710

جنت میں مردوں کیلئے حوریں توعورت کوکیاملے گا؟نیزجنت میں عورت کس کی بیوی بنے گی؟

*انسانی ذہن تجسس و سوالات کی آماجگاہ ہے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر انکے جوابات نہ دیے جائیں تو شکوک وشبہات اپنی جگہ لینے لگتے ہیں،یہ سوال بہت سے لوگ پوچھ چکے ہیں کہ جنت میں مردوں کو تو حوریں ملیں گی تو جو عورتیں ہوں گی انکو کیا ملے گا ؟ یہ ناانصافی نہ ہوگی کہ انکے لیے کوئی نہیں تو اس سوال کا مختصر پیرائے میں جواب قرآن و حدیث کے مطابق دینے کی کوشش کرتے ہیں،*

اسلام ایک مکمل دین ہے اس قدر مکمل کہ انسانوں کے حقوق سے لے کر جانوروں کے حقوق بھی اس دین نے ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں عورت کو جو مقام و مرتبہ اسلام نے دیا ہے وہ کوئی مذہب نہ دے سکا،

اگر تو آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ مرد کو بہت سی عورتیں اور حوریں ملیں گی اور عورتوں کو کتنے مرد ؟

تو یہ انتہائی واہیات بات ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کسی کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا،لیکن اس بات کی بھی وضاحت کرتے چلیں،
*کیا دنیا میں کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ قابل قبول ہے کہ ایک عورت کے متعدد شوہر ہوں .اگرچہ یہ عادت یعنی پولی گیمی افریقہ کے بہت پرانے معاشروں میں اور ہندو مت میں بھی کسی صورت میں موجود رہی ہے،مگر ایک ذرا سا بھی سمجھ دار اور غیرت مند شخص اس کے جواز کے لیئے کوئی رائے قائم کر سکتا ہے کیا.؟؟؟…….ہرگز نہیں ہرگز نہیں…
پھر اللہ سے بڑا غیرت مند کون ہے،
اللہ سے بڑا عزت دار کون ہے …
کیا اللہ کے ہاں ایسی بات کو گوارا کیا جا سکتا ہے؟؟؟

*دوسری بات کہ*
قرآن میں جگہ جگہ حوروں کا ذکر نہیں نہیں،بلکہ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ ہے جو ہر مومن مرد و عورت کو یکساں طور پر ملیں گی، حوروں کا تذکرہ قرآن میں تقریباً صرف چار مقامات پر ہے,اب رہا آپ کا سوال کہ عورتوں کو جنت میں کیا ملے گا، تو واضح رہے کہ قرآن نے اس حوالے سے بالکل صراحت کے ساتھ جو لفظ استعمال کیا ہے وہ زوج (ازواج) کا ہے ۔جس کے معنی جوڑا یعنی Spouseکے ہیں ۔ یعنی مرد و عورت دونوں کے لیے جوڑے ہوں گے،

*لفظ حور جو قرآن کریم میں چار مختلف مقامات پراستعمال ہوا ہے*

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذٰلِكَ وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍؕ
’’یوں ہی ہوگا اور ہم ان کا نکاح کردیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے۔‘‘
(الدخان :54)

مُتَّكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ‌ ۚ وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ
ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو قطاروں میں بچھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کردیا، جو بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں۔‘‘
(الطور : 20)

حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِى الۡخِيَامِ‌
سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں، جو خیموں میں روکی ہوئی ہیں۔۔‘‘
(الرحمٰن :72)

وَحُوۡرٌ عِيۡنٌۙ
كَاَمۡثَالِ اللُّـؤۡلُـوٴِالۡمَكۡنُوۡنِ‌ۚ
’’اوران کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوگی، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔‘‘
(الواقعۃ : 23,22)

*حور کا مطلب*
قرآن کریم کے بہت سے مترجمین نے لفظ حور کا ترجمہ خصوصاً اردو تراجم میں خوبصورت دوشیزائیں یا لڑکیاں کیاہے۔ اس صورت میں وہ صرف مردوں کے لیے ہوں گی۔ تب جنت میں جانے والی عورتوں کے لیے کیا ہوگا؟
لفظ ’’حُوْر‘‘ فی الواقع اَحْوَرْ (مردوں کے لیے قابل اطلاق) اور حَوْرَاء ( عورتوں کے لیے قابل اطلاق) دونوں کا صیغہ ٔ جمع ہے اور یہ ایک ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی آنکھیں حَوْرَ سے متصف ہوں، جو جنت میں جانے والے مردوں اورخواتین کی صالح ارواح کو بخشی جانے والی خصوصی صفت ہے اور یہ روحانی آنکھ کے سفید حصے کی انتہائی اجلی رنگت کو ظاہر کرتی ہے،

دوسری کئی آیات میں قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ جنت میں تمھارے ازواج، یعنی جوڑے ہوں گے۔ اور تمھیں تمھارا جوڑا یا پاکیزہ ساتھی عطاکیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا ‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا ‌ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ‌ۙ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
ترجمہ:
اور ان لوگوں کو خوش خبری دے دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے کہ بیشک ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جب کبھی ان سے کوئی پھل انھیں کھانے کے لیے دیا جائے گا، کہیں گے یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہمیں دیا گیا تھا اور وہ انھیں ایک دوسرے سے ملتا جلتا دیا جائے گا، اور ان کے لیے ان میں نہایت پاک صاف بیویاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
(سورہ البقرۃ : 25)

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ لَـهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا
ترجمہ:
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ہم انھیں عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں ہمیشہ، ان کے لیے ان میں نہایت پاک صاف بیویاں ہوں گی اور ہم انھیں بہت گھنے سائے میں داخل کریں گے۔۔‘‘
(النساء :57)

لہٰذا لفظ ’’ حُور‘ ‘ کسی خاص جنس یا صنف کے لیے مخصوص نہیں۔ علامہ محمد اسد نے لفظ حور کا ترجمہ خاوند یا بیوی (Spouse)کیا ہے ،
جبکہ علامہ عبداللہ یوسف علی نے اس کا ترجمہ ساتھی (Companion)کیا ہے،

*چنانچہ بعض علماء کے نزدیک جنت میں کسی مرد کو جو حور ملے گی وہ ایک بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھوں والی خوبصورت دوشیزہ ہوگی جبکہ جنت میں داخل ہونے والی عورت کو جو ساتھی ملے گا وہ بھی بڑی بڑی روشن آنکھوں والا ہوگا*

علماء کا خیال ہے کہ قرآن میں جو لفظ ’’حور‘‘ استعمال ہوا ہے اس سے مراد صرف خواتین ہیں کیونکہ اس کے بارے میں خطاب مردوں سے کیا گیا ہے۔ اس کا وہ جواب جو سب قسم کے لوگوں کے لیے لازماً قابل قبول ہو، حدیث مبارک میں دیا گیا ہے۔

صحیح بخاری میں حدیث ہے :
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالی: اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِینَ مَا لَا عَیْنٌ رَاَتْ، وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ ’’
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے نہ ان کے کانوں نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے ۔‘‘
(صحیح البخاری ، التفسیر ، حدیث: 4779)

حدیث کے لفظ عِبَاد میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں،لہذا مردوں کا جوڑا عورتوں کے ساتھ اور عورتوں کا مردوں کے ساتھ بنایا جائے گا۔

*اور قرآن میں زوج کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ یہ کہنا کہ عورتوں کو مرد دیے جائیں گے، حیا کے منافی تھا،*

رہا سوال حوروں کے خصوصی تذکرے کا تو انسانی نفسیات کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ اس معاملے میں مردوں کی نفسیات عورتوں سے ذرا مختلف رہی ہے۔ اس نفسیات کی تفصیل یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ اس کی ایک جھلک دیکھنی ہے تو موجودہ دور کے میڈیا میں اشتہارات کی صنعت اور ان میں عورتوں کے استعمال کودیکھ لیجیے یا تاریخ کے اوراق میں طاقتور لوگوں کے حرم کی داستانوں کی تفصیلات پڑ ھ لیجیے،
اسی نفسیات کی بنا پر قرآن بھی بعض مقامات پر حوروں کا ذکر کر دیتا ہے، وگرنہ اس کا اصولی موقف جنت کی ان نعمتوں کے بارے میں جن کی طلب فطرتِ انسانی میں پائی جاتی ہے ،

اللہ پاک فرماتے ہیں:

اور تم کو اس (جنت) میں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے گا اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے ،
(سورہ فصلت:آئیت نمبر_31)

*جنت کی نعمتوں کے حوالے سے جب کوئی سوال پیدا ہو تو قرآن کی اس آیت کو پڑھ لیا کریں ہر سوال کا جواب اس مختصر آیت میں پوشیدہ ہے*

اور آپ کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ،
 اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے:آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا (الکھف _49)

اور دوسرے مقام پر فرمایا :
( بے شک اللہ تعالی ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دگنی کر دیتا ہے اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے )
(سورہ النساء / 40)

اللہ تعالی نے اس شریعت کو مردوں اور عورتوں کے لۓ برابر نازل کیا ہے قرآن کریم میں جہاں بھی مردوں کو خطاب ہے وہی عورتوں کو بھی ہے اور جہاں پر حکم میں مردوں کو خطاب کیا گیا ہے اس میں عورتیں بھی داخل ہیں الا یہ کہ کوئی ایسی دلیل ہو جہاں پر مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق کیا گیا ہو مثلا جہاد اور حیض اور ولی کے احکام میں فرق ہے وغیرہ ۔

*اور اس بات کی دلیل کہ جہاں پر مذکر کا صیغہ استعمال ہوا اور اس میں مونث یعنی عورتیں بھی داخل ہیں*

 عائشہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ ذیل حدیث ہے :
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ :
< رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا کہ جو ( اپنے کپڑوں میں ) گیلا پن (تری) پاتا ہے لیکن اسے احتلام کا یاد نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ غسل کرے اور اس شخص کے متعلق جسے احتلام ہوا لیکن گیلا پن نہیں پاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اس پر غسل نہیں ہے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں عورت دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس پر بھی اس لیۓ کہ عورتیں مردوں کی طرح ہیں ) (سنن ابو داؤد حدیث نمبر-236) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا: عورتیں بھی ( شرعی احکام میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں (سنن ترمذی حدیث نمبر 113) ( صحیح الجامع حدیث نمبر 2333) ________&_______ *اور یہ کہ آخرت میں عورت کو جنت میں کیا بدلہ ملے گا تو اس کے متعلق ذیل میں کچھ آیات اور احادیث پیش کی جاتی ہیں* ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ہجرت کے معاملہ میں اللہ تعالی کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئےنہیں سنا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ( تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی کہ بیشک میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہر گز ضائع نہیں کرتا تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیۓ گۓ اور جنہیں میری راہ میں ایذا اور تکلیف دی گئي اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کر دۓ گۓ میں ضرور اور لازمی ان کی برائیاں ان سے معاف کر دوں گا اور یقینا انہیں ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں یہ اللہ تعالی کی طرف سے ثواب اور اجر ہے اور اللہ تعالی کے پاس ہی بہترین ثواب ہے ) (سورہ آل عمران آئیت نمبر_ 195) (سنن ترمذی حدیث نمبر 3023) ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ( اللہ تعالی کا فرمان ہے ( ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی) یعنی ان کے رب نے قبول فرما لیا اور اللہ تعالی کا یہ فرمان ( بیشک میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہرگز ضائع نہیں کرتا ) تو یہ اس قبولیت کی تفسیر ہے یعنی اللہ تعالی نے انہیں خبر دیتے ہوئےیہ کہا کہ وہ تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ہر عمل کرنے والے کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت اسے انصاف کے ساتھ پورا پورا بدلہ دے گا ،اور اللہ تعالی کا یہ قول کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ) یعنی تم سب ثواب میں برابر ہو، اور اللہ تعالی کا فرمان : ( اور جو مرد اور عورت بھی ایمان کی حالت میں نیک اعمال کرے تو یہی لوگ جنت میں جائیں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے سوراخ کے برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہو گا ) (سورہ النساء ،آئیت نمبر_ 124) ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے : اس آیت میں اللہ تعالی کا اپنے بندوں چاہے وہ مرد ہو یا عورت ان کے اعمال کو قبول کرنے میں اللہ کا احسان اور اس کا کرم اور اس کی رحمت کا بیان ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ بندے مومن ہوں اور انہیں اللہ تعالی یقینا جنت میں داخل کرے گا اور ان کی نیکیوں کے بارہ میں کسی ایک پر نقیر کے برابر بھی ظلم نہیں ہو گا اور نقیر کھجور کی گٹھلی کے سوراخ کو کہتے ہیں، اور فرمان ربانی ہے : ( جو بھی اعمال صالحہ کرے اگرچہ وہ مرد ہو یا عورت لیکن ہو مومن تو ہم اسے یقینا نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور اور یقنی طور پر دیں گے ) (سورہ النحل_ 97) ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ( اللہ تعالی کی طرف سے اس شخص کے لۓ یہ وعدہ ہے جو نیک اعمال کرے اور وہ عمل کتاب اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہونے ضروری ہیں اگرچہ یہ عمل مرد یا پھر عورت کے ہوں اور اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہونا ضروری ہے اور پھر یہ عمل جس کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے مشروع ہے اس کی بنا پر اللہ تعالی اسے دنیا میں اچھی زندگی مہیا اور اسے اس کی عمل کا آخرت میں اچھا بدل دے گا اور اچھی زندگی ہر اعتبار سے راحت پر مشتمل ہے ) ارشاد باری تعالی ہے : ( جس نے گناہ کیا اسے تو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور جس نے نیکی کی چاہے وہ مرد ہو یا عورت لیکن ہو مومن تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بغیر حساب کے روزی پائیں گے ) (سورہ غافر ،آئیت نمبر_ 40) * آپ کے سامنے یہ حدیث پیش کی جاتی ہے جو کہ اللہ تعالی کے حکم سے آپ کے سینے میں عورتوں کے ذکر کے متعلق تمام وسوسوں کا قلع قمع کر دے گی* ام عمارہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ :وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ میں جو کچھ بھی دیکھتی ہوں وہ سب کچھ مردوں کے لۓ ہی ہے اور مجھے عورتوں کے متعلق کچھ ذکر نہیں ملتا تو یہ آیت نازل ہوئی : ( بیشک مسمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومنہ عورتیں ) (سورہ الاحزاب،35) (سنن ترمذی حدیث نمبر 3211 ) اور مسند احمد میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حدیث مروی ہے : ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے کہ ہمارا ذکر قرآن کریم میں اس طرح نہیں جس طرح کہ مردوں کا ہے تو وہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے کسی چیز نے بھی کسی دن خوفزدہ نہیں کیا مگر ان کی منبر پر آواز نے آپ یہ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں اپنے سر کو سنوار رہی تھی تو میں نے اپنے بالوں کو لپیٹا اور دروازے کے قریب آئی اور کان دہلیز کے ساتھ لگا دیۓ تو میں نے انہیں یہ کہتے ہوئےسنا بیشک اللہ تعالی نے فرمایا ہے : ( بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومنہ عورتیں اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں سچے مرد اور سچی عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ان سب کے لۓ اللہ تعالی نے وسیع مغفرت اور بہت زیادہ ثواب تیار کر رکھا ہے ) ( سورہ الاحزاب آئیت نمبر 35) *جنت میں داخل ہونے والی خواتین کو اللہ تعالی نئے سرے سے پیدا فرمائیں گے اور وہ کنواری حالت میں جنت میں داخل ہوں گی اور ہمشیہ کنواری رہیں گی، انکے خاوند جب بھی ان سے ملاپ کریں گے تو ہر دفعہ انہو کنوارا پائیں گے اور اپنے شوہروں کی ہم عمر ہوں گی اور جنتی خواتین اپنے شوہروں سے ٹوٹ کر پیار کرنے والی ہوں گی،* قرآن مجید میں ان تمام باتوں کو اس طرح بیان کیا ہے اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰهُنَّ اِنۡشَآءًۙ @ فَجَعَلۡنٰهُنَّ اَبۡكَارًاۙ‏ @ عُرُبًا اَتۡرَابًاۙ اہل جنت کی بیویوں کو ہم نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انہیں باکرہ بنا دیں گے اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں اور انکی ہم عمر (سورہ الواقعہ ،آئیت نمبر_35٫36٫37) *اہل ایمان میں مردوں کے ساتھ کوئی خاص معاملہ نہ ہوگا بلکہ ہر نفس کو اسکے اعمال کے بدولت نعمتیں عطا کی جائیں گی اور ان میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہ ہوگی اور جنت کی خوشیوں کی تکمیل خواتین کی رفاقت میں ہو گی* اللہ پاک فرماتے ہیں: اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ‌ جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔ (سورہ زخرف ائیت نمبر-70) تفسیر: اسکی تفسیر میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو دنیا میں ان کے ہم مشرب اورساتھی رہے۔ دوسری یہ کہ مراد ان کی بیویاں ہیں جنہوں نے نیک اعمال میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ دونوں بیک وقت بھی مراد ہوسکتے ہیں، مگر بیویاں مراد لینا زیادہ قریب ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ان کا بار بار ذکر ہے اور ان کے ساتھ مل کر جانے میں جو لذت اور خوشی ہے وہ دوسرے ہم مشرب ساتھیوں کے ساتھ نہیں۔ (مزید دیکھیے سورة یٰسین (٥٥، ٥٦) دخان (٥٤) ، واقعہ (٢٢، ٢٣) ، رحمان (٧٠ تا ٧٢) ، صافات (٤٨) اور سورة ص (٥٢) *جنت میں حوروں سے افضل مقام نیک صالح عورت کو حاصل ہوگا مرد کو حوریں ملیں گی تو نیک مرد کی نیک بیوی ان حوروں کی سردار ہوگی* حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے میں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم ! یہ فرمائیے کہ دنیا کی خاتوں افضل ہے یا جنت کی حور ؟ ” آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دنیا کی خاتون کو جنت کی حور پر وہی فضیلت حاصل ہو گی جو ابرے (باہر والا کپڑا) کو استر (اندر والا کپڑا ) پر حاصل ہوتی ہے (طبرانی مجمع الزوائد الجز ء العاشر ،رقم الصفحہ (418-417 ) *یہ ان انعامات کو مختصر سے بھی مختصر حصہ ہے جو جنت میں عورتوں کو عطا کیے جائیں گے،جنتی عورتیں حسن وجمال اور حسن سیرت کے اعتبار سے بے مثال ہوں گی،عورت کے اندر فطری طور پر حیا کا مادہ مرد کی نسبت زیادہ ہے اور وفاداری و محبت بھی خالص ایک کے لیے رکھتی ہے اور حسن و جمال اور زینت کو پسند کرتی ہے ان تمام باتوں کی مناسبت سے جنت میں یہ عیش کریں گی اور نیک عورتیں حوروں پر افضل ہوں گی* __________&________ *رہی یہ بات کہ جس عورت کے دنیا میں ایک سے زیادہ خاوند ہوں گے وہ عورت جنت میں کس خاوند کے ساتھ ہوگی؟* اس مسئلہ کے بارے میں اہل علم کے تین اقوال ہیں: 1- ایسی خاتون اپنے ساتھ سب سے اچھے سلوک کرنے والے خاوند کے ساتھ ہوگی۔ 2- ایسی خاتون کو وہاں پر خاوند اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ 3- وہ سب سے آخری خاوند کی بیوی ہوگی، *اس بارے میں قریب ترین، اور صحیح ترین قول آخری قول ہی ہے، کہ جنتی عورت دنیا کے آخری شوہر کی بیوی ہو گی اور اسی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع حدیث بھی ملتی ہے*  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس کسی خاتون کا خاوند فوت ہو جائے، اور وہ اس کے بعد آگے شادی کر لے تو وہ [آخرت میں] آخری خاوند کیلئے ہوگی) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے (صحیح الجامع: (2704) اور “سلسلہ صحیحہ_1281) میں صحیح قرار دیا ہے۔ یہ تو ہے مختصر جواب، جبکہ تفصیلی اور مذکورہ بالا تینوں اقوال کے دلائل درج ذیل ہیں: *پہلے قول کی دلائل:* قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “ابو بکر بن نجاد نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں جعفر بن محمد بن شاکر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبید بن اسحاق عطار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہمیں سنان بن ہارون نے حمید سے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! ایک عورت کے دنیا میں دو خاوند ہو، اور پھر وہ فوت ہو کر تمام جنت میں اکٹھے ہو جائیں تو ان دونوں میں سے کس کے پاس جائے گی؟ پہلے خاوند کے پاس یا دوسرے کے پاس ؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ام حبیبہ! جو اس خاتون کیساتھ اچھے سلوک کے ساتھ رہتا ہو گا اسی کے پاس جائے گی، حسن خلق دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ لیتا ہے) (التذكرة في أحوال الموتى والآخرة2 / 278 ) (طبرانی النھایہ لابن کثیرفی الفتن والملاحم الجز الثانی رقم الصفحہ 387 ) یہ حدیث سخت ضعیف ہے، اور اس کے ضعیف ہونے کی وجہ دو راوی ہیں، 1_عبید بن اسحاق عطار: جو کہ سخت ترین ضعیف راوی ہے، 2_جبکہ سنان بن ہارون: ضعیف ہے۔ چنانچہ اس حدیث سے استدلال کرنا بالکل درست نہیں ہے، کیونکہ یہ حدیث سخت ضعیف ہے، اسلیے پہلا قول (کہ عورت سب سے اچھے اخلاق والے شوہر ساتھ جنت میں ہوگی) ساقط ہو گیا، *دوسرے قول کی دلیل:* یعنی: ایسی خاتون کو وہاں پر خاوند اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ مجھے اس قول کے قائلین کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ تاہم ” التذكرة في أحوال الموتى والآخرة ” ( 2 / 278 ) میں صاحب کتاب نے یہی مسئلہ ذکر کرنے کے بعد کہا: “یہ بھی کہا گیا ہےکہ : اگر اسکا [دوسرا] خاوند ہو اتو ایسی خاتون کو اختیار دیا جائے گا” انتہی عجلونی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “۔۔۔۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی خاتون زیادہ اچھے اخلاق والے خاوند کیساتھ ہوگی! اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : خاتون کو ہر دو میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا اختیار دیا جائے گا” ” كشف الخفاء ” (2 / 392) البتہ اسی موقف کو ابن عثیمین حفظہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے، جیسے کہ آپ کے فتاوی: (2/53) میں یہ بات موجود ہے۔ *تیسرے اور درست قول کی دلیل* امام ابو الشیخ اصبہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: “ہمیں احمد بن اسحاق جوہری نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن زرارہ نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو ملیح رقی نے حدیث بیان کی، انہوں نے میمون بن مہران سے اور انہوں نے ام درداء رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: ([قیامت کے دن]عورت اپنے آخری خاوند کیلئے ہوگی)” ” طبقات المحدثين بأصبهان ” ( 4 / 36 ) اس حدیث کے رواۃ مشہور ثقہ راوی ہیں، صرف احمد بن اسحاق جوہری کے حالات زندگی نہیں ملے، تاہم ابو الشیخ [مؤلف] نے خود ہی اس حدیث کو انکی حسن احادیث میں شمار کیا ہے اور اگر حقیقت بھی ایسے ہی ہے تو یہ سند اس مسئلہ کے بارے میں اعلی ترین سند ہوگی۔ (واللہ اعلم) اس پر ایک اثر بھی ہے جسے ابن عساکر نے ( 19 / 193 / 1 ) عکرمہ سے بیان کیا ہے کہ: “اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا زبیر بن عوام کے عقد میں تھیں، زبیر آپ پر بہت گراں تھے، تو انہوں نے آکر اپنے والد [ابو بکر] سے اس بات کی شکایت کی، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: “بیٹی صبر کرو! کیونکہ جب عورت کا خاوند اچھا ہو، اور وہ فوت ہو جائے، پھر عورت بھی اس کے بعد کہیں اور شادی نہ کرے تو انہیں جنت میں بھی اکٹھا کر دیا جائے گا” شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ” اس اثر کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم اس میں انقطاع ہے، کیونکہ عکرمہ نے ابو بکر کا زمانہ نہیں پایا، تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ عکرمہ نے یہ بات اسماء بنت ابی بکر سے سنی ہو۔ واللہ اعلم” “سلسلہ صحیحہ” (3/276) *خلاصہ یہ ہوا کہ:* یہ کہنا کہ: ایسی خاتون اپنے ساتھ سب سے اچھے سلوک کرنے والے خاوند کے ساتھ ہوگی، اس بارے میں کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔اور یہ کہنا کہ: ایسی خاتون کو وہاں پر خاوند اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے ساتھ مرضی رہے، یہ بے بنیاد اور بے دلیل بات ہے اور یہ کہنا کہ عورت اپنے دنیاوی آخری خاوند کے ساتھ ہوگی، یہی موقف درست حق کے قریب ہے، کیونکہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی مرفوع روایت حسن درجے کی ہوسکتی ہے، مزید برآں اس حدیث کو حذیفہ اور اسماء کی موقوف روایات کی تائید بھی حاصل ہے، جو کہ دونوں ہی مرفوع روایت کو تقویت بخشنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور ان دونوں آثار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس موقف کیلئے معتبر دلیل کا وجود پایا جاتا ہے، ویسے بھی علامہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے مرفوع حدیث کو “سلسلہ صحیحہ” (1281) میں صحیح قرار دیا ہے، ___________&________ *اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں شادی شدہ عورت جنت میں بھی اپنے خاوند ہی کے ساتھ ہوگی،لیکن جنت میں جس طرح عورت جوان خوبصورت اور دلکش ہوگی اسی طرح اسکا جنتی شوہر بھی ہر طرح کے عیب سے پاک،خوبصوت ،جوان ہو گا، اور جسکے خاوند دنیا میں زیادہ رہے ہونگے اسکو اسکے آخری خاوند کے ساتھ رکھا جائے گا البتہ جن کی شادی نہ ہوئی یا جن کے خاوند کافر رہے یا جنکے خاوند جنت میں نا گئے ان کو جنت میں انکی خواہش اور پسند کے مَردوں کے ساتھ بیاہ دیا جائے گا اسکی دلیل اوپر ذکر کردہ وہ آیات ہیں جن میں جنت کے اندر من پسند انعامات کے ملنے کا ذکر ہے،* واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ) 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں