244

ایس ایچ اوبھمبرسے ہماراچیک واپس دلوایاجائے،12 گھنٹے تک غیرقانونی طورپرنظربندرکھاگیا،ناصربٹ کے الفاظ کی تائیدایس ایچ اونے کی،اسلام گڑھ کے رہائشی پولیس اوربااثرشخصیات کیخلاف پھٹ پڑے

اسلام گڑھ(راجہ کامران حسین سے)تھانہ سٹی بھمبر کی حدود میں اسلام گڑھ کے رہائشی محمد یامین کو یرغمال بنانے والوں کے خلاف ورثاء کی ایوان صحافت اسلام گڑھ میں پریس کانفرنس ،SHOکی طرف سے اغوا کاروں کی پشت پناہی ،بازیابی کیلئے درخواست گزاروں کو تھانہ میں 12گھنٹے تک غیرقانونی طور پر نظر بند رکھنے اور سنیئر سول جج میرپور کی عدالت سے لین دین کے کیس میں جاری شدہ حکم امتناہی کی نقل پیش کرنے کے باوجود زبردستی معاہدہ لکھوا کر توہین عدالت کا ارتکاب کیا گیا۔ڈی آئی جی پولیس میرپور ،آئی جی آزادکشمیر ،سنیئر سول جج میرپور اور دیگر متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق محمد یٰسین ،محمد یامین ،ندیم صادق پسران محمد صادق ،محمود پرویز ،جاوید اقبال پسران محمد حسین ساکنان پیپلز کالونی اسلام گڑھ نے چنار پریس کلب اسلام گڑھ میں پریس کانفرنس کی ۔پریس کانفرنس میں محمد یٰسین نے صحافیوں کو بتایا کہ سائل پیپلز کالونی اسلام گڑھ کا رہائشی و سکونتی ہے۔ سائل کے بھائی نعیم صادق ولد محمد صادق کا باؤ خورشید ولد محمد شفیع ساکن بھمبر اورمحمد راشد ولد نامعلوم وغیرہ کے ساتھ گاڑیوں کا لین دین ہے جس کا کیس بعدالت جناب سینئر سول جج ضلع میرپور میں زیر سماعت ہے جہاں سے حکم امتناعی جاری ہے اور مورخہ15 فروری 2019 آئندہ تاریخ پیشی مقرر ہے۔مورخہ 4 فروری 2019 ء بروز منگل بوقت تقریباً 2 بجے دن میرا حقیقی بھائی محمد یامین ولد محمد صادق کو باؤ خورشید وغیرہ نے لین دین کی بابت بات کرنے کے لیے بھمبر بلایا اور وہاں پہنچنے پر اس سے دو عددموبائل فون ،اور ایک عدد Blank Cheque چھین لیا۔اور زبر دستی وہاں بٹھا لیااور وہاں پر موجود باؤ خورشید کے ساتھ دیگر ساتھی نصراللہ وغیرہ نے میرے بھائی کو گالیاں دیتے رہے اور کہاکہ جب تک تمہارے وارث ہماری رقم ادا نہیں کریں گے تم یہاں سے نہیں جاسکتے۔اور باؤ خورشید نے سائل کو بذریعہ فون کہا کہ ہماری رقم لے کر آؤ اور اپنے بھائی کو لے جاؤ۔سائل کو میرے بھائی محمد یامین نے فون پر کہا کہ مجھے ان لوگوں نے زبردستی کسی نامعلوم مقام پر رکھا ہوا ہے آپ فوراً رقم کا بندوبست کریں اور مجھے یہاں سے لیکر جائیں۔ جس پر سائل نے مورخہ 4-02-2019 رات تقریبا 12 بجے تھانہ اسلام گڑھ میں اپنے بھائی کے اغواء کی درخواست دی ۔ تھانہ اسلام گڑھ میں درخواست دینے کی اطلاع ملنے پر باؤ خورشید وغیرہ میرے بھائی کو رات 12 بجے کے بعد تھانہ سٹی بھمبر میں لے کر گئے اور حوالات میں رکھنے کا کہامگر وہاں ڈیوٹی پر موجود سب انسپکٹر ارشد صاحب نے کہا کہ اس آدمی کا لین دین میں کوئی عمل دخل نہ ہے۔اس لیے ہم اسے تھانہ میں نہیں رکھ سکتے ۔ خود میرے بھائی محمد یامین نے سب انسپکٹر ارشد صاحب سے درخواست کی کہ آپ مجھے تھانہ میں رکھیں میرے گھر والے آرہے ہیں ان لوگوں کے ساتھ نہ بھیجیں ۔مگر انہوں نے کہا کہ آپ کا کیس پولیس سے متعلقہ نہ ہے۔اس لیے میں آپ کو تھانہ میں نہیں رکھ سکتا۔ جس پر وہ لوگ اسے واپس نامعلوم مقام پر لئے گئے۔میں نے مورخہ 5-02-2019 سٹی تھانہ بھمبر میں مذکورہ واقعہ کی بابت درخواست دی ۔میری درخواست پر باؤخورشید اور اس کے ساتھی میرے بھائی محمد یامین کو سٹی تھانہ بھمبر لے آئے اور تھانہ محررشہزاد صاحب اور دیگر افراد کے سامنے اور بعد میں SHO صاحب کے سامنے اقرار کیا کہ میں نے اس آدمی کو اپنے پاس” قابو ” کر کے رکھا ہوا تھااگر میں ایسا نہ کرتا تو آج میری گاڑی دوسری پارٹی نے پکڑ لینی تھی ۔اتنے میں ایک ناصر بٹ نامی شخص ہمراہ لاؤ لشکر تھانہ میںآیا کہ پوچھا کہ اسلام گڑھ گاڑی والے لوگ کون ہیں ۔اور کہا کہ جب تک یہ رقم نہ دیں یہ یہاں سے واپس نہیں جاسکتے ۔اورناصر بٹ کے الفاظ کی تائید SHO نے اس طرح کی کہ آپ لوگ لین دین کا معاملہ حل کریں ورنہ میں آپ سب کو نقص امن میں حوالات میں بند کردوں گا۔ جب میں اپنے ہمراہ جانے والے افراد کو کھانے کھلانے کے لیے تھانہ سے باہر جانے لگا تو گیٹ پر موجود گن مین نے کہاکہ آپ لوگ تھانہ کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے ۔جس پر معلوم ہوا کہ SHO صاحب نے عملاً ہمیں تھانہ مین نظر بند کر دیا ہے۔(تھانہ میں موجود CCTV کیمرہ سائلان کی نظر بندی کی تصدیق کریں گے) جس پر مجبوراً میں نے اورمیرے بھائیوں نے ان کی من پسند تحریر پر دستخط کرنے میں ہی عافیت سمجھی ۔اور رات 10 بجے تھانہ سٹی بھمبر سے باہر جانے کی اجازت ملی ۔ میرے بھائی کا لین دین کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ہم لوگ تو اپنے بھائی محمد یامین کو بازیاب کرانے کے لیے گئے تھے اور درخواست دینے پر ہمیں بھی تھانہ میں دن 10 بجے سے رات 10 بجے تک نظر بند کر دیا گیا۔ اور لین دین کے کیس میں حکم امتناعی کی نقل پیش کرنے کے باوجود جبراً نئی تحریر لکھوا کر دستخط کر وا لیے جو کہ سراسر غیر قانونی اور توہین عدالت ہے۔ ہمارے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی کئی ہے۔ خدارا SHO تھانہ سٹی بھمبر نثار یوسف صاحب سے ہمارا Blank Cheque واپس دلایا جائے ۔اور باو خورشید اور ان کے ساتھ دیگر 4 نامعلوم افراد کے خلاف سائل کو بھائی کو جبراً اغواء کرنے، حبس بے جا میں رکھنے ،اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے جرم میں قانونی کارروائی کی جائے ۔اور ناصر بٹ جیسے” گلو بٹو”کو کار سرکار میں مداخلت کرنے اور تھانہ میں موجود سائلین کو دھمکانے کے جرم میں پابند سلاسل کیا جائے ۔تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ تھانہ کو ناصر بٹ جیسے لوگ نہیں چلارہے بلکہ SHO جناب نثار یوسف صاحب چلا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں