502

کیاشوہراپنی بیوی کی میت کوغسل دے سکتاہے؟نیزبیوی کیلئے کیاحکم ہے؟

*ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بات صحیح اورکتاب و سنت سے ثابت ہو، عموماً اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، جبکہ اسکے برعکس خاندانی رسم و رواج اور خود ساختہ مسائل کو کہیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کوانتہائی معیوب گردانا جاتاہے*

*اسی قسم کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کی میّت کو ، یا شوہر اپنی بیوی کی میّت کونہ ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ غسل دے سکتا ہے اور نہ اسے قبر میں اتار سکتا ہے*

*اس کی بنیاد یہ گھڑی گئی ہے کہ موت سے شوہر اور بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوجاتے ہیں*

*حالانکہ متعدد احادیث و آثار سے ثابت ہےکہ زوجین میں سے ایک کی وفات کے بعد، ان میں سے زندہ شخص میّت کو ہاتھ لگانا اور دیکھنا تو درکنار، شوہر فوت شدہ بیوی کو اور بیوی فوت شدہ شوہر کو غسل تک دے سکتی ہے*

*درج ذیل احادیث ملاحظہ کریں:*

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں:
“ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے قریب بیٹھے تھے، تو میں نے دیکھا آپکی آنکھیں اشکبار تھیں”، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے آج رات جماع نہ کیا ہو؟) تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “میں ہوں!” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(تو تم اترو!) انس کہتے ہیں: تو ابو طلحہ آپکی صاحبزادی کی قبر میں اترے”
(صحیح بخاری: حدیث نمبر_ (1285)
مزید کیلئے دیکھیں: “أحكام الجنائز ”
از: شیخ البانی مسئلہ نمبر: (99 )

*اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غیر محرم آدمی بھی فوت شدہ عورت کو ہاتھ لگا سکتا ہے،جیسے ابو طلحہ رض نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کو قبر میں اتارا،تو جب غیر محرم مرد ،عورت کی میت کو ہاتھ لگا سکتا ہے تو شوہر بیوی کی میت کو ہاتھ کیوں نہیں لگا سکتا؟؟؟*

*اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت مروی ہے جس سے اس فعل کی شرعی حیثیت ثابت ہوجاتی ہے،*

 عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،
رجَع إليَّ رسولُ اللهِ ﷺ ذاتَ يومٍ مِن جِنازةٍ بالبقيعِ وأنا أجِدُ صُدَاعًا في رأسي وأنا أقولُ: وارَأْسَاه قال: (بل أنا يا عائشةُ وارَأْسَاه)ثمَّ قال: (وما ضرَّكِ لو مِتِّ قبْلي فغسَلْتُكِ وكفَّنْتُكِوصلَّيْتُ عليكِ ثمَّ دفَنْتُكِ)؟ قُلْتُ: لَكأنِّي بكَ أنْ لو فعَلْتَ ذلك قد رجَعْتَ إلى بيتي فأعرَسْتَ فيه ببعضِ نسائِك فتبسَّم رسولُ اللهِ ﷺ ثمَّ بُدِئ في وجَعِه الَّذي مات فيه
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کےرسول ﷺ جنت البقیع میں جنازہ سے فارغ ہوکر واپس لوٹے تو میرا سردرد کررہا تھا۔ اور اس وجہ سے میں’’ہائے میرا سر‘‘ کہہ رہی تھی۔ تو آپؐ نے فرمایا: بلکہ میں ہائے سر کہتا ہوں(یعنی میرا سر بھی درد کر رہا ہے)
’’، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوگئیں تو تمہیں کوئی ضرر نہیں، میں خود تمہیں غسل دوں گا ، کفن پہناؤں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھ کر خود تمہیں دفن کروں گا۔‘‘
(صحيح ابن حبان_حدیث نمبر_ 6586 • أخرجه في صحيحه • حدیث حسن
(الارواہ الغلیل،700)
(مسند احمد، ج6، ص228)
سنن ابن ماجہ،باب_ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها
باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے -حدیث نمبر-1465)
(نیل الاوطار:2؍58)

امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
اس حدیث کو امام دارمی، ابن حبان اور دارقطنی نےبھی روایت کیا ہے۔
اس حدیث کے متعلق امیرصنعانی سبل السلام ، شرح بلوغ المرام 2؍550 میں فرماتے ہیں:
’’وصححہ ابن حبان‘‘ کہ ’’اس حدیث کو امام ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘
نیز فرماتے ہیں:
’’فیه دلالة علیٰ أن للرجل ان یغسل زوجته وھو قول الجمہور وقال ابوحنیفة لا یغسلھا‘‘کہ ’’اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ مرد اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ یہی جمہور کا قول ہے،

عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں،
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، ( یہ سن کر ) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے،

*ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں:*
‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ:‏‏‏‏ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏مَا غَسَلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ
اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-3141)
(سنن ابن ماجہ/باب_ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها
باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے -حدیث نمبر: 1464)
(نیل الاوطار 2؍58)
امیر صنعائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ،
صححہ الحاکم‘‘ کہ ’’اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔‘‘
(سبل السلام 2؍550)
مزید علامہ البانی رحمہ اللہ سمیت متعدد محدثین کرام نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے،
مزید تخریج ملاحظہ فرمائیں،
(امام ابن عبدالبر (٤٦٤ هـ)، التمهيد ٢٤/٤٠٠ • صحيح)
(النووي (٦٧٦ هـ)، الخلاصة ٢/٩٣٤ • إسناده حسن)
(ابن كثير (٧٧٤ هـ)، إرشاد الفقيه ٢٢٢/١ • إسناده جيد قوي)
( •الألباني (١٤٢٠ هـ)، إرواء الغليل ٣/١٦٢ • إسناده حسن)
(البيهقي (٤٥٨ هـ)، دلائل النبوة ٧/٢٤٢ • إسناده صحيح [وله شاهد)

امام صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ویؤیده مارواء البیهقى من أن ابابکر اوصٰی إمرأته اسماء بنت عمیس أن تغسله و استعانت بعبد الرحمٰن بن عوف لضعفها ولم ینکر احد‘‘ (سبل السلام 2؍551)
’’اس مسئلہ کی تائید میں وہ روایت بھی ہے جسے امام بیہقی نےروایت کیا کہ :

 حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی بیوی حضرت اسماء بنت عیس ؓ کو وصیت کی تھی کہ وہ انہیں غسل دیں۔ چنانچہ انہوں نے غسل دیا اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے تعاون کی طالب ہوئیں، کیونکہ وہ اکیلی یہ کام نہ کرسکتی تھیں۔ اس عمل پر کسی بھی شخص نے انکار نہ کیا۔‘‘
(البيهقي (٤٥٨ هـ)،
السنن الكبرى للبيهقي ٣/٣٩٧ •)موصول و[فيه] محمد بن عمر، إن كان الواقدي فليس بالقوي، وله شواهد مراسيل

یہی واقعہ مؤطا امام مالک کی
’’کتاب الجنائز‘‘ میں یوں ہےکہ عبداللہ بن ابی بکرؓ فرماتے ہیں: ابوبکر صدیقؓ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیسؓ نے ابوبکر صدیقؓ کو ان کی وفات کے بعد غسل دیا ۔ وہ گئیں اور مہاجرین صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ ’’میں روزہ سےہوں اور آج شدید سردی ہے۔کیا میت کو غسل دینے کی وجہ سے مجھ پر غسل کرنا واجب ہے؟‘‘
صحابہؓ نے فرمایا: ’’نہیں!‘‘
(ﻣﻮﻃﺄ ﻣﺎﻟﻚ – ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺠﻨﺎﺋﺰ، ﺑﺎﺏ ﻏﺴﻞ اﻟﻤﻴﺖ، ﺻﻔﺤﺔ -223)

اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث بھی اس کے جواز کی دلیل ہے :
وعن أسماء بنت عميس رضي الله عنها : ( أَنَّ فَاطِمَةَ رضي الله عنها أَوْصَتْ أَنْ يُغَسِّلَهَا عَلِيٌّ رضي الله عنه )
یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی تھی کہ مجھے (فوت ہونے کے بعد ) جناب علی رضی اللہ عنہ ہی غسل دیں ”
(رواه الشافعي (1ج/312)
(والبيهقي (3/396) وحسن إسناده الشوكاني في “نيل الأوطار” (4/35) .
(’’سنن الدارقطني – كتاب الجنائز – باب الصلاة على القبر 1851)
( بلوغ المرام:2؍550)

 أنَّ فاطمة أوصَت أن يغَسِّلَها عليٌّ فغَسَّلَها
سیدہ فاطمہ( رض) نے وصیت کی کہ انہیں انکے شوہر علی (رض) غسل دیں، پس انہوں نے غسل دیا
الرباعي (١٢٧٦ هـ)، فتح الغفار ٧٠٣/٢ • [روي] نحوه بإسناد حسن

عن عبدالرحمن بن الأسود:] أنَّ ابنَ مسعودٍغسَّل امرأتَه حيثُ ماتتْ
(الإمام أحمد (٢٤١ هـ)، العلل ومعرفة الرجال ٣/١٩٠ • ما أنكره‘‘
(کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ 1؍163)
’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ جب فوت ہوئیں تو انہوں نےاپنی بیوی کو خود غسل دیا۔‘‘

 ’’وکانت الصحابة رضی اللہ عنهم یغسلون أزواجھم و کانت نسآء ھم تغسلھم‘‘ (کشف الغمۃ)
’’صحابہ کرامؓ اپنی ازواج کو خود غسل دیاکرتےتھے اور ان کی بیویاں اپنے خاوندوں کوغسل دیا کرتی تھیں۔‘‘

حدیث نبوی کے مشہور شارح اور محدث علامہ محی الدین النوویؒ اپنی عظیم تصنیف (المجموع شرح المھذب ) میں فرماتے ہیں :
قال النووي رحمه الله :
” وأما غسله زوجته فجائز عندنا , وعند جمهور العلماء , حكاه ابن المنذر عن علقمة وجابر بن زيد وعبد الرحمن بن الأسود …ومالك والأوزاعي وأحمد وإسحاق ، وهو مذهب عطاء وداود وابن المنذر ‘‘ ”
” مرد کا اپنی فوت ہونے والی بیوی کو غسل دینا ہمارے نزدیک اور جمہور علماء کے نزدیک جائز ہے ، جمہور کے ہاں اس عمل کے جواز کو امام ابن المنذرؒ نے جناب علقمہؒ ، سیدنا جابر بن زیدؒ ،اور عبدالرحمن بن الاسودؒ ، امام مالک ؒ ، امام احمدؒ ،امام اسحاقؒ بن راہویہؒ سے نقل فرمایا ہے ، اور جناب امام عطا بن ابی رباحؒ ، امام داود الظاہریؒ ،امام ابن المنذرؒ کا بھی یہی مذہب ہے ”
(المجموع شرح المھذب ،کتاب الجنائز،ج5/ص122 )

حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ان کی بیوی کے غسل دینےکا جو واقعہ اوپر ذکر ہوا، اسے ذکر کر کے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے خاص شاگرد امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وبھٰذا نا خذو لابأس ان تغسل المرأۃ زوجھا اذا توفی‘‘
(مؤطا امام محمد)
’’ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خاوند کی وفات پر اسے عورت غسل دے تو کوئی حرج نہیں۔‘‘

اسی روایت پر مشہور حنفی عالم مولانا عبدالحئ لکھنوی فرماتے ہیں:
’’نقل ابن المنذر وغیرہ الاجماع علیٰ جواز غسل المرأۃ زوجھا وانما اختلفوا فی العکس فمنھم من اجازہ والیه مال الشافعی و مالک و احمد و اخرون ومنھم من منعه و ھو قول الثوری والاوزاعی و ابی حنیفة و اصحابه کذاذکرہ العینی‘‘
(التعلیق الممجد علیٰ موطا امام محمد صفحہ 129 دہلی)
’’یعنی ابن المنذر اور دوسرے محدثین نے نقل کیا ہے کہ شوہر کو بیوی کے غسل دینےکے جواز پر اجماع ہے۔ لیکن اس کے برعکس یعنی شوہر کے بیوی کو غسل دینےمیں اختلاف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ،امام مالک رحمہ اللہ اورامام احمد رحمہ اللہ تو جواز کےقائل ہیں مگر امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ او ران کے ساتھی ، مرد کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ عورت کو غسل دے سکے۔‘‘

*ان تمام روائیتوں اور محدثین کرام کی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے پردہ بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، اور کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں،*

*مذکورہ دلائل سےمعلوم ہوا کہ زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کو (یعنی خاوند بیوی کو اور بیوی خاوند کو)غسل دےسکتے ہیں۔اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہی زیادہ بہتر ہے۔جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہوا اور جب شوہر کا بیوی کی میت کو غسل دینا جائز ثابت ہوا تو ہاتھ لگانے، دیکھنے اور قبر میں اتارنے سے کونسی چیز مانع ہے؟؟؟؟*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں