لیگی وزراء تقسیم،طارق فاروق کے ساتھ بڑے وزراء کھڑے ہوگئے،،وزیراعظم آزاد کشمیرکی ٹیم نے سینئروزیربارے اہم مطالبہ کردیا

اسلام آباد(اے جے کے نیوز)آزادکشمیرکی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کاگرماگرم اجلاس ،پارلیمانی پارٹی کی اکثریت نے طارق فاروق کے معاملے کوافہام وتفہیم سے حل کرنے پرزوردیا۔وزیراعظم نے ایک بارپھرکسی قسم کی بلیک میلنگ میں نہ آنے کااعلان۔اسپیکرسمیت اورتین وزراء نے چوہدری طارق فاروق کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم سے معاملات کودرست کرنے اوراصلاح احوال کامطالبہ کیاہے۔وزیراطلاعات راجہ مشتاق منہاس،وزیربلدیات راجہ نصیراحمدخان نے سخت موقف اپناتے ہوئے سینئر وزیرچوہدری طارق فاروق کے بیانات پرشدیدتنقیدکی اوران کی برطرفی کامطالبہ کیا۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والااجلاس بغیرکسی نتیجہ کے ختم ہوگیا۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس مظفرآبادمیں ہوا۔یہ خصوصی اجلاس سینئروزیرچوہدری طارق فاروق کے وزیراعظم کے فیصلوں پرتحفظات اورمیڈیاکے تناظرمیں طلب کیاگیاتھا۔اجلاس شروع ہواتووزیرتعلیم بیرسٹرافتخارگیلانی نے سینئروزیرچوہدری طارق فاروق کے انٹرویوزاوراس سے پیداہونے والے تنازعہ پربات کی اورکہاکہ معاملے کوفوری حل کیاجائے تاکہ بات مزیدآگے نہ بڑھے۔ذرائع کے مطابق سپیکراسمبلی شاہ غلام قادر،وزیرمال سردارفاروق سکندر اور وزیرخزانہ ڈاکٹرنجیب نقی نے طارق فاروق کے موقف کی تائیدکی اورکہاکہ اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کی ذمہ داری ہے وہ خرابیوں کودورکریں۔ڈاکٹرنجیب نقی کاکہناتھاکہ طارق فاروق کاپہلاانٹرویو جو سوشل میڈیاپرجاری ہوااس میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔انہوں نے جن مسائل کی نشاندہی کی وہ نئے نہیں تھے ان پرپہلے کئی باربات ہوئی ہے لیکن سینئروزیرکے انٹرویوکے بعدجواباًجوبیانات جاری کئے گئے اس سے بات بگڑی،جن لوگوں نے جوابی بیان دیے وہ وزیراعظم کے حلقوں سے تھے،یہ طریقہ کسی صورت مناسب نہیں تھا۔اس پروزیراطلاعات راجہ مشتاق منہاس نے بات کرتے ہوئے کہاکہ کابینہ کے ایک سینئرکارکن نے جوانٹرویودیے وہ انتہائی غیرمناسب تھے۔انہوں نے اپنی ہی حکومت کوخلاف چارج شیٹ کیا۔ایسے الزامات لگائے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔میراموقف ہے کہ ان کوکابینہ میں نہیں رہناچاہیے اوروزیراعظم کوسخت کارروائی کرنی چاہیے۔اس پروزیربلدیات راجہ نصیراحمدخان نے بھی مشتاق منہاس کے موقف کی حمایت کی اورکہاکہ وزیراعظم کوکسی صورت بلیک میل نہیں ہوناچاہیے۔ہمیں معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے۔ہم ووٹ لے کرآئے ہیں اوروزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیرمال سردارفاروق سکندرنے طارق فاروق کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کوان کی باتوں پرغورکرناچاہیے۔ہماراطرزحکومت،اڑھائی سالہ کارکردگی،بیوروکریسی کارویہ ان سب معاملات میں اصلاح کی ضرورت ہے۔حکومت میں ہم ہیں لیکن کام اپوزیشن کے ہوتے ہیں۔طارق فاروق نے جن معاملات کی نشاندہی کی ان کوحل کیاجاناچاہیے۔ذرائع کے مطابق سپیکراسمبلی شاہ غلام قادرنے کہاکہ میں نے طارق فاروق کاکوئی انٹرویوخودنہیں دیکھابلکہ اخبارات میں خبریں پڑھیں۔طارق فاروق نے جوباتیں کی ہیں وہ کوئی نئی نہیں تھیں۔اس کے جواب میں وزیراعظم کی ٹیم کی طرف سے جوردعمل دیاگیاوہ غیرمناسب تھا۔انہوں نے کہاکہ بھمبرمیں بھی کارکنوں سے یہی بات اوریہاں بھی کہتاہوں کہ وزیراعظم پارلیمانی پارٹی کاایک تفصیلی اجلاس بلائیں جس میں حکومت کی اڑھائی سالہ کارکردگی کابخوبی جائزہ لیاجائے اورجوکمی کوتاہی ہے اس کودورکرکے آگے بڑھاجائے۔طارق فاروق کی تنقیدکومثبت اندازمیں لیناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ کچھ روزقبل جومسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کااجلاس بلایاگیااس کامجھے علم ہی نہیں۔میری اورسینئروزیرکی موجودگی میں خالق وصی کوکس نے اختیاردیاکہ وہ پارٹی کااجلاس چلائے۔اس طرح سے پارٹیاں نہیں چلائی جاتیں۔وزیراعظم کوحکومتی اورپارٹی معاملات میں مشاورت سے چلناچاہیے۔طارق فاروق واپس آئے تواس کاموقف سنتے ہوئے معاملات کوافہام وتفہیم سے حل کرناچاہیے اسی میں بہتری ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان نے کہاکہ طارق فاروق میرابھائی ہے،میں نے حکومت سمیت بیوروکریسی کے تبادلوں میں سب سے زیادہ مشاورت اسی سے کی ہے۔اس کواگرکوئی تحفظات تھے تومیرے ساتھ یاکابینہ کے فورم پربات کرنی چاہیے تھی۔یہ جوطرزعمل اختیار کیایہ غیرمناسب ہے۔وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی سے کہاکہ سب پرواضح کردوں کہ مجھے کوئی بلیک میل نہیں کرسکتااورنہ بلیک میل ہوں گا۔جب تک اللہ نے چاہامیں وزیراعظم ہوں اوروہ نہ چاہے توآپ سب بھی ہوں میں وزیراعظم نہیں رہ سکتا۔ذرائع کے مطابق کئی گھنٹے تک جاری رہنے والااجلاس بغیرکسی نتیجہ کے وزراء کے تقاریرکے بعدختم ہوگیا۔طارق فاروق کے معاملے کے حل بارے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی اکثریت نے طارق فاروق کے موقف کومستردکردیااوروزیراعظم سے کہاکہ آپ کسی کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں ہم آپ کے ساتھ ہیں جبکہ سپیکراسمبلی،فاروق سکندر،نجیب نقی نے کہاکہ طارق فاروق کاموقف درست ہے۔وزیراعظم کوچاہیے کہ ان کے واپس آنے سماعت کیاجائے اورتحفظات وخدشات دورکیے جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں