643

پاکستان میں جنسی زیادتی کی شکارخواتین کامعائنہ کس طرح کیاجاتاہے؟ایسے شرمناک انکشافات کہ جان کرآپ توبہ کرینگے

پاکستان میں بڑھتے ہوۓ جنسی زیادتیوں کے واقعات نے اس موضوع کو لوگوں کا موضوع سخن بنا دیا ہے ۔ماضي بعید میں اس بارے میں بات کرنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا اور میڈیا پر اب بھی کسی حد تک ایسا ہی ہے مگر سوشل میڈيا کے سبب اب لوگوں میں اس حوالے سے آگہی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

عموما جنسی زیادتی کا شکار خواتین کا میڈیکل معائنہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل جاتا ہے مگر اس بات سے عوام آج سے پہلے تک ناواقف تھی کہ یہ میڈيکل معائنہ کس طرح کیا جاتا ہے اور اس میں کیا کیا چیزیں شامل ہوتی ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جاۓ کہ متاثرہ لڑکی یا خاتون کے ساتھ جنسی زيادتی کا ارتکاب ہوا ہے یا نہیں ۔
اس حوالے سے ایک پاکستانی میڈیکولیگل ڈاکٹر جس نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہوۓ بتایا کہ جنسی زیادتی کا شکار لڑکی کو چیک کرنے کے لیۓ پاکستان میں تین طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا واقعی متاثرہ لڑکی کے ساتھ جنسی زيادتی ہوئی ہے یا نہیں ۔

ٹو فنگر طریقہ کار

اس طریقے میں جنسی زیادتی کا شکار لڑکی کے انہدام نہانی میں دو انگلیاں داخل کی جاتی ہیں ۔ اگر یہ دو انگلیاں آسانی سے داخل ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ لڑکی یا عورت دخول کے عمل کی عادی ہوتی ہے یا باکرہ نہیں ہوتی جب کہ اگر دو انگلیاں داخل کرتے ہوۓ متاثرہ لڑکی کو تکلیف ہو اور اس کی انہدام نہانی میں صرف ایک ہی انگلی کے دخول کی اجازت ہو تو اس سے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ جنسی عمل کیا گیا ہے مگر یہ اس کی عادی نہیں ہے یا پھر باکرہ ہے ۔یہ عمل جانچ کا تیس فیصد ہوتا ہے

متاثرہ لڑکی کی ہسٹری تیار کی جاتی ہے

ٹو فنگر ٹیسٹ کے بعد لڑکی کی ہسٹری تیار کی جاتی ہے جس میں اس کی عادات اس کے گھر کے ماحول اور اس فرد کے ساتھ اس کے تعلقات کو جانچا جاتا ہے جس پر اس نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہوتا ہے یہاں اس امر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے کہ کیا ایسے حالات تو نہیں ہیں کہ لڑکی اس مرد کے ساتھ اپنی رضا سے صحبت کرنے کے بعد اس پر جنسی زيادتی کا الزام لگا رہی ہے ۔یہ عمل جانچ کا پچاس فی صد ہوتا ہے

کیمیائی ٹیسٹ کیا جاتا ہے

اس عمل کو جانچ کا صرف بیس فی صد کہا جاتا ہے اس میں متاثرہ لڑکی کے رحم میں سے نمونے حاصل کیۓ جاتے ہیں اور ان کو ملزم کے اسپرم سے میچ کیا جاتا ہے ۔ اگر دونوں نمونے میچ ہو جائیں تو اس سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ دخول ہوا مگر یہ ٹیسٹ اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ یہ دخول لڑکی کی رضا سے ہوا یا زبردستی ہوا ۔

ڈاکٹر عمار رفیق جو کہ جناح ہسپتال کے گائنو کالوجسٹ ہیں کہ مطابق اس بات کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں جس سے یہ فیصلہ کیا جاۓ کہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی زبردستی ہوئی ہے یا پھر اس کی رضا سے ہوئی ہے ۔

دنیا بھر میں اس ٹو فنگر طریقہ کار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے ۔ انسانی حقوق کی کمیشن کے مطابق یہ طریقہ کار جنسی زیادتی کا شکار لڑکی کے ساتھ ایک بار پھر جنسی زيادتی کا مترادف ہے ۔ جب کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے اس طریقہ کار کو خلاف قانون قرار دیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں