جسم کے غیرضروری بالوں کوکتنے دنوں تک اورکس حصہ تک صاف کرناچاہیے ، نیزعورتوں کیلئے کیاحکم ہے؟

نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا :
’’فطرت ( کے خصائل ) پانچ ہیں ( یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ) : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، ناخن تراشنا ، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا ۔
(صحيح مسلم :حدیث نمبر-26)

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے لیے مدت متعین فرما دی ہے کہ ہر چالیس دن کے اندر ناخن کاٹ لیں۔ مونچھیں کتروا لیں۔ اور ناف سے نیچے کے بال مونڈ لیں۔
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-2758)

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال لینے، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-2759)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-258)

*یعنی چالیس دن کے اندر اندر ایک بار ناخن کاٹنا، زیر ناف بال مونڈنا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ضروری ہے، ویسے چاہیں تو ہر دوسرے ہفتے یہ کام کر سکتے ہیں،لیکن چالیس دن سے زیادہ تاخیر نا کرے*

 کیونکہ فرمان نبویﷺ
کہ چالیس دن سے تاخیر نہ کرے۔
(صحیح مسلم :حدیث نمبر_ 258)

*زیر ناف بالوں کی حد*

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ” فتح البارى ” ميں كہتے ہيں:
امام نووى كا كہنا ہے كہ: ( العانۃ ) زيرناف بالوں سے مراد وہ بال ہيں جو عضو تناسل پر اور اس كے ارد گرد بال ہيں، اور اسى طرح عورت كى شرمگاہ كے ارد گرد بال زيرناف بال كہلاتے ہيں،
اور ابو العباس بن سريج سے منقول ہے كہ:
دبر كے سوراخ كے ارد گر پائے جانے والے بال.
تو اس مجموعى كلام سے يہ حاصل ہوا كہ اگلی اور پچھلی شرمگاہ اور ان كے ارد گرد پائے جانے والے سارے بال مونڈنا مستحب ہيں،

اور ابو شامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
قبل اور دبر سے بال ختم كرنے مستحب ہيں،
بلكہ پچھلی شرمگاہ سے بال زائل كرنا اولى ہيں كہ كہيں ان ميں پاخانہ وغيرہ نہ اٹك جائے،
(شیخ صالح المنجد )

“زیر ناف” کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے حدیث میں ان بالوں کے لیے “عانہ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے “عورت کی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال،
” *عانہ* ” دراصل اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر یہ بال اگتے ہیں. علم القابلہ میں اسکی مناسب وضاحت ہو جاتی ہے.
لہذا زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی حد یہی ہے کہ صرف اس جگہ کے بال کاٹے جائیں جہاں عموما عورتوں کے بھی بال ہوتے ہیں،
(( عورت کا نام اس مسئلہ میں اس وجہ سے لیا جاتا ہے کہ مرد کے تو عموما تمام بدن پر ہی بال ہوتے ہیں جبکہ عورت کے صرف اس مخصوص حصہ پر ہوتے ہیں،
یا پھر آپ اپنے پیٹ کے نچلے حصہ کو دبا کر دیکھیں تو ایک ہڈی محسوس ہوگی.
بس جہاں سے اس ہڈی کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے بال کاٹنے کی ابتداء کریں کیونکہ یہی ہڈی عانہ کہلاتی ہے، اس ہڈے سے لیکر شرمگاہ کے اردگرد تک بال مونڈنے چاہیے،،
“عانہ” کی توضیح میں اہل لغت نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں : الشعر المنبت حول فرج المرأۃ یعنی عورت کے سامنے والی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال عانہ یعنی پیڑوی کی ہڈی سے اوپر اور ناف سے نیچے کے بالوں کو ثُنۃ کہا جاتا ہے
(العین ج۸ ص ۲۱۷)

*یاد رہے زیر ناف بالوں کی کوئی خاص حد مقرر نہیں مطلب اگر تھوڑا اوپر نیچے تک زیادہ بال بھی مونڈ دیں تو کوئی گناہ نہیں ہے،اس لیے اپنی ضرورت کے حساب سے شرمگاہ کے اردگرد جہاں تک مناسب لگے مونڈ سکتے ہیں*

*عورتیں زیر ناف بالوں کے لیے استرا ،بلیڈ استعمال کر سکتی ہیں*

کچھ لوگوں نے عورتوں کے لیے بلیڈ وغیرہ کے استعمال کو حرام قرار دیا ہوا ہے جبکہ یہ بات غلط ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں خواتین و مرد لوہے کے ذریعے ہی بال مونڈتے تھے،
لہذا عورت اپنے غیر ضروری بال صاف کرنے کے لئے لوہے کی کوئی بھی چیز(قینچی،استرا،بلیڈ وغیرہ) استعمال کر سکتی ہے۔

اس کی دلیل صحیح بخاری کی وہ روایت ہے,،

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم رات کے وقت گھر پہنچو تو اپنی عورتوں کے پاس نہ جاؤ،
لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ
حتی کہ وہ عورت جسکا خاوند غائب (سفر میں یا گھر سے باہر) رہا ہے لوہا استعمال کر لے (یعنی زیر ناف بال مونڈ لے) اور پراگندہ بالوں والی کنگھا کر لے،
(صحيح بخاری، حدیث نمبر_5246)

اس حدیث مبارکہ سے صراحت کے ساتھ عورت کے لئے لوہا استعمال کرنے کی اجازت ثابت ہوتی ہے، اور حدیث میں بھی بالوں کو مونڈنے کا حکم دیا گیا ہے،

*بہرحال مرد و خواتین کے لیے زیر ناف (عانہ کے) بالوں کو حلق کرنے (مونڈنے) کا حکم ہے اور انکو لوہے یعنی استرے ،بلیڈ سے مونڈنا ہی سنت ہے، لیکن اگر مرد و عورت میں سے کوئی بھی یہ کام لوہے کے علاوہ کسی کریم ، پاؤڈر اور سپرے وغیرہ سے کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں*

(ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 14 / 83 )

*مرد و خواتین کو بغلوں کے بال اکھیڑنے چاہیے*

یاد رہے کہ زیر ناف ،اور بغلوں کے بالوں کو صرف زائل کرنا مقصود نہیں بلکہ انہیں مخصوص طریقہ سے زائل کرنا مقصود ومطلوب ہے اسی لیے شریعت اسلامیہ نے الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ بغلوں کے بالوں کو اکھیڑا جائے اور زیر ناف بالوں کو مونڈا جائے،
بغلوں کے بالوں کو شریعت نے اکھیڑنے کا حکم دیا ہے. لہذا سنت یہی ہے کہ انہیں کھینچ کر جڑ سے اکھیڑا جائے،
اگر کوئی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا یا اکھیڑنا دشوار لگتا ہے اسے تو وہ کسی استرے کریم سے زائل کر سکتا ہے،
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿اتَّقُوا اللَّـهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾
”اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھتے ہو۔“
[التغابن : 16]
نیز دیکھئے کتاب الترجل [ص 150]
[و المجموع [288/1]

______________&&_________

*لمبے ناخن رکھنا*

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
” رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہمارے ليے مونچھيں كاٹنے، اور ناخن تراشنے، اور بغلوں كے بال اكھيڑنے، اور زيرناف بال مونڈنے ميں وقت مقرر كيا ہے، كہ ہم انہيں چاليس يوم سے زيادہ نہ چھوڑيں ”
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-258)

اس ليے ناخن نہ تراشنے والا شخص فطرتى سنتوں ميں سے ايك سنت كا مخالف ہے، اور اس ميں حكمت صفائى و ستھرائى ہے، كہ ناخنوں كے نيچے ميل كچيل جمع ہو جاتى ہے،
کچھ لوگ بہانہ بنا کر کہتے کہ ہم تو صاف رکھتے ہیں ، جبکہ اس ميں كفار كى مشابہت سے بھى اجتناب ہے جو اپنے ناخن لمبے ركھتے ہيں،
اور پھر حيوانوں اور وحشى جانور جن كے لمبے لمبے ناخن ہوتے ہيں ان سے بھى مشابہت نہيں ہوتى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ (والافتاء_ 5 / 173 )

آج عورتوں كى اكثريت ناخن لمبے ركھ كر پھر انہيں مختلف قسم اور رنگا رنگ نيل پالش سے رنگ كر وحشى جانوروں اور كفار كى مشابہت ميں پڑى ہوئى ہے، اور يہ منظر انتہائى قبيح اور غلط نظر آتا ہے، اور ہر عقل مند اور سليم فطرت ركھنے والے شخص كو اس سے نفرت پيدا ہوتى ہے، اور اسى طرح بعض لوگوں كى برى عادت يہ بھى ہے كہ وہ اپنا ايك ناخن لمبا ركھتے ہيں.
يہ سب فطرتى سنت كى واضح اور بين مخالفت ہے،

*چالیس دن سے زیادہ بال،ناخن چھوڑنے والے کی نماز کا حکم*

ناخن کاٹنا ،بغلوں کے بال اکھیڑنا اور زيرناف بال مونڈنے فطرتى سنت ميں شامل ہوتے ہيں،
اور انہيں چاليس يوم سے زيادہ دير تك نہيں رہنے دينا چاہيے بلكہ اس سے پہلے مونڈنا ضرورى ہے، اس كے متعلق ہم نے اوپر احادیث پڑھی ہیں،

لیکن یہ کہنا کہ چاليس يوم سے زيادہ مدت ان بالوں یا ناخنوں کو چھوڑنے والے کی نماز نہیں ہوتی، یہ فتویٰ بے بنیاد ہے، اس بات کی کوئی دلیل نہیں،
بلكہ ايسا كہنا شرعى احكام سے لاعلمى اور جہالت ہے.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 126)

*اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں سلامتى و عافيت نصيب فرمائے، اللہ تعالى ہى صحيح اور سيدھى راہ كى طرف راہنمائى كرنے والا ہے*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں