642

صبح کے وقت جنسی قربت بہت بڑی محرومی ختم کر سکتی ہے، نئی تحقیق

نیویارک ۔ رات بھر کے آرام کے بعد صبح کے وقت انسانی جسم توانائی سے بھرچکا ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہے جسے قربت کے تعلق کے لئے موزوں ترین اور مفید ترین قرار دیا گیا ہے۔ ازدواجی صحت کی ماہر سوزی ہیمن کا کہنا ہے کہ صبح کے تقریباً 7 بجے مردوں میں ٹیسٹاسٹیرون ہارمون اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ان کی ازدواجی کارکردگی بہترین ہوتی ہے۔ اس وقت حواس بھی تیز ترین ہوتے ہیں جبکہ جسم کا انگ انگ زندگی سے بھرپور ہوتا ہے۔امریکا کی رٹجر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق صبح کے وقت قربت کا تعلق پرجوش، طویل اور اطمینان بھرا ہوتا ہے۔ اسی طرح اٹلی کی موڈینا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق صبح کے وقت قربت سے حمل کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ ورزش کے لئے بہترین وقت شام 5 سے 6 بجے جبکہ سونے کے لئے رات 10 سے 11 بجے بتایا گیا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق روزانہ جنسی مباشرت مردوں میں  سپرم کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتی ہے جس کی وجہ سے بیضے کی بارآوری نسبتاً زیادہ آسانی سے ہوجاتی ہے۔اس بات کا پتہ اس وقت چلا جب ایک مطالعے کے دوران ایسے مردوں کو روزانہ مادۂ منویہ خارج کرنے کو کہا گیا جنہیں باپ بننے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ایک ہفتے کے اس عمل کے بعد دیکھنے میں آیا کہ ان افراد کے نطفۂ کے جو نمونے حاصل کیے گئے ان میں ڈی این اے کا نقصان کم تھا۔فرٹیلیٹی (بچے پیدا کرنے کی صلاحیت) سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریلوی محقق کا کہنا تھا کہ بچوں کے خواہشمند جوڑوں کے لیے ان کا عمومی مشورہ یہ ہی ہے کہ وہ ہر دوسرے یا تیسرے روز جنسی صحبت کریں۔ابتدائی تحقیق کے مطابق اس کے امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔آسٹریلوی شہر سِڈنی کے ڈاکٹر ڈیوِڈ گرِیننگ کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں حصہ لینے والے دس میں سے آٹھ مردوں کے نطفے میں ڈی این کا کا نقصان بارہ فی صد کم نظر آیا۔اگرچہ اس عمل کے ایک ہفتے کے بعد نطفے یا تخم کی مجموعی تعداد اٹھارہ کروڑ سے کم ہو کر صرف سات کروڑ رہ گئی تھی مگر یہ تعداد بھی بارآوری کے لیے کافی ہے۔یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ نئے بننے والے نطفے یا سپرم زیادہ متحرک اور فعال تھے۔اس سے یہ نظریہ سامنے آیا کہ سپرم جتنے زیادہ وقت کے لیے خصیوں میں رہیں گے ان میں ڈی این اے کے نقصان کا احتمال بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا اور خصیے کی گرمی ان میں سستی پیدا کر دے گی۔تاہم ڈاکٹر گرِیننگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روزانہ جنسی مباشرت کو زیادہ عرصے مثلاً دو ہفتوں تک جاری رکھا جائے تو ہوسکتا ہے کہ مادۂ منویہ میں تخم کی تعداد بارآوری کے لیے درکار حد سے کم ہوجائے۔البتہ اس عمل کا اس وقت جاری رکھنا زیادہ مفید ہے جب عورت کا حیض ختم کے بعد (بالعموم بارہ سے سولہ روز) انڈہ یا بیضہ بن کر رحم کی جانب محوِ سفر ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر گریننگ کا کہنا ہے کہ دریا کو بہتے رہنا چاہئے:۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں