124

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ویزابارے اہم خبر،اب یہ کام نہیں ہوگا؟

جدہ(اے جے کے نیوز)سعودی محکمہ پاسپورٹ اینڈامیگریشن(جوازات)نے واضح کیاہے کہ خروج وعودہ(ایگزٹ ری انٹری)ویزاجاری کرانے کے بعداس کی مدت میں توسیع نہیں کرائی جاسکتی۔جوازات کے ترجمان نے بتایاکہ ویزے کی مقررہ فیس جمع کرانے سے قبل مدت میں تبدیلی کرائی جاسکتی ہے تاہم اگرویزے کی فیس اداکردی جائے مگراس پرسفرنہ کیاگیاہوتوپھرایسی صورت میں پچھلاویزاکینسل کرکے دوسراویزامطلوبہ مدت کیلئے جاری کروایاجاسکتاہے۔تاہم نیاویزاجاری ہونے کی صورت میں پرانے ویزے کی جمع کروائی گئی فیس ناقابل واپسی ہوگی۔دوسرے ایگزٹ ری انٹری ویزے(خروج وعودہ)کیلئے نئی فیس جمع کرانی لازمی ہوگی کیونکہ جوازات کے قانون کے مابق کسی سروس کیلئے جمع شدہ فیس صرف اسی صورت میں ناقابل وایسی ہوگی،اگرمطلوبہ سروس حاصل نہ کی گئی ہو۔کوئی سروس حاصل کرنے کے بعدرقم درخواست گزارکے اکاؤنٹ سے منتقل ہونے کے بعدجب مطلوبہ سروس کااجراء ہوجاتاہے توایسی صورت میں فیس واپس نہیں ہوسکتی۔ایک اورسوال کے جواب میں ترجمان نے بتایاکہ سعودی مملکت میں مقیم کسی پاکستانی فیملی کاطالبعلم ایگزٹ ری انٹری(خروج وعودہ)پرپاکستان جائے اوروہاں اپنے قیام کے دوران رہتے ہوئے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کراناچاہتاہوتواس کاطریقہ کارکچھ اس طرح سے ہے۔پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی بھی طالبعلم اگرخروج وعودہ پرپاکستان آتاہے توچاہے وہ 146 تابع145 کے زمرے میں آتاہویا146 مرافق 145 کے دونوں صورتوں میں اسے مملکت سے پاکستان گئے ہوئے 13 ماہ سے زائدکاعرصہ نہ گزراہواوراس کے اقامے کی تاریخ ایکسپائرنہ ہوئی توایسی صورت میں وہ اپنے ملک میں موجود سعودی سفارتخانے سے رجوع کرکے خروج وعودہ کی مدت میں توسیع کرواسکتاہے تاہم اگرخروج وعودہ کی مدت کو13 ماہ سے زائدگزرچکے ہوں توایسی صورت میں سعودی مملکت میں مقیم طالبعلم کے سرپرست(مرافق)کووزارت خارجہ کی ویب سائٹwww.mofa.gov.sa پرلاگ ان کرکے وہاں ویزاسیکشن کی کٹیگری پرکلک کرنے کے بعدایک مخصوص فارم فل کرکے اس کاپرنٹ نکالناہوگا۔اس فارم کی پہلے اپنے آجریادفترسے تصدیق کرواناہوگی اورپھرغرفہ تجارہ(چمبرآف کامرس)سے اس کی تصدیق کرواکرفارن آفس میں جمع کروائی جائے گی۔جس کے بعداس کیس پرغورکرنے کے بعدمنظوری کافیصلہ ہوگا۔اس سارے عمل کیلئے کم ازکم تین دن کاوقت درکارہوگا۔فارن آفس کی جانب سے منظوری کے بعدیہ کیس وزارت داخلہ کومنتقل ہوجائے گاجہاں سے خروج دعودہ مدت میں توسیع ممکن ہوسکے گی۔مملکت میں مقیم غیرملکی طلباء جواپنے آبائی وطن یاکسی دوسرے ملک میں زیرتعلیم ہوتے ہیں انہیں تعلیمی رخصت کی بنیادپرایک سال کی مدت پرمحیط خروج دعودہ کااجراء ہوسکتاہے۔تاہم یہ اجراء اقامہ کے ایکسپائرہونے کی تاریخ سے مشروط ہے۔کچھ لوگ اس خام خیالی کاشکارہیں کہ 146ا بشر145 کے ذریعے خروج وعودہ میں توسیع کروائی جاسکتی ہے حالانکہ ایساابشرپراس نوعیت کی کوئی سہولت موجودنہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں