243

ایٹمی حملے کی صورت میں اپنی جان کیسے بچائی جائے؟ایٹمی حملے کی کیانشانیاں ہیں؟یہ معلومات ضرورپڑھیں

آج کے دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وہ ہے ایک ایٹمی حملہ،اگر آپ کے شہر پر ایٹم بم گرا دیا جائے تو بھی آپ زندہ بچ سکتے ہیں۔مگرکیسے؟

جانیئے اس تحریر میں…

ایٹمی حملے کا خطرہ کہاں ہے؟

دنیا میں اس وقت 20000 کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔جن ممالک میں ایٹمی حملے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے وہ یہ ہیں۔
جنوبی کوریا
شمالی کوریا
پاکستان
بھارت
اسرائیل
ایران

اس کے علاوہ روس و امریکہ بھی ایٹمی جنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ملک کا دارالحکومت، اہم فوجی چھاونیاں، اہم شہر اور ‘زیادہ آبادی والے علاقے’ ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ ہوتے ہیں۔

حالات حاظرہ پر گہری نظر رکھیں۔

ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے۔اپنے ملک اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکھیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکھیں۔

محفوظ پناہ گاہ۔

آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مضبوط اور محفوظ پناہ گاہ موجود ہو۔

بہترین پناہ گاہ زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی۔زمین پر بھی پناہ گاہ بنائی جاسکتی ہے تاہم وہ تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی، زمین پر بنائی جانے والی پناہ گاہ عمارتی پتھروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ کا استعمال کرنا ہوتو پھر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں.

ضروری سامان۔

اپنی پناہ گاہ میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکھیں جو کم سے کم 2 سے 3 ہفتوں کے لیے کافی ہو.

سامان کی تفصیل:

الف،ٹن پیک کھانا جس میں گوشت کا کوئی آئیٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں، پھل اور بینز وغیرہ ہوں تاکہ فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے.

2 ۔ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں.

3 ۔پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیرہ کے کام آئے گا.

4 ۔ایک ریڈیو.(یاد رکھیں آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جھٹکے کے بعد ناکارہ ہوجائے گا).

5 ۔کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا.

6 ۔ کتابیں، جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی.

7 ۔فرسٹ ایڈ کٹ

8 ۔ادویات جن میں بخار، سردرد، جسم درد کی گولیاں، سلیپنگ پلز

9 ۔بیٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام

10 ۔ ٹارچ

11 ۔پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں ۔(یہ دھماکے کے اول دن استمال کریں). اس کے علاوہ پینسلین پوٹاشیم اور سیفیٹک اینٹیسیپٹک سپرے.

اگر ایٹمی حملہ ہوجائے؟

کسی بھی حادثے یا حملے کی صورت میں زندہ بچ جانے کا پہلا اصول اپنے ہوش و حواس کو قابو اور دماغ کو حاضر رکھنا ہے.

ایٹمی حملہ ہونے کے ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فورا ”مشروم” کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھویں کا طوفان نظر آئے گا. فورا سمجھ جائیے کہ یہ ایٹمی حملہ ہے.

اب بچنے کی جدوجہد شروع کیجئے۔

ایٹمی تباہی کے تین مراحل ہیں،
1. ابتدائی دھماکہ.
2. فال آوٹ
3. تابکار طوفان

اگر تو ایٹمی وار ہیڈ آپ کی لوکیشن کے ‘ڈیڈھ میل’ کے اندر اندر گرایا گیا ہے تو فورا کلمہ پڑھ لیں اور بیٹھے ہیں تو کھڑے ہوجائیں، اگلے ‘تین سیکنڈز’ کے اندر اندر آپ کا وجود بھاپ بن کے اڑ جائے گا.

اگر ایٹمی حملے کے لوکیشن سے ڈیرڈھ میل دور ہے تو آپ بچ سکتے ہیں.

پہلا دھماکہ سنائی دینے کے بعد آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ’5 سیکنڈز’ ہیں. دھماکے کی مخالف سمت میں کسی بھی ٹھوس چیز، دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں، زمین پر الٹا لیٹ جائیں، اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے کانوں کو ڈھانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں. اسی دوران آپ کو ‘ایک اور زور دار دھماکہ’ سنائی دے گا جو کے پہلے دھماکے سے سو گنا زیادہ طاقتور ہوگا اور شدید زلزلہ پیدا کرے گا. مبارک ہو! آپ ابتدائی دھماکے سے بچ نکلے.

دوسرا دھماکہ سنائے دینے کے دو سے تین سیکنڈ بعد اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی پناہ گاہ کی طرف بھاگیں.

1 ۔فال آوٹ:
پہلے دھماکے میں نا صرف سینکڑوں عمارات دھواں بن کے اڑ جائیں گیں بلکہ ان کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بھرے ”الفا پارٹیکلز” کی بارش بھی شروع ہوجائے گی. دھماکے کی طرف ہرگز مت مڑکے دیکھیں. اور فال آوٹ میں گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشس کریں.

اگر آپ صحیح سلامت پناہ گاہ تک پہنچ گئے تو مبارک ہو! آپ فال آوٹ سے بچ نکلے.

پناہ گاہ میں داخل ہوتے ہی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ فال آوٹ کے دوران یہ بڑی مقدار میں ”الفا پارٹیکلز” چوس چکا ہوگا. اس کے بعد اگر آپ زخمی ہیں تو خود ابتدائی طبی امداد لیں اگر صحیح سلامت ہیں تو غسل کرلیں تاکہ فال آوٹ کے بچے کچھ اثرات سے ہرممکن حد تک بچا جاسکے.

اب زمین پر ہر طرف تابکاری کا طوفان ہے اور آپ کو پناہ گاہ میں کئی دن تک رہنا ہے.

یاد رکھیں۔
1 ۔کم سے کم کھائیں.

2 ۔جتنا ممکن ہوسکے سو کر وقت گزاریں

3 ۔ریڈیو سنتے رہیں اور باہر کے حالات سے باخبر رہیں
4 ۔اپنی ہمت بحال رکھیں۔

5 ۔ اگلے چند دن میں آپ ‘ریڈیو ایکٹوسکنس’ کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں آپ کو تیز بخار، گھٹن، الٹیاں ہوسکتی ہیں. اپنے پاس موجود ادویات کو استعمال کریں.

دھماکے کے زیادہ سے زیادہ 5 دنوں بعد امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے آپ کے علاقے میں پہنچ جائیں گے. ریڈیو سنتے رہیں، جب آپ کو یقین ہوجائے کے آپ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو باہر نکل کر قریب ترین امدادی کارکن سے فوری رابطہ کریں تاکہ آپ کو تابکاری کے علاقے سے فوری طور پر نکالا جاسکے.

اگر تو کوئی امدادی ٹیم آپ تک نا پہنچ سکے تو بیس دن بعد پناہ گاہ سے نکلیں. اب تک تابکاری کا طوفان تھم چکا ہوگا.

زندگی کی طرف سفر۔
پناہ گاہ سے نکلتے ہی ممکن ہے آپ کو پہلا احساس یہی ہو کہ لاکھوں میں سے صرف آپ ہی زندہ بچے ہیں. اب جس قدر جلدی ممکن ہو علاقہ چھوڑدیں.

”معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچائیے۔ جزاک اللہ خیر”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں