہتے ہیں کہ کوئی آفسراگرایف آئی آردرج نہیں کرتاتواس کوسسپنڈکیاجائیگاجب کہ مجھ پر28 مئی 2018 کوقاتلانہ حملہ ہواجسکی ایف آئی آر18 جولائی 2018 درج کی گئی ایس اسی پی کے آرڈرپراتنے دن درج نہیں ہوئی نہ کوئی کارروائی ہوئی۔اس پرآپ کیاایکشن لینگے؟دوسراسوال پولیس کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرکوئی گواہ ثبوت ہوتوصرف کسی کے الزام لگانے پرپولیس افیسران پرایکشن نہیں لینگے۔آپ نے کہاچارملزمان کیخلاف ایف آئی آردرج ہوئی جن میں عطاالرحمن،حافظ منصورسلطانی،حبیب شاہ،سراج شاہ کاانکشاف کیاآپ کے بقول یہ دبئی فرارتھے اگرحبیب اورسراج شاہ گرفتارہی نہیں ہوئے تومشتاق نوابی کانام کیسے آیا؟پھر22 اکتوبرکی پریس کانفرنس میں ساجدنوابی اورامجدنوابی کانام شامل نہیں تھابعدمیں کیسے آیا؟3 مارچ کوپریس کانفرنس ہوئی جس میں آپ نے کہاتھاکہ تفتیش پرپتہ چلاکہ ناڑمتیال کیس میں حافظ منصورسلطانی کے ساتھ مشتاق نوابی،ساجدنوابی اورامجدنوابی شامل ہیں اگرحبیب شاہ،سراج شاہ منصورسلطانی گرفتارہی نہیں ہوئے توتفتیش آگے کیسی چلی۔3 نومبر2018 جب ریڈکیاگیاتوڈی ایس پی خواجہ قیوم کے ہمراہ نفری ایس ایچ اوسہیل یوسف،زوہیب طاہروغیرہ ساجدنوابی سے ملاقات کی اگرساجدنوابی مجرم تھے توان کوگرفتارکیوں نہیں کیاگیا؟24 دسمبر2018 کوٹلی آپ کے آفس میں مشتاق نوابی،ساجدنوابی ہمراہ راجہ عباس آئے تھے جہاں ڈی ایس پی خواجہ عبدالقیوم ،ایس ایچ اوطاہرایوب،سہیل یوسف موجودتھے اگرساجدنوابی مجرم تھے توان کے گرفتارکیوں نہیں کیاگیا؟پھرچاردن بعدجب مشتاق نوابی کی ضمانت کینسل ہوئی توریڈساجدنوابی کے گھرکیوں کیاگیا؟جبکہ وہ ضمانت کینسل ہونے سے قبل مجرم نہیں تھابعدمیں وہ کیسے ملوث ہوا؟28 دسمبرکوجب ریڈکیاگیاتوساجدنوابی کی بیوی،آٹھ ماہ کی بچی،تین سالہ کی بچی،بہن پرتشددکیاگیااوربغیرلیڈی پولیس کے کیس کس قانون کے تحت لایاگیا؟28 دسمبرکوڈیرہ نواب خان پرریڈکرکے عورتوں پرجوتشددکیاگیاجس کی ویڈیوکلپ بھی وائرل ہوئی وہاں کوئی لیڈی پولیس نظرنہیں آئی ایس پی راجہ عرفان سلیم کے بیان کے مطابق وہاں لیڈی پولیس موجودتھی۔17 جنوری2019 کی پریس کانفرنس میں آپ نے کہاتھامشتاق نوابی کوپنڈی سے شہزادخان اوربادشاہ خان کیساتھ گرفتارکیا۔12 مارچ 2019 کودوران پریس کانفرنس آپ نے کہاکہ میرپورسے مشتاق نوابی کوگرفتارکیااوراسی شام آپ نے ایک ویب نیوزکے پیچ پرکمنٹ کیاکہ راجہ مشتاق نوابی نے خودگرفتاری دی؟اس کی حقیقت کیاہے؟17 جنوری2019 کودوران پریس کانفرنس آپ نے کہاکہ شہزادخان ،مشتاق نوابی کوپندرہ سال سے ہیروئن سمگل کررہاتھاجبکہ 12 مارچ2019 کوپریس کانفرس میں آپ نے اظہارکیاکہ آٹھ سال سے سمگلنگ کررہاتھا۔اسکی حقیقت کیاہے؟میں ڈی آئی جی میرپورڈویژن سے سوال کرتاہون خۃ خواتین پرہونے والے تشددپرایکشن کیوں نہ لیاگیا؟کیاجوبھی مجرم پکڑے گئے ہیں انکااورمشتاق نوابی کاکسی قسم کافون پرکوئی رابطہ یاپیسہ کالین دین جویہ ظاہرکرے کہ ان مجرموں کامشتاق نوابی کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ڈی آئی جی صاحب آپ کے بقول آزادکشمیرکے مایہ نازآفیسرکے بیانات میں خودتضادات کیوں ہیں؟ساجدنوابی نے مزیدکہاکہاگرراجہ عرفان سلیم میڈیاکے سامنے قرآن پاک اٹھاکرکہہ دے کہ ہمارے اوپرجوکیس بنایاہے تومیں ساجدنوابی وعدہ کرتاہوں کہ عوام کے سامنے خودکوپھانسی لگادونگا۔آئی جی آزادکشمیراورڈی آئی میرپورڈویژن آپ اس معاملے کوسنجیدہ نہیں لے رہے خداراہ اس معاملے کی نزاکت کوسمجھیں۔غیرجانبدارانہ انکوائری کرکے اگرہم مجرم ثابت ہوتے ہیں توپھرآپ ایس ایس پی صاحب کوایک نہیں ہزاروں سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ہم وزیراعظم پاکستان عمران خان،صدرپاکستان عارف علوی،وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرخان،صدرآزادکشمیر،چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزادکشمیر،آئی جی پولیس آزادکشمیرسے پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ غیرجانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں