آزادجموں وکشمیرپونیورسٹی مظفرآبادکے حوالے سے اہم خبر،یونیورسٹی طلبہ کی FIR کے حوالے سے اہم فیصلہ کرلیاگیا

مظفرآباد ( اے جے کے نیوز) آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق 8اکتوبر 2005ء کے زلزلہ کے بعد مظفرآباد میں ماسٹر پلان کے مطابق یونیورسٹی کے ڈین ہاؤس کی جگہ مٹن مارکیٹ تعمیر کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نو تعمیر شدہ مٹن مارکیٹ کا زیاد ہ حصہ یونیورسٹی ڈین ہاؤس پر مشتمل تھا۔ لہذا جامعہ نے اپنی جگہ یونیورسٹی کے حوالے کیے جانے سے متعلق اصرار کیا ۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی اتھارٹیز گورنمنٹ آفیشلز، بلدیہ مظفرآباد اور ترقیاتی ادارہ کے حکام کی آپس میں متعددمیٹنگ ہوتی رہیں۔ بالاخر حکومتی قائم کردہ کمیٹی، جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل ، ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، کمشنر مظفرآباد ڈویژن ، رجسٹرار آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی ، ڈائریکٹر اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی مظفرآباد اور ڈائریکٹر اسٹیٹ آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی کا ایک اجلاس مورخہ 25فروری 2015کو منعقد ہوا ۔ جس میں طے پایا کہ سابقہ ڈین ہاؤس پر تعمیر پارکنگ پلازہ کو یونیورسٹی پارکنگ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ مذکورہ فیصلے کی باضابطہ گورنمنٹ نوٹیفکیشن مورخہ 06اپریل 2015کو سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن سے جاری ہوئی ۔مگر اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور بیسمنٹ پر موجود پارکنگ ایریا کو یونیورسٹی کے حوالے نہ کیا جا سکا۔ یونیورسٹی کے سٹی کیمپس میں اس وقت قریباً 6ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اس کے علاوہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان طلبہ ، ملازمین اور اساتذہ کو پارکنگ کے لیے شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے اور سٹوڈنٹس کو موٹرسائیکلز بھی چوری ہونے کی شکایات تھیں۔ اس سلسلہ میں طلبہ نے متعدد مرتبہ احتجاج بھی کیا ، جس پر ضلعی انتظامیہ نے مذکورہ جگہ کو یونیورسٹی کے حوالے کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔مگر اس یقین دہانی پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کی بنا پرطلبہ نے سٹی کیمپس کے باہر مورخہ 30جنوری 2019کو احتجاج کیا۔جس کے بعد ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی اور یونیورسٹی میں تدریسی عمل موخر کرنا پڑااور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے وائس چانسلر جامعہ کشمیر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس میں ڈین فیکلٹی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد قیوم خان، ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل ،رجسٹرار جامعہ پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ،سابقہ ڈین آرٹس پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیدر بخاری، ڈائر یکٹر فنانس پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق اعوان، ڈائر یکٹر امور طلبہ پروفیسر عامر فاروق، ڈائریکٹر ورکس حافظ روشن دین اور شعبہ سٹیٹ سے خواجہ جاوید احمد شامل تھے۔کمیٹی نے کمشنر مظفرآباد ڈویژن، ڈپٹی کمشنر بدرمنیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عاصم خالد اعوان، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ خواجہ اعظم رسول سے مٹن مارکیٹ میں یونیورسٹی کی جگہ ، احتجاج کرنے والے طلبہ پر قائم مقدمات کے خاتمے پر مذاکرات کیئے ، مذاکرات میں ضلعی انتظامیہ نے یونیورسٹی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے مٹن مارکیٹ کی پارکنگ پر یونیورسٹی کاحق تسلیم کر لیا ہے اور کمشنر آفس سے نوٹیفکیشن نمبر 442-50مورخہ 8فروری 2019کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مٹن مارکیٹ کی بیسمنٹ پر موجود قریباً دو کنال ایریا پر یونیورسٹی کا حق ملکیت تسلیم کرتے ہوئے اس جگہ کو یونیورسٹی کے حوالے کر دیا گیا اوراس کے علاوہ 30جنوری کو سٹی کیمپس کے باہر احتجاج کرنے والے طلبہ پر درج ایف آئی آر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کو پارکنگ ایریا واپس دلانے اور طلبہ پر ایف آئی آر ختم کرانے کیلئے کمشنر مظفرآباد ڈویژن، ڈپٹی کمشنر ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر،ایڈمنسٹریٹر بلدیہ کا کردار مثالی رہا۔کامیاب مذاکرات کے بعدجہاں طلبہ کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہواوہاں پرامن ماحول میں جامعہ کشمیر میں تدریسی عمل کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ یونیورسٹی حکام نے اس معاملہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے پر کمشنر مظفرآباد ڈویژن، ڈپٹی کمشنرمظفرآباد، میونسپل کارپوریشن اور ترقیاتی ادارہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں