325

مرداس مخصوص ساخت کی جسم کی حامل خواتین کوہی کیوں پسندکرتے ہیں؟

یوں تو نسوانی جسمانی ساخت کا ہر پہلو ہی مردوں کے لئے دلچسپی کا حامل رہا ہے لیکن پتلی اور خم دار کمر شاعری اور نغموں کا بھی خصوصی موضوع رہی ہے اور ارتقائی لحاظ سے بھی خواتین کی کمر اور کولہوں کی نسبت اہمیت کی حامل رہی ہے۔


ترکی میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر کولہوں کی جسامت اور کمر کے انداز کو اس قدر اہمیت کیوں دی جاتی ہے۔ بلکنٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ صرف کولہے ہی نہیں بلکہ کمر کا زاویہ بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور اصل میں یہ ان دونوں باتوں کا امتزاج ہے جو مرد کی توجہ کھینچتا ہے۔ کولہوں کی جسامت کو تولیدی صحت کا اشارہ سمجھا جاتا ہے جبکہ کمر کا خم بہتر توازن، حمل کی کامیابی اور حاملہ ہونے کے باوجود نقل و حمل کی آسانی کے براہ راست متناسب ہے۔  اس تحقیق میں تین سو مردوں کو زنانہ کمر کے مختلف زاویے کی تصاویر دکھائی گئیں تو 45 ڈگری کے خم کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس انتخاب کی وجہ ارتقائی ہے کیونکہ جن خواتین کی کمر میں 45 ڈگری کا خم ہوتا ہے وہ بہتر جسمانی توازن کی حامل ہوتی ہیں اور قدیم دور کے انسان کے لئے یہ زاویہ اس لئے بھی اہم تھا کہ یہ خواتین باآسانی چل پھر سکتی تھیں اور جنگلوں میں دور دراز علاقوں تک گھوم پھر کر خوراک اکٹھی کرسکتی تھیں۔ یہ ارتقائی وجہ آج بھی مردوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور وہ خم دار جسمانی ساخت والی خواتین کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں