186

پڑھیے:راجہ محمدزبیربھٹی کاکالم: کشمیریوں کوصرف بھارتی عوام بچا سکتے ہیں

14فروری کو پلوامہ کے مقام پر ہونے والے خود کُش حملے میں سکیورٹی فورسز کے نصف سو کے قریب اہلکار لقمہ ء اجل بنے۔اس حملے کی ذمہ داری ایک شدت پسندکالعدم پاکستانی تنظیم’’جیش محمد‘‘ نے قبول کی ہے۔جیش،حزب،لشکر اور ان جیسی درجنوں مزید تنظیمیں اور گروہ پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسیوں نے کشمیریوں کی 1988کی آزادی کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے90/91میں بنائی تھیں۔ان تنظیموں نے کشمیریوں کی بھارتی قبضے کے خلاف قومی آزادی کی گوریلا جنگ پر قبضہ کر کے اسے مذہبی جہاد بنایا تھا۔گوریلا طریقہ کار کو چھوڑ کر مجاہدین نے عوامی اجتماعات کے اند رسے بھارتی فوج پر حملے شروع کر دیے جس کے جواب میں فوج کوعام شہریوں پر گولیاں چلانے کا موقع ملتا رہا۔ یہ جہاد تب سے اب تک جاری ہے اور پلوامہ حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔حسبِ معمول اس بار بھی بھارتی حکومت اس کارروائی کے ردِّ عمل میں کچھ دن پاکستان کے خلاف احتجاج کرے گی ،دھمکیاں اور گالیاں وغیرہ دے گی اوراگلی واردات تک اسے بھول جائے گی۔دوسری طرف سے پاکستان بھی ہمیشہ کی طرح اس حملے کا الزام یکسر مسترد کر کے اسے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا رد عمل قرار دے گا اور کوئی نئی بریکنگ نیوز آنے پر یہ بات آئی گئی ہو جائے گی۔
ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی بنیادی اور سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔اہلِ کشمیر کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کے پاس اپنا موقف اجاگر کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔کشمیر کے دونوں مقبوضہ حصوں کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مکمل طور پر پاکستان اور بھارت کے ہاتھوں میں ہے۔دونوں ممالک کشمیریوں کی بات کو توڑ مروڑ کر اپنے نقطہء نظر کے مطابق ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔دونوں نے کشمیر میں اپنے اپنے ہمنوا پال رکھے ہیں جو کشمیریوں کی طرف سے قابضین کے مفادات کے مطابق بیان دیتے ریتے ہیں۔عام کشمیری کے پاس بازار میں چیخنے چلانے کے سوا اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں رہا۔ اگروہ کسی جلسے ،جلوس یا اشتہار وغیرہ کے ذریعے اپنا موقف دیتا ہے تو اسے بھی پاکستان اور بھارت کا میڈیا کتر بیونت کر کے اپنے مطلب کی شکل میں ڈھال لیتا ہے اور اگر کانٹ چھانٹ کی گنجائش نہ نکل سکے تو بات کو انڈیا پاکستان کے ایجنٹوں کے ساتھ منسوب کر کے بے وزن کر دیا جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت اپنے کسی نقصان پر کھل کر احتجاج کرتے ہیں لیکن کشمیری بھاری نقصان برداشت کر نے کے باوجود احتجاج بھی ریکارڈ نہیں کرا سکتے۔قابضین نے انہیں گونگا بہرہ بنا کر رکھا ہوا ہے۔دونوں کا اصرار ہے کہ وہی کشمیریوں کے اصل ترجمان ہیں اور کشمیری وہی چاہتے ہیں جو وہ بتا رہے ہیں۔
بدقسمت کشمیری 72سالوں سے پاکستان سے مدد کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔انہیں ابھی تک یہ احساس نہیں ہو پایا کہ انہیں آزادی و خودمختاری سے محروم ہی پاکستان نے کیا تھا بھلا وہ کیسے ان کی حمائت کر سکے گا۔موجودہ دور میں سوشل میڈیاایک عظیم نعمت کے روپ میں کشمیریوں کو نصیب ہوا ہے۔یہ ایک ایساسہارا ہے جس کی مدد سے کشمیری آپس میں جُڑرہے ہیں۔اصحابِ شعور و دانش اپنے لوگوں کو معاملات کی سچائی اور حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہر آدمی کی اس تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس عمل کی رفتار انتہائی سست ہے۔
کشمیری قوم گزشتہ پون صدی سے شدید مشکلات میں زندگی گزار رہی ہے۔لاکھوں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، معذور ہوئے ہیں،مالی نقصان اٹھا چکے ہیں،اپنی آبرو لٹوا چکے ہیں اور اپنے گھر بار سے اجڑ کر در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔حالات میں بہتری تو کجا جبر و ستم کا شکنجہ روز برو ز سخت ہوتا جا رہا ہے۔حالیہ پلوامہ حملے کے ردّعمل میں کشمیریوں کے مصائب مزید بڑھ جائیں گے۔گزشتہ دو ہفتے کی کاروائیاں اس بات کا بیّن ثبوت ہیں۔
کشمیریوں کو ان حالات میں پاکستان نے مبتلا کیا ہے لہٰذا اس سے کسی قسم کی بہتری کی کوئی امید دیوانے کا خواب ہی ہو سکتی ہے۔پاکستانی عوام کشمیریوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لیکن وہاں کے حکمران عوام کی بات کونہ تو سنتے ہیں نہ ہی اسے کوئی اہمیت دیتے ہیں۔عوام کے پاس ریاست کا اقتدارِ اعلیٰ ہے ہی نہیں لہٰذا وہ بھی کشمیری عوام کی طرح بے بس ہیں۔بھارتی حکومت کا کشمیریوں کے بارے میں رویّہ سب کے سامنے ہے۔اس کی کوشش رہتی ہے کہ کشمیری ہرطرح کے مظالم خاموشی سے برداشت کرتے رہیں اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگاتے جائیں۔بھارت انہیں آنسو بہانے کا موقع دینے پر بھی تیار نہیں۔ان حالات میں بھارتی عوام کے سوا کشمیریوں کی نجات کے لیے کوئی دوسری امید نظرنہیں آتی۔اگر کشمیری اپنا مسئلہ حقیقت کے تناظر میں بھارتی عوام تک پہنچا سکیں توبھارتی لوگ اس بات پر قادر ہیں کہ کشمیریوں کو ظلمت کی اس طویل اورتاریک رات سے بچا سکیں۔یہ بات اتنے وثوق سے اس لیے کہی جا سکتی ہے کہ بھارتی عوام خود مختار ہیں اور ریاست کا اقتدار اعلیٰ ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ وہ اپنی اس طاقت کو بروئے کار لا کر اپنی حکومت سے کوئی بھی بات یا مطالبہ منوا نے کی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ان کے ضمیر زندہ ہیں اور وہ انسانیت کا بہت احترام بھی کرتے ہیں۔خاص تور پر کشمیری لوگوں سے ان کا والہانہ لگاؤ اور محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔زیرِ نظر تحریر میں یہ کوشش کی جائے گی کہ کشمیر کے مسئلے کو حقیقت کے تناظر میں بھارتی عوام تک پہنچایا جاسکے تا کہ انہیں کشمیریوں کی مدد کر کے انہیں 70سالوں سے جاری مظالم سے نجات دلانے کا کوئی راستہ سوجھ سکے۔
جدید مملکتِ جموں و کشمیر کی بنیاد جموں کے راجہ گلاب سنگھ نے 1846میں رکھی تھی۔ان دنوں برطانیہ ہندوستان پر قبضہ جما رہا تھا اور اسی سلسلے میں کشمیر بھی اس کے قبضے میں آ گیا تھا۔گلاب سنگھ نے 75لاکھ روپے کے عوض اپنی ریاست کی آزادی خرید ی تھی۔بعد میں سارے ہندوستان پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا لیکن کشمیر ایک آزاد و خودمختار ملک رہا۔ہندی عوام کو جب غلامی کا احساس ہوا تو انہوں نے آزادی کے لیے برطانیہ کے خلاف سیاسی اور مسلح جدو جہد شروع کی جس کے نتیجے میں 14اگست 1947کو برطانیہ ہندوستان سے نکل تو گیا لیکن عظیم ہندوستان کو تین حصوں میں کاٹ کر اپاہج کر گیا۔ دو حصوں پر پاکستان جبکہ 15اگست کو تیسرے حصے پر بھارت وجود میں آیا۔ہندوستان میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں سے کشمیر مکمل طور پر لا تعلق رہا۔ہند کی ٹوٹ پھوٹ کے وقت برطانوی حکمرانوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کو پیشکش کی تھی کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق کر لے لیکن ہری سنگھ نے اپنے ملک کو آزاد رکھنے کا فیصلہ کیا۔اس نے نئے بننے والے پاکستان کے ساتھ ’’جوں کا توں‘‘ (still stand agreement)معائدہ کر لیا اور بھارت کو بھی اس کی پیشکش کی۔بھارت نے اس تجویزپر سوچ بچار کرنے کے لیے وقت مانگ لیا۔
1947کی گرمیوں میں کشمیر کے دو جنوبی اضلاع میرپور اور پونچھ کے عوام نے اپنی حکومت کے خلاف ایک مسلح بغاوت کا آغاز کر دیا۔یہ بغاوت کامیاب ہوتی یا ناکام ہوتی،اس سے کشمیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن بد قسمتی سے پاکستان نے کشمیر میں جاری افرا تفری کی آڑ میں جموں کشمیر پر مسلح جارحانہ چڑھائی کر دی اور باغیوں کے زیر قبضہ تمام علاقوں پر اپنا غیر قانونی تسلط جما لیا۔پاکستانیوں نے بہیمانہ طریقے سے کشمیر کے غیر مسلم عوم کا قتلِ عام شروع کیا،ان کی املاک لوٹیں،ان کی عورتوں کی اجتماعی ؑ صمت دری کرنے کے بعد انہیں اغوا کر کے اپنے علاقوں میں لے جا کو فروخت کر نا شروع کر دیا۔حملہ آور جدھر کا رخ کرتے ہر چیز کو تہس نہس کرتے جاتے تھے۔کشمیر کی حکومت ان حملہ آوروں کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ ان حالات میں کشمیر حکومت کے پاس بھارتی حکومت سے مدد کے لیے اپیل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔جواب میں بھارتی حکمرانوں نے کہا کہ کشمیر ایک الگ ملک ہے اور بھارتی حکومت کسی معائدے کے بغیر کشمیر میں اپنی فوج نہیں بھیج سکتی۔مہاراجہ اور وزیر اعظم کشمیر 22اکتوبر سے 26اکتوبر تک بھارتی حکومت کی منت سماجت کرتے رہے کہ وہ کشمیریوں کو پاکستانی مظالم سے بچانے کے لیے اپنی فوج کو بھیجے لیکن بھارتی حکومت نے معائدے کے بغیر مددفراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔اس پر کشمیری حکمرانوں کے پاس معائدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ بچا ہی نہیں۔حکومت کشمیر کو26اکتوبر کو مجبوراً بھارت کے ساتھ ایک عارضی اور مشروط معائدہ ء الحاق کرنا پڑا جس کے نتیجے میں بھارتی فوج 27اکتوبر کو کشمیر میں وارد ہوئی۔بھارتی فوج نے حملہ آوروں کا راستہ تو روک دیا لیکن وہ انہیں واپس دھکیلنے میں کامیاب نہ ہو سکی لہٰذا بھارت نے مدد کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا۔اس نے اقوام متحدہ میں پاکستان پر کشمیر پر غیر قانونی اور جارحانہ حملہ و قبضہ کرنے کا لازام لگایااور پاکستان کو کشمیر سے بیدخل کرنے کا مطالبہ کیا۔اقوام متحدہ نے پاکستان اور بھارت کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد ایک ضابطہ بنایا جس کے تحت ساری پاکستانی فوج جبکہ بھارتی فوج کا بڑا حصہ کشمیر سے نکلنا تھا اور بھارت کی کچھ فوج اور اقوام متحدہ کی فوج نے مل کر ریاست میں استصوابِ رائے کا انعقاد کرنا تھا جس کے ذریعے کشمیری قوم نے طے کرنا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ شامل ہوں گے، پاکستان میں ضم ہوں گے یا اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھیں گے۔
یہ ضوابط پاکستان اور بھارت نے بغیر کسی دباؤ کے آزادانہ اور رضاکارانہ طور پر تسلیم کیے تھے۔پاکستان نے سب سے پہلے کشمیر چھوڑنا تھا لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور معاملہ آگے نہ بڑھ پایا۔بعد میں پاکستان اور بھارت نے باہمی مشاورت سے رائے شماری سے آزادی کا آپشن نکال دیا اور اسے پاکستان یا بھارت سے الحاق تک محدود کر دیا۔یاد رہے کہ ان پاک بھارت معائدات میں کشمیری فریق نہیں تھے حالانکہ اس دوران بھارتی زیر انتظام کشمیر میں کشمیر کی مقامی خود مختار حکومت موجود تھی۔یہاں سربراہ ریاست صدر جبکہ انتظامیہ کا نگران ایک منتخب وزیر اعظم اور اس کی کابینہ تھی۔قانون ساز اسمبلی تھی ،سپریم کورٹ اور دوسرے تمام ریاستی ادارے کام کر رہے تھے۔دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بھی ایک خودمختار عبوری حکومت بھی تھی جسے پورے جموں کشمیر کی نمائندہ حکومت کا درجہ حاصل تھا۔
اقوام متحدہ نے کئی سالوں تک کبھی پاکستان اور کبھی بھارت کے عدم تعاون کی وجہ سے انتظار کے بعد دونوں ممالک کو آپس میں بات چیت کر کے مسئلے کو حل کرنے کی ہدایات دیں۔دونوں قابضین مسئلے کو حل کرنے بجائے کشمیر پر اپنا اپنا قبضہ پکا کرنے میں مصروف رہے۔کشمیر حکومت کے بھارتی حکومت سے اختلافات کو بنیاد بنا کربھارتی حکومت نے 9اگست 1953کو فوجی آپریشن کے ذریعے حکمرانوں کو معزول کر کے ریاست پر براہِ راست قبضہ لر لیا۔ 1967میں کشمیر کی خود مختاری کا خاتمہ کرتے ہوئے صدر کی جگہ گورنر اور وزیر اعظم کی بجائے وزیر اعلیٰ لگا دیے۔تب سے آج تک کشمیری پاکستان اور بھارت سے اپنے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔کشمیریوں نے 1988میں بھارت کے خلاف ایک مسلح جدو جہد کا آغاز کیا تھا جس پر پاکستان نے قبضہ کر کے اسے قومی آزادی کی جنگ سے جہاد بنا دیا جو آج تک جاری ہے۔بھارت کشمیر کو کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتا جب کہ پاکستان کشمیریوں کا حق رائے شماری تسلیم تو کرتا ہے لیکن عملاً حق دینے پر تیار نہیں ہے۔کشمیر اور اس کے عوام 72سالوں سے جبراً منقسم ہیں اور درمیان میں ایک خونی لکیر جسے سیز فائر لان یا LOCکہا جاتا ہے، کھنچی ہوئی ہے۔35لاکھ کشمیری حالات سے تنگ آکر پاکستان، بھارت اور بیرونی دنیا میں بغیر کسی شناخت اور تحفظ کے زندگی بسر کر رہے ہیں۔وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو آزادی اور تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکاہے۔وہ آج تک کشمیر کی ایک انچ زمین بھی پاکستان سے واگزار نہیں کروا سکا اور نہ ہی کروا سکتا ہے۔کشمیر کے اندر تین قوتیں کشمیریوں کے قتل عام میں مسلسل مصروف ہیں۔پاکستانی فوج،بھارتی فوج اور پاکستانی مجاہدین،تینوں ایک دوسرے کے خلاف کاروائی کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔
یہ ہے کشمیر کا اصل مسئلہ! ا ب بھارتی عوام کو دیکھنا پڑے گا کہ وہ کشمیریوں کی مدد کیسے کریں گے۔انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مستقبل میں کشمیری اسی کے ساتھ ہوں گے جو ان کو دہشت سے نجات دلا کر انہیں آزادی کے حصول میں مدد دے گا۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں