190

آسمانی بجلی کیا ہے اورکیوں گرتی ہے ؟

آسمانی بجلی (lightning)دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے.جب بادل اور تیز ہوا ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں.آسمانی بجلی میں کروڑوں وولٹ اور کروڑوں ایمپئر کرنٹ ہوتا ہے.جو کہ زمین پر دو طرح سے لپکتا ہے۔

1جو شخص یا چیز مثلا عمارت اور درخت وغیرہ جو اس جگہ کی مناسبت سے اونچے ترین ہوں.ان پر بجلی گر کر زمین میں چلی جاتی ہے. 2

سائنسدانوں کے مطابق زمین میں بھی مثبت یا منفی چارج ہوتا ہے.اس لیئے آسمانی بجلی بھی اس چارج کی طرف لپکتی ہے.اور زمین میں چلی جاتی ہے.حد درجہ وولٹیج اور میگا ایمپئرز کی وجہ سے آسمانی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو IONIZE کر دیتی ہے.جس کی وجہ سے ہوا میں اس کا سفر ممکن ہوتا ہے. مسلسل بڑھتا درجہ حرارت زمینی ماحول کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ماہرین ماحولیات کہتے ہیں زمین کی گرمی میں اضافہ قدرتی آفات کی تعداد اور شدت میں بھی اضافے کا سبب بنتا ہے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل قریب میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہو جائے گا۔ امریکی ماہرین کے مطابق 2100 تک دنیا میں بجلی گرنے کے واقعات 35 فیصد تک بڑھ چکے ہوں گے۔ مزید برآں بجلی گرنے سے ماحول کے اجزائے ترکیبی میں بھی تبدیلی آئے گی۔

ماہرین نے درجہ حرارت اور بجلی کے طوفانوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک نیا طریقہ اپنایا ہے جس میں بجلی کے بادلوں کو متحرک کرنے والی گرم توانائی کے ایندھن کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری اضافے سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات کی شرح 12 فیصد سے بڑھ جائے گی۔ جب بھی آسمانی بجلی گرتی ہے تو ایک کیمیائی ردعمل کے ذریعے یہ نائٹروجن آکسائیڈ گیس خارج کرتی ہے۔ اس کا شمار گرین ہاؤس گیسوں میں ہوتا ہے جن سے ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ مستقبل میں بجلی گرنے کے واقعات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس حوالے سے چند غیریقینی چیزیں بھی موجود ہیں جن پر مزید تجربات کی ضرورت ہے آسمانی بجلی سے بچنے کے طریقے بارش کے موسم میں عمومی طورپرآسمانی بجلی گرنے کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں اور بعض اوقات یہ حادثات جان لیوابھی ثابت ہوسکتے ہیں ، اگرچہ اس مظہر فطرت پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں لیکن ہم کچھ ایسی تدابیر ضرور اختیار کرسکتے ہیں جن سے جان بچ سکے۔ زمین پر صرف پاﺅں کے پہنچے لگائیں اور دونوں ایڑیوں کو اٹھا کر ایک دوسرے کے ساتھ ملا لیں، اگر بجلی آپ کے قریب گرتی ہے تو ایسی صورت میں یہ ایک پاﺅں سے داخل ہوکر دوسرے سے واپس زمین میں چلی جائے گی اور اوپر جسم میں نہیں جائے گی۔ یہ بات یقینی بنائیں کہ آپ کے جسم کے ساتھ کوئی بھی ایسی چیز نہ چھورہی ہو جس میں سے کرنٹ گزرسکے مثلاً لوہے، تانبے یا دیگر دھاتوں سے بنی کوئی چیز موجودنہ ہو۔ اگر آپ باروباراں کے دوران کھلے آسمان تلے موجود ہیں اور آپ کو جلد پر کانٹے سے چھبتے محسوسں ہوں یا بال کھڑے ہوجائیں تو خبردار ہوجائیں کہ آپ کے قریب آسمانی بجلی کا حملہ ہونے کو ہے۔ پاﺅں کے بل زمین پر بیٹھ جائیں اور اپنے ہاتھ کانوں پر رکھ لیں تاکہ زور دار دھماکے سے سماعت کو نقصان نہ پہنچے۔ –

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر طوفانی موسم میں گرجتے بادلوں میں تقریباً 30 کلو وولٹ فی میٹر کا کرنٹ پیدا ہوتا ہے کہ جو آسمانی بجلی جیسی طاقتور چیز پیدا نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس کی طاقت تقریباً 150کلو وولٹ فی میٹر ہوتی ہے۔ اب ان سائنس دانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس کی اصل وجہ وہ شمسی ہوائیں جو سورج سے دس لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہیں اور یہ طاقتور ذرات بادلوں میں اس قدر طاقتور کرنٹ پیدا کرتے ہیں کہ خوفناک طاقت والی آسمانی بجلی پیدا ہوجاتی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ان شمسی ہواﺅں کے زمین کی طرف بڑھنے کا پہلے سے پتا چلایا جاسکتا ہے اس لئے یہ ممکن ہوجائے گا کہ آسمانی بجلی کے خطرے سے قبل از وقت آگاہ ہوا جاسکے :-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں