آزادکشمیرکے وزیربرس پڑیں،شاہ غلام قادراوردیگربازرہیں،سردارسکندرحیات کیلئے سازشوں کاگڑھ بننامناسب نہیں،شاہ غلام قادرپارٹی صدارت کے خواب دیکھنا چھوڑدیں،سوشل میڈیاکارکنان کان لیگ سے کوئی تعلق نہیں

ہٹیاں بالا(اے جے کے نیوز)حکومت گرانے کی سازش کرنے والے اور پارٹی صدارت کے خواہشمند پارلیمانی پارٹی کا رُخ کریں افواہیں پھیلا کر حکومت کو گرایا نہیں جا سکتا ہے پچانوے فیصد اراکین پارلیمانی پارٹی کا اعتماد صدر جماعت ووزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کو حاصل ہے میں فاروق حیدر خان کا رائٹ ہینڈ اور بیرسٹر افتخار گیلانی لیفٹ ہینڈ ہیں کارکنان کے گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں دو چار وزراء کا اختلافی موقف سامنے آیا ہے جو بیورو کریسی کی وجہ سے ہے منحرف وزراء کے ساتھ بات چیت مکمل ہو چکی ہے آئندہ دو دنوں میں معاملات پارلیمانی پارٹی کے اندر طے ہو جائیں گے اعتراضات اور سفارشات پارلیمانی کمیٹی میں رکھی جائیں اور جمہوری طرز عمل اپناتے ہوئے گھر کے معاملات گھر کی چار دیواری کے اندر ہی حل ہونگے ختم نبوت کا بل ، آزاد اور بااختیار پبلک سروس کمیشن کا قیام ،میرٹ کی بالادستی کے لیے این ٹی ایس کا نفاذ ریاست کے معاملات با اختیار بنانے کے لیے تیرویں آئینی ترمیم بجٹ میں دوگنا اضافہ کچھ کو ہضم نہیں ہو رہا اور وہ سازشوں میں مصروف ہیں جن کے عزائم کبھی بھی پورے نہیں ہونگے ان خیالات کا اظہار وزیر سماجی بہبود و ٹیوٹا ،آئی ٹی انفارمیشن ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نے کارکنان مسلم لیگ ن کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عدم اعتماد نہیں آنی پارلیمانی پارٹی کی فاروق حیدر کو حمایت حاصل ہے ہمیشہ فاروق حیدر کے ساتھ کھڑا رہوں گا شاہ غلام قادر اور دیگر باز رہیں اور شاہ غلام قادر پارٹی صدرارت کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں نظریاتی پارٹی ڈسپلن پر کاربند اور عوامی طاقت رکھنے والے کارکنان ہی ایڈجسٹ ہونگے اور ان کے زریعے عوامی مسائل حل کریں گے سوشل میڈیا کارکنان کا مسلم لیگ ن سے کوئی تعلق نہیں یہ مسلم لیگ ن کے کارکنا ن ہر گز نہیں ہو سکتے اور ان کے لیے مسلم لیگ ن میں کوئی جگہ نہیں کارکن وہی لیڈر ہے جس کی اپنی وارڈ میں سیاسی حثییت ہے فیس بُکی کارکن مسلم لیگ ن کے لیڈر بننے کی کوشش نہ کریں جن جن کو حکومت آزاد کشمیر وزیر اعظم سے اختلاف ہے وہ پہلے حکومتی عہدوں سے استعفی دیں اور پارلیمانی پارٹی کا رُخ کریں وزیر اعظم کے ساتھ منسلک دو تین بیورو کریٹس اور آزاد کشمیر کے دس اضلاع میں مرضی کے ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی پر اختلافات کی آڑ میں حکومت گرانے کی سازشیں کرنے والے کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے وزیر اعظم ریاست کے وزیر اعظم ہیں حلقہ پانچ کے نہیں کارکنان مسلم لیگ ن حلقہ پانچ ان کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے جب بھی انتخابات ہوئے تو حلقہ پانچ سے راجہ محمد فاروق حیدر خان ہی کامیاب ہونگے کیونکہ ان کا نعم البدل کوئی نہیں مسلم کانفرنس ،پی پی پی ،اور پی ٹی آئی کو بخوبی علم ہے کہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے اور تحریک کو کامیاب کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو اہداف آئین میں طے ہیں وہ کسی کے پاس پورے نہیں پانچ اور سات کے ٹولہ سے بیس ووٹ لینا بھی مشکل ہیں تبدیلی کی گاڑی کے پیچھے اناڑی بھاگ رہے ہیں جن کو معلوم نہیں کہ اناڑی ڈرائیور ایکسیڈنٹ کر دے گا اور کوئی بھی نہیں بچے گا تعمیراتی سیکمیوں میں کوئی کرپشن نہیں ہونے دوں گا بارہ تیرہ کروڑ کا گھپلا چیک کیا جارہا ہے کسی سیاسی کھڑپینچ کو فنڈز ہضم نہیں کرنے دیں گے آزاد کشمیر میں تعمیراتی بجٹ چالیس فیصد ہے اور نارمل میزانیہ کا بجٹ ساٹھ فیصد ہے جبکہ گلگت بلتسان میں تعمیراتی بجٹ ساٹھ فیصد اور نارمل میزانیہ کا بجٹ چالیس فیصد ہے یہاں الٹی گنگا بہنے سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مشکلات کھڑی کی گئی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شلٹر لیس تعلیمی ادارہ جات کی عمارتیں تعمیر نہیں ہو پا رہی سالانہ دو سے اڑھائی ارب روپے کے اضافہ کے باعث شلٹر لیس تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر ممکن ہے سردار سکندر حیات خان قابل عزت اور قابل احترام ہیں اور عمر کے اس حصہ میں ہیں کہ ان کے لیے بیان بازی کرنا اور سازشوں کا گڑھ بننا مناسب نہیں مسلم لیگ ن کے اندورنی معاملات کو جماعت کے اندر حل کیا جانا ضروری ہے مسلم لیگ ن کی اندرونی لڑائی میں پی پی ،مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی کی شمولیت کوئی جوازیت نہیں رکھتی اور نہ ہی وہ اس کھیل کا حصہ بنیں گے عدم اعتماد کے لیے کارکن نہیں ایم ایل ایز کی ضرورت ہے جس کے پاس مطلوبہ فیگر ہیں وہ شوق پورا کر لیں تبدیلی والے بھی تبدیلی سے پرے ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے لیپاء ٹنل لے لیے آواز بلند کی تو میرا نام ڈاکٹر ٹنل کے نام سے مشہور کیا گیا لیپہ کے عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کروں گا اور کرتا رہوں گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں