پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری،پہلی بارپاکستانی ریسلرwwe چیمپئن بننے کے قریب

ڈبلیو ڈبلیو ای کی تاریخ میں پہلی بار ایک پاکستانی نژاد ریسلر کو اس کمپنی کی سب سے بڑی چیمپئن شپ مقابلے میں شرکت کا موقع مل گیا ہے۔جی ہاں پاکستانی نژاد امریکی ریسلر مصطفیٰ علی جو کافی عرصے تک ڈبلیو ڈبلیو ای کے پروگرام 205 لائیو میں کروزر ویٹ کلاس میں شامل تھے، فروری میں شیڈول ایونٹ ایلیمنیشن چیمبر میں ڈبلیو ڈبلیو ای چیمپئن ڈینیئل برائن کے مدمقابل آنے والے ہیں۔اس بات کا اعلان ڈبلیو ڈبلیو ای کے سی او او ٹرپل ایچ نے گزشتہ شب اسمیک

ڈاؤن کے دوران کیا۔گزشتہ شب اسمیک ڈاؤن میں ڈبلیو ڈبلیو ای چیمپئن ڈینیئل برائن کی نئی چیمپئن شپ بیلٹ کے پرومو کے موقع پر یہ اعللان کیا گیا کہ مصطفیٰ علی، سموا جوئی، اے جے اسٹائلز، رینڈی اورٹن اور جیف ہارڈی ایلیمنیشن چیمبر میچ میں دفاعی چیمپئن کا مقابلہ کریں گے۔مصطفیٰ کچھ عرصے پہلے ہی اسمیک ڈاؤن کا حصہ بنے اور اپنے پہلے میچ میں ڈینیئل برائن کو نان ٹائٹل میچ میں شکست دینے کے قریب پہنچ گئے جبکہ ایک ٹیگ ٹیم میچ میں مصطفیٰ علی نے ڈینیئل برائن کو چت بھی کیا۔اگرچہ مصطفیٰ علی کروزر ویٹ چیمپئن شپ تو جیتنے میں ناکام رہے مگر انہیں ہارٹ آف 205 لائیو کی عرفیت دی گئی تھی جس کی وجہ ان کی صلاحیت اور میچز تھے۔اب وہ کروزر ویٹ ڈویژن سے نکل کر اسمیک ڈاؤن کے رکن بن چکے ہیں اور اس بارے میں مصطفیٰ علی کا کہنا تھا کہ جب وہ ڈبلیو ڈبلیو میں آئے تو انتظامیہ چاہتی ھتی کہ وہ اینٹی امریکن ریسلر کا کردار ادا کریں۔تاہم ڈبلیو ڈبلیو ای کے سابق پروڈیوسر روڈ ڈوگ نے انہیں مشورہ دیا کہ برے ریسلر کی بجائے وہ بے بی فیس بنیں اور اس طرح وہ لوگوں کی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔مصطفیٰ علی پہلے پاکستانی نژاد ریسلر ہیں جو ریسل مینیا کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔ماہرین تو انہیں رے مسٹریو جیسا قرار دیتے ہیں جن کی جسامت تو کچھ خاص نہیں مگر پھر بھی ٹاپ پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔مصطفیٰ علی ریسلنگ کی دنیا کے لیے نئے نہیں بلکہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک امریکا بھر میں مقابلوں میں شریک ہوتے رہے ہیں، مگر ڈبلیو ڈبلیو ای میں ان کی آمد 2016 میں کروزور ویٹ کلاسیک کے ذریعے ہوئی تھی، جس میں پہلے ہی مرحلے میں وہ باہر ہوگئے تھے۔تاہم ان کی کارکردگی سے متاثر ہوکر کمپنی نے انہیں اپنے نئے 205 لائیو شو میں موقع فراہم کیا۔ڈبلیو ڈبلیو ای کی آمد کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران مصطفیٰ علی کا کہنا تھا ‘ڈبلیو ڈبلیو ای میں لڑنا میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہ وہ خواب ہے جس کے ساتھ میں بڑا ہوا، اس کے لیے میں 13 برسوں سے کوشش کررہا تھا، اسی کے لیے میری ہڈیاں ٹوٹیں، متعدد تقریبات کو فراموش کیا، ڈبلیو ڈبلیو ای کے رنگ میں کھڑے ہونے کے لمحے کے جذبات بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں