ماہ رجب میں کیا گیا کون سا عمل انسان کی شفاعت کا سبب بن سکتا ہے

ماہ رجب جو کہ اسلامی مہینوں کا ساتواں مہینہ ہے اس کا شمار ان چار مہینوں میں ہوتا ہے جس کو ہمارے پیارے نبی نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے اس مہینے کی حرمت کی مناسبت سے ان مہینوں میں جنگ و قتل و غارت گری سے منع فرمایا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان مہینوں میں عبادت کا ثواب دیگر مہینوں سے زیادہ دینے کا وعدہ فرمایا گیا ہے ۔

ارشاد نبی ہے کہ ماہ رجب اللہ تعالی کی بارگاہ میں خصوصی اہمیت کا حامل مہینہ ہے اور اور کوئی بھی مہینہ حرمت کے اعتبار سے اس کا ہم پلہ نہیں ہے اس مہینے کی مذید فضیلت بیان کرتے ہوۓ نبی اکرم کا فرمان ہے کہ رجب اللہ کا مہینہ ہے لہذا اس مہینے کی برکات بھی اسی سبب بہت زیادہ ہیں
اس مہینے میں جن اعمال کا ثواب احادیث سے ثابت ہے وہ کچھ اس طرح ہیں

ماہ رجب میں صدقے کا ثواب

حضرت عقبہ بن سلامہ بن قیس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جو شخص رجب کے مہینے میں صدقہ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اس قدر دور کر دیتا ہے جس طرح کّوا اپنے گھونسلے سے نکل کر اڑتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر مر جائے۔ کہا گیا ہے کہ کوا پانچ سو سال زندہ رہتا ہے‘‘۔ (غنیۃ الطالبین، 427)

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ عام دنوں میں بھی صدقہ دافع البلیات اور خیر و برکت ہے مگر یہی صدقہ اگر اس مہینے میں کیا جاۓ تو اس سے جہنم کی آگ سے بھی نجات حاصل ہوتی ہے

ماہ رجب میں نفلی عبادات

اس مہینے کے فیوض و برکات کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے لیۓ اس ماہ میں فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نفل عبادات کا بھی حکم آیا ہے ۔ سب سے افضل ذکر اس مہینے کے لیۓ استغفار کو قرار دیا گیا ہے کیوں کہ حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم نے اس مہینے کو مغفرت کا مہینہ قرار دیا ہے ۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رجب کا چاند چڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے سلمان! جو مومن مرد و عورت اس مہینے میں تیس رکعات نماز اس طرح اد اکرے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ تین بار سورۃ اخلاص اور تین بار سورہ الکافرون پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے، پورا مہینہ روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب عطا کرتا ہے، آئندہ سال تک نماز پڑھنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دن اس کے لئے شہداء بدر میں سے ایک شہید کے عمل کا ثواب ملتا ہے، ہر روزے کے بدلے اس کے لئے ایک سال کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک ہزار درجے بلند کئے جاتے ہیں۔

اگر وہ پورا مہینہ روزہ رکھے اور یہ نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے نجات عطا فرمائے گا اور اس کے لئے جنت واجب کرے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں ہوگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ تمہارے مسلمانوں کے درمیان اور مشرکین و منافقین کے درمیان علامت ہے کیونکہ منافق یہ نماز نہیں پڑھتے۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے اس کے پڑھنے کا طریقہ اور عمل بتایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے سلمان! تو اس مہینے کے شروع میں دس رکعتیں ادا کر ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک بار، سورہ اخلاص تین بار اور سورہ الکافرون تین بار پڑھ جب سلام پھیرے تو ہاتھ اٹھا کر یہ کلمات پڑھ۔

لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَه لَا شَرِيْکَ لَه لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِیْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌ اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِیْ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ.

(غنیۃ الطالبین، 432)

ماہ رجب میں قبولیت دعا

امام دیلمی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابی امام رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کوئی دعا رد نہیں کی جاتی، رجب کی پہلی رات، پندرہ شعبان کی رات، جمعہ کی رات اور دو راتیں عیدین کی‘‘۔ (غزالی، مکاشفۃ القلوب، 938)

اس ماہ میں اللہ تعالی اس بات کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اس کے بندے اسے پکاریں تاکہ وہ ان کو زیادہ سے زیادہ نواز سکے

رجب کے ماہ کی حرمت پر پورے عالم اسلام کے علما متفق ہیں مگر ایک طبقہ فکر اس حوالے سے ایسا بھی ہے جس کا یہ ماننا ہے کہ ماہ رجب میں کسی قسم کے خصوصی اعمال احادیث سے ثابت نہیں ہے مگر اس حوالے سے دوسرے طبقہ فکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللہ کا زیادہ ذکر کرنا اور اس کی عبادت کرنا کسی طرح بھی گناہ نہیں ہو سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں