349

آزادکشمیرکے مشہورقتل کیس میں ملزم کوشک کافائدہ دیکربری کردیاگیا

مظفرآباد(اے جے کے نیوز) سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے حویلی کہوٹہ کے مشہور مقدمہ قتل سرکار بنام عبدالقیوم ،شبیر ، وسیم وغیرہ میں ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے ۔ فیصلہ گزشتہ روز سنایا گیا‘ تفصیلات کے مطابق عدالت العظمیٰ نے مقدمہ عنوانی بالا میں گزشتہ روز تاریخ ساز فیصلہ دیتے ہوئے ملزمان کو باعزت بری کردیا ہے ۔ ملزمان متذکرہ کو اندھے قتل میں ایف آئی آر سال 2013میں زیر دفعہ 302قتل کے مقدمہ میں ملوث کیا گیا تھا۔ ملزمان سال 2013سے تا فیصلہ عدالت العظمیٰ پولیس کے زیر حراست رہے اور پولیس کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے جن کے خلاف کوئی ٹھوس شہادت بھی موجود نہ تھی ۔ باوجود اس کے سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے ‘ جھوٹے مقدمے میں ملوث رکھا گیا جن کے خلاف ضلعی فوجداری عدالت کہوٹہ حویلی نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان عبدالقیوم و شبیر کو عمر قید کی سزا جبکہ ملزم وسیم احمد کو 14سال قید بامشقت سزادی ۔ شریعت اپیلنٹ بینچ نے فیصلہ عدالت ماتحت کو بحال رکھا جبکہ سپریم کورٹ نے ملزمان کی اپیل منظور کرتے ہوئے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام ملزمان کو باعزت بری کرنے کا حکم صادر فرمایا اور انسپکٹر جنرل پولیس و چیف سیکرٹری کو حکم دیا کہ وہ دیانت دار پولیس آفیسران کی ایک تفتیشی ٹیم جو ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس رینک سے کم نہ ہوں تشکیل دیتے ہوئے خود معاملے کی سربراہی کرتے ہوئے ذمہ داران تفتیشی آفیسران جنہوں نے مقدمہ ہذا کی بدنیتی پر تفتیش کی ہے ‘ کو سروس سے معطل کرتے ہوئے ضابطہ جاتی کارروائی کریں اور کی گئی کارروائی سے اندر 3ماہ عدالت العظمیٰ کو آگاہ کریں ۔ سپریم کورٹ نے قبل ازیں بھی متعدد فیصلہ جات میں شفاف تفتیش اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیئے ۔ اب کی بار سپریم کورٹ نے ریاست کے دو بڑے ذمہ داران چیف سیکرٹری ، انسپکٹر جنرل پولیس کو کارروائی کا حکم دیا ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نہ صرف رول آف لاء کا بول بالا ہوگا بلکہ جرائم کی روک تھام اور شفاف تفتیش بھی ہوگی ۔ مقدمہ میں ملزمان کی پیروی چوہدری غلام نبی ایڈووکیٹ اور بیرسٹر ہمایوں ایڈووکیٹ نے کی جبکہ سرکارکی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اور مستغیث مقدمہ کی جانب سے راجہ عارف راٹھور ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں