1,019

شادی کی پہلی رات دلہن کوخون نہ آنے پرکیادلہن بدکردارہوتی ہے؟

شادی کی رات زائد خون آنا یا خون کا بالکل نہ آنا

کبھی جنسی مِلاپ نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ عورت کو کنواری کہا جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ،کنوارپَن کو مثبت خیال کیا جاتا ہے ،اور توقع کی جاتی ہے کہ شادی کی رات عورت کنواری ہوگی (ماسوائے یہ کہ متعلقہ عورت کی یہ دوسری شادی ہو یا وہ مطلقہ ہو)۔اِس توقع کے نتیجے میں متعلقہ عورت پر بہت دباؤ ہوتا ہے ۔بعض عورتیں جانتی ہیں اور بعض عورتوں کو علم نہیں ہو تا کہ جسمانی طور پر کنوار ی ہونے اور’شادی کی رات ’’ خون کے آنے‘‘ یا ’’دَھبّے آنے‘‘ کے کیا معنیٰ ہوتے ہیں ۔

شادی کی رات زائد خون آنا یا خون کا بالکل نہ آنا

کبھی جنسی مِلاپ نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ عورت کو کنواری کہا جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ،کنوارپَن کو مثبت خیال کیا جاتا ہے ،اور توقع کی جاتی ہے کہ شادی کی رات عورت کنواری ہوگی (ماسوائے یہ کہ متعلقہ عورت کی یہ دوسری شادی ہو یا وہ مطلقہ ہو)۔اِس توقع کے نتیجے میں متعلقہ عورت پر بہت دباؤ ہوتا ہے ۔بعض عورتیں جانتی ہیں اور بعض عورتوں کو علم نہیں ہو تا کہ جسمانی طور پر کنوار ی ہونے اور’شادی کی رات ’’ خون کے آنے‘‘ یا ’’دَھبّے آنے‘‘ کے کیا معنیٰ ہوتے ہیں ۔
 

آئیے ہم جسمانی بناوٹ پر مختصرأٔکچھ تبادلہ خیال کرتے ہیں

عورت کی فُرج کے مُنہ پر ایک باریک غلاف ہوتا ہے جسے پردہ بکارت (hymen)کہا جاتا ہے ۔یہ غلاف فُرج کے مُنہ کو جزوی طور پر ڈھکتا ہے ۔لڑکیوں کو بلوغت شروع ہونے کے بعد ماہواری آنے لگتی ہے لہٰذا ماہواری کے خون اور رطوبتوں کو باہر آنے کے لئے راستے کی ضرورت ہوتی ہے ۔لہٰذا عام طور پر پردہ بکارت ،فُرج کے مُنہ کو جزوی طور پر ہی ڈھکتا ہے۔
 
یہ بات اہم ہے کہ بعض عورتوں میں قدرتی طور پر پردہ بکارت ،پیدائشی طور پرموجود ہی نہیں ہوتا ، جب کہ دِیگر عورتوں میں اس کی بناوٹ اور جسامت میں فرق ہو سکتا ہے ۔بعض عورتوں کا پردہ بکارت بعض جسمانی سرگرمیوں،مثلأٔ سائیکل سواری،جمناسٹک اور گُھڑ سواری وغیرہ کے نتیجے میں ختم ہو جاتا ہے ۔
 
جب کوئی عورت اپنی زندگی میں پہلی بار جنسی ملاپ (جسے فُرج میں عضو تناسل کا دَخُول کہا جاتا ہے)کرتی ہے تو پردہ بکارت عضو تناسل کے دباؤ کی وجہ سے پھیل کر پھٹ جاتا ہے اور اِس عمل میں درد محسوس ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوتا ہے ۔اکثر اوقات ،کٹاؤ اور خون جاری ہوسکتا ہے ،تاہم اِس بات کاانحصار پردہ بکارت کی لچک پر ہے ۔ لہٰذا شادی کی رات متعلقہ عورت کو خون آبھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔قطع نظر اس سے کہ متعلقہ عورت کنواری تھی۔
 
خون جاری ہونے کی صورت میں: اگر خون کی مقدار انتہائی کم تھی اور عورت کو درد محسوس نہیں ہُوا تو جنسی ملاپ کے عمل کوعورت کے احساسات کے لحاظ سے جاری رکھا جاسکتا ہے۔اگر عورت کو درد اور بے آرامی محسوس ہوتی ہے تو جنسی ملاپ کے عمل کو ختم کر دیجئے /روک دیجئے یہاں تک کہ متعلقہ عورت جنسی ملاپ کے لئے دوبارہ تیار ہو جائے ۔
 
خون جاری نہ ہونے کی صورت میں: یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ شادی کی رات متعلقہ عورت کو خون نہ آنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کنواری نہیں تھی۔بہت سی عورتوں کو اس موقعے پر خون بالکل نہیں آتا ،جب کہ اُنہوں نے اِس سے پہلے کبھی جنسی ملاپ نہیں کیا ہوتا ہے ۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ بعض عورتوں کا پردہ بکارت بعض سخت جسمانی سرگرمیوں،مثلأٔ سائیکل سواری،جمناسٹک اور گُھڑ سواری وغیرہ کے نتیجے میں ختم ہو جاتا ہے ۔
 
ہمارے معاشرے میں ،پردہ بکارت کی موجودگی کو ،پاکیزگی کے جسمانی ثبوت کے طور پر سمجھا جانا ایک غلط تصورپایا جاتا ہے ۔کردار کی پاکیزگی ،پردہ بکارت کی موجودگی یا غیر موجودگی ، سے کہیں زیادہ اہم بات ہے ۔لہٰذاکردار کی پاکیزگی پر زور دِیا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں