168

کن مرَدوں کی جانب سے عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں؟

جنسی جرائم کے متعلق سویڈن میں کی جانے والی اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ ان جرائم کا رویہ بڑی حد تک جینز پرمنحصر ہے اور جس خاندان کے مردوں میں جنسی جرائم کا رجحان پایا جاتا ہے ان کی اولادوں میں بھی اس کے منتقل ہونے کی شرح واضح طور پر زیادہ پائی گئی ہے۔

 کارولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر نکلاس لینگسٹروم کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں 1973ءسے 2009ءکے درمیان جنسی جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کا مطالعہ کیا گیا۔ ان میں سے 21566 افراد جنسی زیادتی، بچوں کے بارے میں فحش مواد رکھنے یا جنسی ہراساں کرنے کے جرائم میں ملوث تھے۔ ان افراد پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنسی جرم میں ملوث ہونے والے مردوں کے بھائیوں میں یہی جرم کرنے کی شرح عام لوگوں کی نسبت 5گنا زیادہ ہے جبکہ جنسی جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد کے بچوں میں یہی جرم کرنے کی شرح دیگر افراد کی نسبت چار گنا زیادہ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنسی جرم کے جینز کسی بھی خاندان کے مردوں کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں اور اگر خاندان کا کوئی مرد جنسی جرائم میں ملوث ہے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ اس خاندان کے دیگر مردوں میں سے بھی کوئی اسی جرم کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جس خاندان کے کسی مرد کے جنسی جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہوں اس کے دیگر مردوں کو بہتر سماجی رہنمائی فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ شرمناک جرائم سے بچ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں