115

حج پرجانے والی خواتین کیلئے معلومات اورمشورے

حج مردوں کی طرح  ان عورتوں پر بھی زندگی میں ایک دفعہ فرض ہے  جو مالی اور جسمانی استطاعت رکھتی ہوں۔  یعنی حج کے انتظامات کرتے وقت واجباتِ حج کی رقم کے علاوہ گھر والوں کے لئے  وہ 40 روز  کے اخراجات کا بندوبست  بھی کر کے جائے۔  عورتوں پر حج اس صورت میں فرض ہے جب ان کا خاوند یا حقیقی محرم  ان کے ساتھ جائے۔ محرم کے لئے شرع کا تقاضا ہے کہ جس کے ساتھ عورت پوری زندگی نکاح نہیں  سکتی وہی ساتھ جا سکتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو اس وقت تک ان عورتوں پر حج کی ادائیگی فرض نہیں جب تک کہ اس کا انتظام نہ ہو جائے۔   حج فارم کی تکمیل تک تو کسی مرد سے مدد لی جا سکتی ہے  لیکن فرضی محرم جیسے ماموں۔ بھانجا ظاہر کر کے حج کے لئے جانا نہ صرف شرعاً منع ہے بلکہ دینوی لحاظ سے ناجائز ہے۔  کیونکہ جب  بیماری یا ایمرجنسی  میں  بھی غیر محرم کا عورت کو چھونا درست نہیں  ، طواف اور سعی  میںایک دوسرے کے ہاتھ کو پکڑ کر چلنے کی شرع میں اجازت نہیں۔ لہٰذا  محرم مقرر کرتے وقت شروع میں ہی خوب سوچ بچار کر کے فارم بھرنا چاہئیے۔ پردہ کی پابندی جہاں تمام  کے لئے ضروری ہے وہاں حج پر جانے والی عورتوں پر انتہائی ضروری ہے۔

 احرام کی حالت میں  چہرہ کھلا رکھنے کی جو اجازت ہے  وہ صرف احرام کی  حد تک  ہے کہ عورت کے چہرہ کو کپڑا یا نقاب نہ لگے۔ لیکن اس صورت میں بھی یہ پسندیدہ عمل ہے کہ نقاب لٹکایا جائے جو چہرے کے ساتھ مَس نہ کرے۔ ساری عمر پردہ کی پابندی کرنے والی بعض خواتین اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بالکل بے پردہ ہو جاتی ہیں جو کسی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔  بعض خواتین  چُست لباس پہنتی ہیں ۔ بعض مہین کپڑے استعمال کرتی ہیں اس  بارے میں خواتین کو خود احساس ہونا چاہئیے ۔وزارتِ مذہبی امور نے کئی بار پابندی لگائی کہ عورتیں روزمرہ کے لباس کے اوپر عبا یا بڑی چادر استعمال کریں تا کہ بے پردگی نہ ہو لیکن اس کی بالکل پرواہ نہیں کی جاتی۔ روانگی کے وقت تو کسی حد تک عبا یا بڑی چادر یا کالا برقعہ نظر آتا ہے لیکن ارضِ مقدس پہنچتے ہی اُتار کر پرے پھینک دیا جاتا ہے جو کسی لحاظ سے بھی مناسب نہیں ہے۔ طواف کرتے وقت مردوں کے ساتھ طواف کرنے کی بے شک اجازت ہے لیکن جہاں تک ہو سکے طواف کرتے وقت زیادہ ہجوم سے بچا جائے  اور بے شک طواف کے پرہجوم چکر سے باہر طواف کیا جائے اور کانچ کی چوڑیاں اُتار کر طواف کیا جائے تا کہ ٹوٹ کر لوگوں کے پائوں زخمی نہ کریں۔

بعض خواتین یہ خیال کرتی ہیں کہ سر کے بالوں پر جو سکارف یا رومال باندھا جاتا ہے وہ عورتوں کا احرام ہوتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں ۔  خاتون  کیلئے عدت چاہے موت کی ہو یا طلاق کی ،  عدت کے ایام میں حج نہیں کرنا چاہئیے۔ حج تو ہو جاتا ہے لیکن کرنے والی گنہگار ہو گی۔ ناپاکی کی حالت میں احرام باندھنے سے پہلے غسل کرنا صفائی  کے لئے ہوتا ہے جو بوقت ضرورت نوجوان خواتین کو ضرور کرنا چاہئیے۔ غسل کا موقع نہ ملے تو صرف وضو کر لینا ہی کافی ہو جاتا ہے۔ باجماعت نماز پڑھتے وقت عورتیں مردوں کے آگے صف نہ بنائیں بلکہ  مردوں کی صف سے پیچھے عورتوں کی علیحٰدہ صف بنا کر نماز پڑھیں۔خاص  ایامِ  میں عورتیں نہ فرض نماز پڑھیں اور نہ نوافل ادا کریں۔ عمرہ اور حج کی نیت کرتے وقت جب باقی خواتین نفل پڑھ کر نیت کریں تو ایام والی خواتین نفل پڑھے بغیر عمرہ یا حج کی نیت کر لیں۔ البتہ حرمین شریفین میں اس وقت داخل ہوں جب پاک ہو جائیں۔ اگر عمرہ کا احرام ہو تو چند دن انتظار کریں جب ایام سے فارغ ہو جائیں ۔

 معلم کے پروگرام کے مطابق احرام کی حالت میں ہی مدینہ پاک دوسری عورتوں کے ساتھ چلا جانا چاہئیے۔ دو چار دنوں کے بعد جب فارغ ہو جائیں تو مذکورہ طریقہ سے نہا کر مسجدِ نبوی میں نمازیں پڑھنی شروع کر دیں اور  درود و سلام پڑھیں ۔  آٹھ دن مدینہ پاک میں گزارنے کے بعد جب مکہ کے لئے روانگی ہو گی تو دوسری خواتین ذوالحلیفہ جِسے بئیر علی بھی کہتے ہیں عمرہ کے لئے دوبارہ احرام باندھیں گی لیکن حائضہ خواتین کے لئے پہلا احرام ہی کافی ہو گا۔ سب کے ساتھ تلبیہ پڑھتی ہوئی مکہ پہنچ کر عمرہ ادا کریں اور جو پہلا عمرہ نہیں کر سکی تھیں اس کے لئے مسجدِ عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کریں۔ عمرہ کے احرام میں اگر حج سے چند دن پہلے مکہ پہنچیں اور ایام سے فارغ نہ ہونے کی وجہ سے عمرہ نہ کر سکیں تو عمرہ کے احرام کو حج کے احرام سے تبدیل کر لیں۔ حج کے پانچ ایام کے دوران جب فارغ ہو جائیں تو مذکورہ طریقہ سے معمول کا غسل کر کے نمازوں سمیت تمام افعال حج ادا کریں جس میں طواف زیارت بھی شامل ہے۔ عورتوں نے عمرہ کرنے کے بعد اور قربانی دینے کے بعد بالوں کا قصر کرنا/ کرانا ہوتا ہے۔ پورے سر کے بال جہاں ختم ہوتے ہیں جسے پنجابی میں گُت کہتے ہیں ان کو پکڑ کر تقریباً  ڈیڑھ انچ بال کاٹ لیں یا کٹوا لیں۔  اس کے بعد احرام کی پابندیاں تو ختم ہو جاتی ہیں۔ اضطباع یعنی دایاں کندھا ننگا رکھنا اور رمل  صرف مردوں کے لئے سُنت ہیں عورتوں کے لئے کرنا جائز نہیں ۔

میقات سے باہر رہنے والوں کو آفاقی کہتے ہیں جیسے پاکستانی اور بنگلہ دیش وغیرہ ۔ حج کی تین قسمیں ہیں۔ حجِ افراد۔ حج قران اور حج تمتع۔ آفاقی ان میں سے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ حج افراد عموماً میقات کے اندر رہنے والی خواتین کرتی ہیں اور حج تمتع اور حج قران وہ نہیں کر سکتیں۔ جبکہ آفاقی خواتین جو حج بدل کرنا چاہیں انہیں حج افراد کرنا چاہئیے۔ حج افراد والی خواتین حج کے ساتھ عمرہ نہیں ملا سکتیں۔ احرام باندھنے کے مقام سے احرام باندھ کر صرف حج کی نیت کرتی ہیں۔ ان کا طواف طوافِ قدوم کہلاتا ہے۔ ان پر قربانی واجب نہیں ہوتی۔ باقی طریقہ حج قران اور تمتع سے ملتا جلتا ہے۔ حج قران والی خواتین احرام باندھنے کے مقام سے احرام باندھ کر عمرہ اور حج دونوں کی اکٹھی نیت کر کے پہلے عمرہ کر کے احرام نہیں کھولتیں اور اسی احرام میں حج کے مناسک اور افعال ادا کرتی ہیں۔ البتہ 8ذوالحجہ سے پہلے وہ طوافِ قدوم کر کے منیٰ جاتی ہیں۔  پاکستانی خواتین کی اکثریت حج تمتع کرنا پسند کرتی ہے۔ خاوندوں کے ساتھ حج کرنے والی خواتین کی تعداد کم اور محرموں کے ساتھ حج کرنے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اور ان میں سے نوجوان خواتین کی تعداد نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ جن کو کچھ مسائل پیش آنا قدرتی امر ہوتا ہے۔ جبکہ زیادہ عمر کی عورتوں کو وہ مسائل در پیش نہیں ہوتے۔

حاجی کیمپوں میں وزارتِ مذہبی امور کی مقرر کردہ لیڈی ماسٹر ٹرینرز سے ایسے مسائل پوچھے جا سکتے ہیں جو حاجی کیمپ کے شیڈول کے تحت مختلف مقامات کے علاوہ حاجی کیمپوں میں عورتوں کی تربیت کے لئے موجود ہوتی ہیں۔ حج کی کتابوں میں عورتوں کے جو مسائل لکھے گئے ہیں ان سے پوری آگاہی نہیں ہو پاتی۔ حج کرنے کا طریقہ مردوں اور عورتوں کا ایک جیسا ہے۔ البتہ حج کے دو واجبات میں عورتوں کو استثنیٰ یا رعائیت دی گئی ہے۔ ایک وقوفِ مزدلفہ اور دوسرا طوافِ وداع اور تیسرا طوافِ زیارت 12 ذوالحجہ کے بعد بغیر جرمانہ کے کرنے کی اجازت۔ وقوفِ مزدلفہ اور طوافِ وداع حج کے واجبات میں سے ہیں۔ عام حالات میں ان کی عدم ادائیگی سے ایک بکرا بطورِ دم ذبح کرانا پڑتا ہے۔ عورتیں صبح صادق سے پہلے وقوفِ مزدلفہ چھوڑ کر منیٰ جا سکتی ہیں ان پر کوئی دم نہیں ہو گا۔ طوافِ وداع کے موقع پر خواتین اگر  ایام سے ہو جائیں ان سے طوافِ وداع کا واجب ساقط ہو جاتا ہے۔ یعنی بغیر طوافِ وداع کے وہ مکہ سے رخصت ہو سکتی ہیں۔ عام حالات میں طوافِ زیارت 12 ذوالحجہ کے بعد کرنے سے دم بھی دینا پڑتا ہے لیکن حائضہ خواتین عذر کی وجہ سے ایامِ نحر یعنی 12 ذوالحجہ کے بعد بھی طوافِ زیارت کر سکتی ہیں اور انہیں تاخیر کا دم نہیں دینا پڑے گا۔ البتہ شیطانوں کو کنکریاں مارنے میں کوئی چھوٹ نہیں ہے چاہے عام حالت میں ہوں یا ایام کی حالت میں ہوں۔ صرف وہ خواتین دوسروں سے کنکریاں مروا سکتی ہیں جو خود چل کر شیطانوں تک نہ جا سکتی ہوں اور کھڑی ہو کر نماز نہ پڑھ سکتی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں