زندگی میں کبھی گردوں کی بیماری نہیں لگے گی، بس ان چیزوں کا استعمال چھوڑ دیں

طبی ماہرین نے گردوں کے امراض سے بچائو کا حیران کن عمل بتا دیا ، کھانے میں زائد نمک کی عادت کو ترک کرکے گردوں کے جان لیوا امراض سے چھٹکارہ پایا جا سکتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق عام طور پر پاکستان کے ہر گھر میں بننے والے کھانے میں شامل ہونے والی ایک چیز آپ کو گردوں کے امراض کا شکار بناسکتی ہے، اگر اسے اعتدال میں رہ کر استعمال نہ کیا جائے , یہ انتباہ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق کے مطابق اگر آپ اپنی غذا میں نمک کی زیادہ مقدار چھڑکنے کے عادی ہیںتو اس عادت کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا میں نمک کے استعمال کی مقدار میں کمی لاکر جوانی میں گردوں کے جان لیوا امراض خصوصاً کڈنی فیلیئر کا شکار ہونے سے بچا جاسکتا ہے،دنیا بھر میں گردوں کے امراض کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اور جوانی میں ہی ڈائیلاسز کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔فشار خون گردوں کے فیلئیر کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ نمک کے استعمال اور فشار خون میں واضح تعلق موجود ہے۔گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیئم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔گردوں کو ہونے والے نقصان کی علامات کافی واضح ہوتی ہیں تاہم لوگ جب تک ان پر توجہ دیتے ہیں، اُس وقت تک بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔گردوں کے امراض کئی بار ہماری اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے ہی لاحق ہوتے ہیں یعنی ہماری چند عادات جو بظاہر بہت بے ضرر اور فائدہ مند لگتی ہیں تاہم اس عضو کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ذیل میں اُن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو گردوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔صحت بخش غذا کے لیے پروٹین بہت اہم ہے مگر اس کا بہت زیادہ استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ درحقیقت بہت زیادہ پروٹین گردوں کو بہت زیادہ کام کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جس کا نتیجہ مختلف امراض کی شکل میں نکلتا ہے۔ویسے تو کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے مگر یہ گردوں کو نقصان پہنچانے کا عمل بھی تیز کردیتا ہے، اس کے نتیجے میں گردوں میں پتھری کا خطرہ ہوتا ہے جو کہ شدید درد، پیشاب میں مشکل اور قے و متلی جیسی شکایات کا باعث بنتا ہے۔تمباکو نوشی نہ صرف ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض کو بدترین بناتی ہے جو کہ گردوں کے امراض کے دو بڑے سبب بھی ہیں، بلکہ یہ گردوں کی جانب دوران خون کو بھی سست کردیتی ہے جس کے نتیجے میں اس عضو کے مسائل زیادہ سنگین ہوجاتے ہیں۔اگر آپ روزانہ دو یا اس سے زائد سافٹ ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں تو گردوں کے امراض کی تشخیص پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک تحقیق کے مطابق ڈائٹ مشروبات گردوں کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں تاہم میٹھی سافٹ ڈرنکس کے بھی گردوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔گردوں کو ٹھیک طرح سے کام کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اگر جسم میں پانی کی کمی ہوجائے اور خصوصاً ایسا اکثر ہونے لگے تو اس سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے، اگر آپ کے پیشاب کی رنگت زرد ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہونے لگی ہے۔بڑی مقدار میں درد کش ادویات جیسے اسپرین یا بروفین وغیرہ کا استعمال بھی گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اسی لیے ان ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔بہت سخت اور زیادہ دیر تک ورزش کرنا بھی مسلز کو نقصان پہنچاتا ہے اور ٹشوز کو توڑتا ہے جو کہ خون کے راستے گردوں میں پہنچ کر انہیں نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔سینے میں جلن پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات معدے میں موجود تیزابیت کو کم کرتی ہیں اور اگر ان کا طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو اس سے گردوں میں سوجن پیدا ہونے لگتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں