201

ناڑمتیال کیس کوغلام فریدکی ضمانت منظوری نے مشکوک بنادیا،ڈیرہ نواب خان کے موقف کی پذیرائی

کوٹلی(اے جے کے نیوز)غلام فرید کی ضمانت منظوری نے ناڑ متیال کیس کو مزید کشکوک بنا دیا۔،،ناڑ متیال کیس میں بڑا ڈنٹ،،ڈیرہ نواب خان کے موقف کی پزیرائی۔پولیس دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کے لیے سرگرم ہوگئی۔ عالمی منشیات سکنڈل کے مبینہ اہم کردار غلام فرید کی ضمانت منظور ہوگئی۔استغاثہ کے نامزد ملزمان عطارحمان سراج شاہ حبیب شاہ اور غلام فرید کے خلاف بائیس اکتوبرکو ناڑ تھانے میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ملزم کی طرف سے مرزا افتخار بیگ نے پیروی کی جبکہ استغاثہ کی طرف سے سلیم منہاس پیش ہوئے۔تفصیلات کے مطابق مشہور زمانہ منشیات سکنڈل کے مبینہ ابتدائی اوراہم کردار غلام فرید کی ضمانت بعد از گرفتاری ایڈیشنل سیشن کورٹ نے منظور کر لی ہے.ملزم 
22۔10۔ 2018 کو گرفتار ہوا۔ملزم کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہc9 کے مقدمہ کو ایس ایچ او لیول کا افیسر ہی ڈیل کرسکتا تھا جبکہ اس کیس کی تفتیش نیچلے درجے کے ملازم سے کروائی گئی اور چھاپے سے قبل مجاز عدالت سے سرچ وارنٹ بھی لینا ضروری تھا پولیس نے ایف آئی آر میں آٹھ سوگرام کی برآمدگی ظاہر کی اور b9کے بجاے c9 لگا دیا۔ملزم کا اس منشیات سکنڈل سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہے۔وکیل صفائی نے مزید کہا کہ بمطابق پولیس ریکارڈ پانچ کلو میٹر دور رونماء ہونے والے وقوع کی اطلاع پولیس کوشام پانچ بجے موصول ہوتی ہے درج شدہ ایف آئی آر کا وقت بھی پانچ بجے ہے پولیس کے پاس کون سا جادو تھا جس کی مدد سے وہ ایک ہی وقت میں پانچ کلومیٹر دور وقوع پر بھی پہنچتی ہے اور ٹھیک اسی وقت ایف آئی آر بھی درج کرتی ہے۔یہ کہ ملزم فرید سے بمطابق ریکارڈ آٹھ سو گرام منشیات برآمد ہوتی ہے اور دفعہ 9c کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔معزز عدالت نے دونوں اطراف کی بحث سننے کے بعد اس ہائی پروفایل مقدمہ میں نامزد ملزم غلام فریدکی بعد ازگرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔حالیہ فیصلہ سے اس عالمی سکنڈل میں اہم رخنہ پڑچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں