64

یواے ای کی جیلوں میں کتنے پاکستانی مردوخواتین قیدہیں؟افسوسناک انکشافات

اسلام آباد(این این آئی) متحدہ عرب امارات کے متعددجیلوں میں مختلف جرائم کے مقدمات میں 92خواتین سمیت2800 پاکستانی قید میں ہیں،تاہم حکومت پاکستان کو تعداد کے حوالے سے متعلقہ حکام سے معلومات موصول ہونے کا انتظار ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق کمیونٹی ویلفیئراتاشی اور جیل کے دوروں پر جانے والی ٹیم کے انٹرویوز اور یو اے ای جیل حکام کے ساتھ روابط کی بنیاد پر یہ اندازہ ہے کہ فی الوقت یو اے ای کے جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد 2,409ہے۔ دستاویز کے مطابق یو اے ای کے العین جیل میں کل 247پاکستانی قید ہیں،جن میں سے 148کو سزا ہو چکیچکی ہے،89کے خلاف ٹرائل چل رہا ہے،10ڈیپوٹیشن کا انتظار ہے،اس جیل میں7خواتین بھی قید ہے،ابوظہبی کے جیل میں کل554قید،جن میں سے 337پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے،166کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں جبکہ 166ڈیپورٹیشن کے منتظر ہیں،دبئی جیل میں کل852قید،جس میں سے 25خواتین بھی شامل ہیں،جبکہ 18ڈیپورٹیشن کے منتظر ہیں،راس الالخیمہ جیل میں کل 105قید،جس میں 2 خواتین،ستر پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جبکہ ایک ڈیپورٹیشن کا منتظر ہے،ام الالقین جیل میں کل 45خواتین سمیت 365 پاکستانی قید ہیں،فجیرہ جیل میں2خواتین سمیت33 جبکہ آجمان جیل میں 2 خواتین سمیتب222پاکستانی قید ہیں۔دستاویز کے مطابق ویلفیئر اتاشیوں کی طرف سے مقامی جیلوں کے دوریکے دوران 2, 409قیدیوں سے مشن کیپاس 1902قیدیوں کے جرائم وار اعدادوشمار جمع کی گئی ہے،دستاویز کے تحت مجوعی 1902میں سے منشیات، نارکوٹکس اور ممنوعہ ادویات کے جرائم میں 317،چوری وڈکیتی کے جرائم میں227،باؤنس چیک،فنانشل کرائمز میں18،قتل کے جرائم میں 63جبکہ چھوٹے جرائم کے تحت 1167پاکستانی قید ہیں،دستاویزکے مطابق سفارتخانے/قونصلیٹ اور سی ڈی ڈبلیو اے کے اہلکار ان کے افسران عملہ جیلوں کا باقاعدہ بنیادوں پر دورہ کرتا ہے،قیدیوں کے ساتھ رابطہ کرتا ہے، ان کے جائز تحفظات کے بارے میں سنتا ہے اور ان کو ترتیب وار یو اے ای کی قیادت کی معلومات میں لاتا ہے،مشن،قونصلر اسٹنٹس،قانونی رہنمائی فراہم کرنے میں معاونت کرتا ہے اور قیدیوں کے مقدمات اور سزاؤں سے متعلق اطلاعات جمع کرتا ہیاور ہیاورانٹرویو کیے جانے والے قیدیوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھتا ہے،مشن قیدیوں کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرانے کیلئیبھر پور کوشش کرتا پے اور وقتاًفوقتاًپاکستاب کمیونٹی ویلفیئر اینڈایجوکیشن (PCW&E) قیدیوں کے اکاؤنٹس میں رقوم جمع کرواتا ہے تاکہ اپنے اہل خانہ سے بات کرنے کیلئے ٹیلیفون کریڈٹ خرید سکیں،ہر ماہ مشن کی جانب سے بڑی مقدار میں پاکستانی قیدیوں کو قانونی معاونت/رہنمائی فراہم کی جاتی ہے،چند ضروری مقدمات میں مشن کیپی سی ڈبلیواینڈ ای فنڈ سے وکلا کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں اور قیدیوں کے اہل خانہ کی درخواست پر انہیں مقامی وکلاء اور قانونی مرمز کی خدمات دینے کی سہولیات بھی فراہم فراہم کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں