1,680

مشتاق نوابی کابیٹاعاقب نوابی راجہ عرفان سلیم کامردہ کیس لیکرمیڈیاکے سامنے پھٹ پڑا،اہم انکشاف کیساتھ بڑی اپیل کردی

کوٹلی(اے جے کے نیوز)راجہ مشتاق نوابی کے بیٹے عاقب نوابی نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ایس پی ضلع کوٹلی راجہ عرفان سلیم ہمارے ساتھ تاریخی ظلم وستم کررہے ہیں۔اس کاحساب انہیں دنیاکے ساتھ ساتھ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے حضوربھی دیناہوگا۔راجہ عرفان سلیم نے ایس پی کی وردی پہن کرشرافت کاجولبادہ اُوڑھاہواہے وہ جلدبے نقاب ہوجائے گا۔عاقب نوابی نے مزیدکہاکہ 5 مئی 2006 کاواقعہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں۔راجہ عرفان سلیم اس وقت DSP میرپورتھے جنہوں نے گجرخان کی تین طالبات کے کیس میں جوکرداراداکیاوہ قابل شرم اورڈھکاچھپانہیں ہے۔گجرخان کی تین طالبات کو26 دن تک میرپورآزادکشمیرپولیس نے ان کی ماں اورچچی کے ساتھ غیرقانونی طورپررکھااوران پربے پناہ تشددکیاگیاتھا۔اس وقت وہ چیخ چیخ کرکہہ رہی تھیں کہ ہم بے گناہ ہیں مگرموصوف آج کی طرح بلندوبانگ دعوے کرکے بے گناہ خواتین کوملزم ثابت کررہے تھے۔اس وقت پاکستان کے بڑے انگریزی اخبارنے اس معاملے کوحل کروانے کیلئے اہم کرداراداکیاتھا۔ان بے گناہ خواتین کواس وقت میرپورآزادکشمیرپولیس سے آزادکروانے اس وقت کے چیئرمین سینٹ محمدمیاں سومرونے ذاتی طورپراس معاملے کواٹھایااور وزیراعظم آزادکشمیراورصدرآزادکشمیرسے رابطہ کیاتھا۔اس وقت کے سابق وزیرڈاکٹرشہزادوسیم نے بھی لڑکیوں کی رہائی کیلئے کرداراداکیاتھا۔اس کے علاوہ سینیٹرکامل علی آغا،راجہ پرویزاشرف،سنیٹرڈاکٹرعبداللہ ریڑ اوردیگرنے بھی بے گناہ خواتین کی رہائی کیلئے اپنااپناکرداراداکیاتھا۔اس وقت کے آئی جی پولیس آزادکشمیرشاہدحسین قریشی نے اس وقت کے ڈی ایس پی عرفان سلیم اوردیگراہلکاروں کیخلاف انکوائری کاحکم دیاتھا۔راجہ عاقب نوابی نے کہاکہ اگراسوقت حکومت کی اعلیٰ شخصیات اس مسئلے کوحل کرانے کیلئے خودانکوائری نہ کرتی تووہ خواتین آج بھی جیل میں گل سڑرہی ہوتی۔ہماراوزیراعظم پاکستان،وزیراعظم آزادکشمیر،صدرآزادکشمیر،آئی جی پولیس آزادکشمیر اورڈی آئی جی میرپورڈویژن سے مطالبہ ہے کہ ہمارے کیس کی غیرجانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔اگرہم قصوروارہوئے توہم خودعوام کے سامنے پھانسی کے پھندے کوگلے لگالینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں