سکندرحیات کامسلم کانفرنس سے ہاتھ ملانے کاعندیہ،آج کی اسمبلی میں 17 ممبران اسمبلی میرے ساتھ وزیررہیں،یوسف ملک کی حیثیت ٹوڈری سے زیادہ نہیں،مشتاق منہاس میری وجہ سے الیکشن جیتے

کوٹلی(اے جے کے نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئرنائب،سابق وزیراعظم وسابق صدرآزادکشمیرسردار سکندرحیات خان نے کہاہے کہ فاروق حیدرنے اپنی روش نہ بدلی توحکومت کامدت پوری کرناممکن نہ رہے گا۔سیاست میں کچھ بھی حرف آخرنہیں ہوتا،مسلم کانفرنس سے بھی ہاتھ ملایاجاسکتاہے،میں نے اورسردار عبدالقیوم خان نے اختلافات کے باوجودجماعت قائم رکھی مگرجب صدارت سردارعتیق خان کوملی توانہوں نے جماعت ہی توڑدی۔طارق فارق کل ملنے آرہے ہیں،ان سے ملاقات کے بعدہی مستقبل کالائحہ عمل بنائیں گے۔مشتاق منہاس کایہ کہناہے کہ مجھے نوازشریف جانتے ہی نہیں اس کاجواب ریاست کی عوام دینگے۔مجھے تواتنامعلوم ہے کہ مشتاق منہاس ممبراسمبلی بھی نہیں بن سکتے تھے اگران کے حلقہ انتخاب کے علاقے تُھب میں بسنے والی تھکیال برادری نے میرے کہنے پرانہیں ووٹ نہ دیے ہوتے۔راجہ نصیرکہتے ہیں کہ میرے پاس سرکاری گاڑی ہے،میرے پاس گاڑی کیونکہ سابق وزیراعظم کااستحقاق ہے جوایکٹ میں درج ہے،حکومت ایساکرے وہ گاڑی واپس لے جائے۔ملک نوازخان میری عیادت کرنے آئے تھے،سیاسی معاملات بھی زیربحث آئے۔ملک نوازخان نے ہمیشہ برخوداری کامظاہرہ کیا۔میں سمجھتاہوں کہ ملک نوازسیانے سیاسی کارکن اور ہمدردانسان ہیں۔ان کاخیالات کااظہارانہوں نے اپنی رہائشگاہ پرپارٹی کارکنوں اورنجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔سالارجمہوریت کاکہناتھاکہ آج کی قانون سازاسمبلی میں 17 سے زائدایسے ممبران اسمبلی ہیں جو میرے ساتھ وزیررہے،یہ لوگ (س)اور(ق)کی تقسیم کی دوران میرے ساتھ (س)گروپ میں تھے اورمیں نے ان لوگوں کومسلم لیگ ن کامضبوط پارٹی پلیٹ فارم مہیاکرکے ان کی سیاست کومحفوظ بنانے کی اپنی یہ ذمہ داری بھی پوری کی تھی۔مجھے خوشی ہے کہ میرے ساتھ چلنے والے ممبران اسمبلی ہوں یاپارٹی کارکنان ہمیشہ ان کی عزت افزائی کی اورانہیں وہ مقام دیاجس کے وہ قابل تھے۔میں آج بھی یہ چاہتاہوں کہ مسلم لیگ ن کے صدراپنی ممبران اسمبلی اورپارٹی کارکنان کووہی عزت دیں جس کے وہ حقدارہیں۔انہوں نے کہاکہ سیاست میں جتنامیراتجزیہ ہے شایدہی آزادکشمیرکے کسی سیاستدان کاہواسی لیے کیاہورہاہے اورکیاہونے والاہے مجھے گھربیٹھے سب پتالگ جاتاہے جیسے محکمہ موسمیات والوں کوپتانہیں لگ جاتاہے کہ کب اورکس دن بارش ہوگی۔انہوں نے کہاکہ مجھے جونظرآرہاہے اس کے مطابق حالات ٹھیک نہیں ہیں۔فاروق حیدرنے اپنی روش نہ بدلی توحکومت پورے کرے گی نہ ہی آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کاکوئی کامیابی حاصل ہوگی۔سالارجمہوریت کاکہناتھاکہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخرنہیں ہوتا،مجھے نہیں پتاکون کس سے ملے گا؟تاہم مسلم کانفرنس کوئی غیرجماعت نہیں ہے،میرے والدمسلم کانفرنس بنانے والوں میں سے ہیں،ایساہوسکتاہے کہ مستقبل میں مسلم کانفرنس سے بھی ہاتھ ملالیاجائے۔میں نے سردارعبدالقیوم خان سے اختلافات کے باوجودجماعت ٹوٹنے نہیں۔س،ق بناکرالگ ہوگئے اورپھرآپس میں مل بھی گئے لیکن جب جماعت سردارعتیق احمدخان کے حوالے ہوئی توانہوں نے مسلم کانفرنس تباہ اورتوڑکررکھ دی۔ایسے ہی میں سمجھتاہوں کہ راجہ فاروق حیدرخان اوران کے ساتھیوں (نام نہیں لیتا)کی طرف سے اپناطریقہ کارنہ بدلنے کی صورت میں مسلم لیگ ن آزادکشمیرکوبھی نقصان ہوسکتاہے جومیں نہیں چاہتاکیونکہ جماعت کونقصان ہواتویہ ان لوگوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی جنہوں نے مسلم لیگ ن بنائی۔سابق وزیراعظم آزادکشمیرسردارسکندرحیات سے رہائشگاہ پرموجودمسلم لیگ ن ضلع کوٹلی کے جنرل سیکرٹری خورشیدقادری ایڈووکیٹ نے گلہ کیاکہ کل ہم آپ کوکہہ رہے تھے کہ یوسف ملک کوجماعت میں نہ لیں مگرآپ نے ہماری اس وقت ایک بات نہ مانی،آج آپ نے دیکھ لیاکہ وہی یوسف ملک اپنے ساتھیوں سمیت آپ کی کردارکشی کررہاہے۔سالارجمہوریت نے جواب دیاکہ جہاں تک کردارکشی کی بات ہے توایسے لوگوں کی اہمیت وحیثیت نہیں کہ اس کاجواب دیاجائے اورجہاں تک بات رہی یوسف کوآپ کارکنوں کی مخالفت کے باوجودجماعت میں شامل کرنے کی تواس کاجواب یہ ہے کہ چاول پکاکرہی چھکے جاتے ہیں،میں نے چھک لیااوراس نتیجے پرپہنچاہوں کہ یہ لوگ مرغی کاآخری حصہ جسے ٹوڈری کہتے ہیں اورآپ جانتے ہونگے کہ ٹوڈری کومرغی کاعضونہیں سمجھاجاتااسی لیے گوشت سے باہرپھینک دیاجاتاہے۔یوسف ملک جس بھی جماعت یاگروپ میں جائیں گے ان کی حیثیت ٹوڈری سے زیادہ نہیں ہوگی اورانہیں ماضی میں بھی باہرپھینکاجاتارہاہے اورمستقبل میں بھی انکاحشریہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں