240

مسٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی تعیناتی وزیراعظم آزادکشمیرکیلئے کڑاامتحان بن گئی،سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق وی سی میرٹ پرسر فہرست ڈاکٹراقرارکی تعیناتی کیوں نہیں کی جارہی؟

اسلام آباد(اے جے کے نیوز) میرپوریونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی (مسٹ )کے وائس چانسلرکی تعیناتی وزیراعظم آزادکشمیرکے لئے کڑا امتحان بن گئی ۔برادری ازم کوپروان چڑھائیں یامیرٹ پرفیصلہ کریں،وزیراعظم مشکل میں پھنس گئے ۔ ۔مسٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکی تعیناتی کی فائل گزشتہ ایک ہفتے سے وزیراعظم کی میزپردستخطوں کی منتظرہے میرپوریونیورسٹی اس سے پہلے یونیورسٹی کالج آف انجئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا کمپس تھی 2008 میں اس کو آزادانہ یونیورسٹی کا درجہ دیاگیامیرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی 2017کی رینکنگ میں بلند ترین 91.52پوائنٹ حاصل کر کے کوالٹی گائیڈ کی wکیٹیگری کا اعزاز اپنے نام کر لیا ۔یونیورسٹی کابجٹ 1268ملین روپے سے زائدہے ، یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران کی تعداد 62ہے۔ 17سرکاری اور 29پرائیویٹ اداروں کا

یونیورسٹی کے ساتھ الحاق ہوچکاہے 28اکتوبر 2013کوپروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بطو روی سی یونیورسٹی کاچارج سنبھالا ۔2017میں ان کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں مزیدایک سال کے لیے توسیع دی گئی ،جواکتوبر2018میں ختم ہوگئی جس کے بعد پہلے 70دن اوربعدازاں مزیدایک ماہ کی توسیع دی گئی یوں موصوف کوتین بارتوسیع دی گئی اب ان کی مدت ختم ہوگئی ہے ۔راجہ حبیب الرحمن پرالزام ہے کہ انہوں نے ا پنی تعیناتی کے دوران اقرباپروری کوفروغ دیااورمیرٹ کوپامال کرتے ہوئے اپنی اہلیہ اوردیگررشتے داروں کویونیورسٹی میں بھرتی کیا ۔ نئے و ی سی کی تلاش کے لیے سرچ کمیٹی بنائی گئی سرچ کمیٹی نے ٹیسٹ انٹرویوزکے بعدپہلے تین نمبروں پرآنے والے افرادکے نام صدرمملکت کوبھجوادیئے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح رولنگ دے رکھی ہے کہ وی سی سرچ کمیٹی میں پہلے 3 نمبروں میں سے اعلی میرٹ والے امیدوار کو ہی وائس چانسلر تعینات کیا جائیگا اور یہ تقرری تین ہفتوں کے اندر ہوگی۔مسٹ یونیورسٹی کیلیے سرچ کمیٹی سفارشات کے مطابق جو تین نام ٹاپ تھری پر آئے ان میں ڈاکٹر اقرار احمد نے 82 نمبر لئے، ڈاکٹر یونس نے 62 نمبر لئے اور ڈاکٹر زکریا صاحب 61 نمبر لیکر تیسرے نمبر پر آئے-جبکہ موجود ہ وی سی ڈاکٹر جبیب الرحمان 60نمبرحاصل کرکے چوتھے نمبرپرآئے ۔سرچ کمیٹی کی سفارشات کے بعد صدرمملکت نے گزشتہ ہفتے پہلے نمبرپرآنے والے ڈاکٹراقرارکانام فائنل کرکے فائل پرنوٹیفیکشن جاری کرنے کے لیے وزیراعظم کوبھیج دی ۔مگروزیراعظم آزادکشمیرنے تاحال نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سابق وائس چانسلرراجہ حبیب الرحمن اثرورسوخ کے ساتھ ساتھ ساتھ براداری ازم کے کارڈ کواستعمال کررہے ہیں اوران کاراجہ فاروق حیدرپردبائوہے کہ وہ چوتھے نمبرپرآنے والے شخص کوہی وائس چانسلرتعینات کریں اب دیکھنایہ ہے کہ وزیراعظم فاروق حیدرکیاکرتے ہیں کیوں کہ ایک طرف ان کی پارٹی کے سینئررہنماء راناثناء اللہ کے کزن ڈاکٹراقرار ہیں جن کی میرٹ پرتعیناتی کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف ان کی برادری کااہم فردراجہ حبیب الرحمن ہیں جواس وقت چوتھے نمبرپرہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں