199

ایک مجلس میں دی گئی اکٹھی تین طلاقیں تین شمارہونگی یاایک؟اس مسئلے بارے ہرشخص کومعلومات ہونی چاہیے

*طلاق کی بہترین اور مسنون صورت یہی ہے کہ حالت طہر یا حالت حمل میں صرف ایک ہی طلاق دے کر عدت گزر جانے دی جائے۔ تاکہ عدت کے اندر یا عدت گزر جانے کے بعد بھی اگر دونوں مل بیٹھنا چاہیں اور الله کی مقرر کردہ حدود کو قائم رکھ سکیں تو تجدید نکاح سے مسئلہ حل ہوجائے۔ مسنون طلاق کے بارے تفصیل پچھلے (سلسلہ نمبر-90) میں پڑھیں*

*لیکن ایک(بدعتی ) طریقہ جو آج کل بھی کافی معروف ہے وہ ہے ایک ہی بار تین طلاقیں دینا -یعنی کوئی کہے کہ میں نے تجھے طلاق دی ،طلاق دی ،طلاق دی*

قارئین !
یہ طریقہ خلاف سنّت ہے،یعنی بدعت ہے -اگرچہ بعض فرقوں کے مطابق اس صورت میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔
مگر سنت کی رو سے یہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے،

(حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکر (رض) کے زمانہ میں اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک یک بارگی تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ پھر عمر نے کہا : لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کردیا جس میں ان کے لیے مہلت اور نرمی تھی تو اب ہم کیوں نہ ان پر تین طلاقیں ہی نافذ کردیں۔ چنانچہ حضت عمر (رض) نے ایسا قانون نافذ کردیا۔
(صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث،حدیث نمبر-3667)

 ابو الصہباء نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا :
کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر صدیق (رض) کی خلافت میں اور حضرت عمر (رض) کی خلافت میں بھی تین سال تک تین طلاقوں کو ایک بنا دیا جاتا تھا ؟
تو حضرت عباس نے فرمایا۔ ہاں،
(صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث،حدیث نمبر-3667)

 ابو الصہباء نے حضرت عباس سے کہا : ایک مسئلہ تو بتلائیے کہ رسول اور حضرت ابو بکر صدیق (رض) کے زمانہ میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہ ہوتی تھیں؟ حضرت ابن عباس نے جواب دیا، ہاں ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمر (رض) کا زمانہ آیا تو اکٹھی تین طلاق دینے کا رواج عام ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے ان پر تین ہی نافذ کردیں،
(صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث،حدیث نمبر-3667)

*مندرجہ بالا تین احادیث اگرچہ الگ الگ ہیں۔ مگر مضمون تقریباً ایک ہی جیسا ہے اور ان احادیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے*
*دور نبوی، دور صدیقی اور دور فاروقی کے ابتدائی دو تین سالوں تک لوگ یکبارگی تین طلاق دینے کی بدعات میں مبتلا تھے اور یہی عادت دور جاہلیت سے متواتر چلی آ رہی تھی جو دور نبوی میں بھی کلیتہً ختم نہ ہوئی تھی چنانچہ*

”رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی آدمی سے متعلق یہ خبر دی گئی کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ہی وقت میں دے ڈالی ہیں۔ یہ بات سن کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور غصہ میں فرمانے لگے کہ کیا کتاب اللہ سے کھیل ہو رہا ہے۔ حالانکہ میں ابھی تم لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس کو قتل کر ڈالوں؟”
( سنن نسائی كتاب الطلاق بَابُ: الثَّلاَثِ الْمَجْمُوعَةِ وَمَا فِيهِ مِنَ االتَّغْلِيظ،ثدیث نمبر-3401 سندا ضعیف ہے،
مگر اسی حدیث کو
(ابن القيم نے زاد المعاد ٥ج/ص٢٢٠ • پر ذکر کیا اور لکھا کہ إسناده على شرط مسلم)
(اور علامہ البانی نے الألباني تخريج مشكاة المصابيح ٣٢٢٧ • میں اسے صحيح کہا ہے)

*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین طلاقیں دینے والے سے سختی سے بات کی حتی کہ صحابی نے قتل کرنے کی اجازت چاہی، مگر آج المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی اکٹھی تین طلاق دینے کو جرم سمجھتا ہی نہیں جہالت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام تو درکنار، خواص بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جدائی کے لیے تین طلاق دینا ضروری ہیں*

اور اسی طرح قرآن میں
الله تعالیٰ فرماتا ہے :
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ۭ
طلاق(رجعی) دو مرتبہ ہے پھر یا تو معروف طریقے سے روک لینا ہے یا پھر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے،
(سورہ البقرہ -229)
یعنی قرآن نے دو طلاقوں کے بعد عدت کے اندر رجوع کا حق دیا اور عدت کے بعد نیا نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں،
(تفصیل سلسلہ نمبر-90)

*اگر بیک وقت دی گئی تین طلاقوں کو نافذ کردیا جائے تو دو طلاقوں کے درمیانی وقفہ میں مرد کے لیے جو سوچ بیچار کی مہلت قران نے دی تھی وہ ختم ہو جائے گی اور رجوع کا کوئی وقت نہیں ہو گا،جس سے کئی گھر ٹوٹیں گے جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے*

*اور امام الأنبیاء جناب محمد مصطفیﷺایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرتے تھے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے*

رکانہ بن عبد یزید جوکہ مطلب کے بھائی ہیں انہوں نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں پھر اس پر شدید غمگین ہوئے تو رسول اللہﷺنے پوچھا تو نے کیسے طلاق دی تھی اس نے کہا میں نے تین طلاقیں دی ہیں آپ ؐنے پوچھا ایک ہی مجلس میں ؟ اس نے کہا جی ہاں آپﷺنے فرمایا بےشک یہ تو صرف ایک ہی ہے اگر تو چاہتا ہے تو رجوع کر لے (راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباسؓ)فرماتے ہیں انہوں نے رجوع کر لیا
(مسند أحمد و من مسند بنی ہاشم مسند عبد اللہ بن عباس(2383)

(أحمد شاكر (١٣٧٧ هـ) نے صحیح۔کہا ہے،
مسند أحمد ٤/١٢٣ • إسناده صحيح)

(امام ابن تيمية نے اسکی سند کو جید کہا ہے ، مجموع الفتاوى ٣٣/٨٥ • إسناده جيد ، وله شاهد من وجه آخر)

(العظيم آبادي نے عون المعبود ٦/١٣٨ میں اسے صحيح کہا ہے)

(امام ابن القيم ، نے الصواعق المرسلة ٢/٦٢٥ • میں اسکو صحيح کہا ہے،)

(علامہ الألباني نے إرواء الغليل ٧/١٤٤ • میں حسن بمجموع طريقيه کہا ہے)

اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن حجرؒفتح الباری شرح صحیح بخاری میں کتاب الطلاق باب من أجاز طلاق الثلاث کے تحت رقمطراز ہیں کہ
:وہذا الحدیث نص فی المسئلۃ لایقبل التأویل الذی فی غیرہ من الروایات
ترجمہ:
اس حدیث نے مسئلہ کی ایسی وضاحت کی ہے کہ جس میں اس تاویل کی گنجائش باقی نہیں ہے جو کہ دوسری روایات میں کی جاتی ہے،

 یہی حدیث ابو داؤد میں اس طرح سے بھی ہے کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں ( ملتی ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: اسے طلاق دے دو ، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو ،
عبد یزید نے کہا:
اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2196)
(علامہ الألباني نے اس حدیث کو صحيح أبي داود میں حسن کہا ہے،)
(السنن الكبرى للبيهقي٧ج/ص٣٣٩ صحيح)

صحابہ کرام میں سے بہت سے جید صحابہ جیسے عبداللہ بن عباس،زبیر بن عوام، عبد الرحمن بن عوف، حضرت علی، اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین،
یہ تمام جید صحابہ کرام بھی ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی مانتے تھے،
(فتح الباری،ج10/ص456)

سعودی مفتی شیخ صالح المنجد سے اس بارے سوال ہوا تو انکا جواب تھا کہ،
تين طلاق كے مسئلہ ميں فقھاء كا اختلاف ہے، اور راجح يہى ہے كہ يہ ايك طلاق ہى شمار كى جائيگى، چاہے ايك ہى كلمہ ميں ” تجھے تين طلاق ” كہا جائے، يا پھر عليحدہ عليحدہ مثلا ” تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق ” شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اسے ہى اختيار كيا ہے، اور شيخ سعدى اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار ديا ہے،
(Islamqa۔info 96194-سوال نمبر)

*اب اس مسئلہ میں اختلاف صرف حضرت عمر فاروق رض کے حکم کی وجہ سے ہے،حالانکہ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل موجود ہو گا وہاں پر کسی ایک صحابی کے عمل کو اپنانا اور نبی کے عمل کو چھوڑنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟*

جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بعد اب کسی کو کوئی اختیار باقی نہیں رہا-
قرآن
{کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں جب کہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دیں کہ انکو انکے کام میں کوئی اختیار رہے اور جو شخص اللہ کا اور اسکے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا-
(سورۃ الاحزاب:36)​

اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں شریعت مکمل ہوچکی تھی اور:
{ الیوم اکملت لکم دینکم }
( المائدہ:3)
کی بشارت بھی مل چکی تھی اور آپ کی وفات کے بعد وحی کے آنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا تو پھر آپ کے اس فیصلہ کو کوئی بدلنے والا نہیں-
{ولا مبدل لکلمات اللہ}
(الانعام:34)
{لاتبدیل لکلمات اللہ}
( یونس:64)

اسی طرح خلافت صدیقیہ میں بھی یہی فیصلہ رہا- اس زمانے میں بے شمار صحابہ اور تابعین موجود تھے اور اسی طرح یہ اجماعی فیصلہ تھا،

*سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تعزیری فیصلہ​*
اور پھر خلافت فاروقیہ میں بھی دو سال تک اسی طرح حکم جاری رہا اس کے بعد امیرالمومنین عمر فاروق رض نے ایک سیاسی مصلحت کی بناء پر بیک وقت تین کو تین قرار دیدیا اس لیے کہ لوگوں نے اس سہولت کا ناجائز فائدہ لینا شروع کیا اور طلاق دینے میں جلد بازی کرنے لگے تو امیر المومنین عمر فاروق رض نے تین کو نافذ کردیا- اور خود علت بیان کرتے ہیں کہ : ان الناس قد استعجلو فی امر- الخ-
چونکہ لوگ ایک ایسے کام میں جلدی کرنے لگے جس میں ان کو شریعت کی جانب سے کافی مہلت دی گئی تھی، اور اللہ تعالی کی اس نعمت کی انہوں نے قدر نہیں کی، اس لیے امیر المومنین عمر رض نے اس بڑھتے ہوئے فتنہ کو روکنے کے لیے بحیثیت حاکم شرعی ہونے کے تادیبا اور تعزیرا یہ حکم جاری کیا، تاکہ لوگ اس بری حرکت سے باز آجائيں-
یہی حدیث مسلم میں تین طرق سے مروی ہے اور تیسرے میں یہ لفظ ہیں :

“فلما کان فی عھد عمر تتابع الناس فاجازۃ الیھم”
(یعنی لوگ طلاق کے معاملہ میں شرارت کرنے لگے لہذا ان پر اس کو حد جاری کردیا-)​

ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک شمار کرنا رسول اللہﷺ، ابوبکر ؓ ، اورعمر فاروق ؓ کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں تک چلتا رہا پھر جناب عمرؓ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں پر تین کا حکم لگا دیا تھا جیساکہ عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے حدیث ہم نے اوپر پڑھی ہے،
یادرہے کہ سیدنا عمر فاروق ؓ کا یہ فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا جیسا کہ
فقہ حنفی کی مشہور کتاب حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار 6/511،
جامع الرموز1/506
،مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحر میں بھی لکھا ہے:
واعلم أنَّ فی الصدر الأول إذا أرسل الثلاث جملۃ لم یحکم إلا بوقوع واحدۃ إلی زمن عمر رضی اللہ عنہ ثم حکم بوقوع الثلاث لکثرتہ بین الناس تہدیدًا
ترجمہ:
اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر عمر ؓ دور خلافت تک جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتیں تو ان پر ایک طلاق کا حکم لگایا جاتا پھر جب یہ عادت لوگوں میں زیادہ ہوگئی تو پھر تہدیدی طور پر تین طلاقوں کا حکم لگا دیا گیا،

*فقہ حنفی کی کتب کی اس صراحت سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ سیدنا عمر ؓ کا فیصلہ سیاسی اور تہدیدی تھا ۔جبکہ رسول اللہﷺکا فیصلہ شرعی اور حتمی ہے ۔لہذا ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق کا حکم رکھتی ہیں جسکے بعد خاوند کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے*

اسی طرح علامہ طحاوی نے لکھا ہے کہ:
” پس امیر المومنین عمر رض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرنے والے نہیں تھے، نہ انکو ایسا حق تھا اسکی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ وہ خود اپنے دور خلافت میں نبوی فیصلے پر کاربند تھے اور اسی کے مطابق فیصلہ نافظ کرتے تھے- اسلئے ان کے اس انتظامی قدم کو اپنے مذہب کی دلیل بنانا اختلاس ہے اقتباس نہیں – بلکہ شریعت میں ناجائز تصرف ہے-”
( حاشیہ در مختار، ج2، ص:128)​

 *امیر المومنین عمر رض کا اپنے فیصلہ سے رجوع*
بلکہ خود عمر فاروق رض نے اپنے فیصلہ سے بھی آخر میں رجوع فرمایا-
چنانچہ حافظ ابوبکر اسمعیلی کتاب مسند عمر میں حدیث لاتے ہیں:
” امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی چيز پر اتنا نادم نہیں ہوا جتنا کہ تین چيزوں پر ہوا کاش میں طلاق کو حرام نہ کرتا اور لونڈیوں کی شادی نہ کرواتا اور نوحہ کرنے والی عورتوں کو قتل نہ کرواتا-”
(اغاثۃ اللھفان لابن القیم، ج1، ص:351)​

طلاق فی نفسہ ایک مباح عمل ہے اگرچہ وہ لوگ کثرت سے طلاق دے رہے تھے، اور اس سے ایک بہت بڑا فتنہ شروع ہوگیا تھا، اور امیر المومنین نے ان کی تنبیہ کے لیے یہ قدم اٹھایا؛ تاہم آپ نے اس پر بھی [اسی طرح] ندامت کا اظہار کیا [کہ] جو چيز ایک مباح تھی، اگرچہ وہ شرارت کا سبب بن گئی، تاہم مجھے یہ حق نہیں تھا کہ ایسا قدم اٹھاؤں جس سے ایک مباح چيز جس کی اللہ نے رخصت دی ہے وہ ممنوع ہوجائے- امیر المومنین تو شرعی معاملات میں اپنے دخل دینے سے اتنے خائف تھے- اگرچہ اس میں افادیت کے کئی پہلو موجود بھی ہوں پھر بھی ایسے قدم اٹھانے پر نادم ہوجاتے تھے- پھر جب خود فیصلہ کرنے والا اپنے فیصلہ پر نادم ہے تو پھر اس کا سہارا لے کر ایک صریح اور واضح حکم [کو] جوکہ حدیث میں مذکور ہو اس کے خلاف مذہب بنانا کسی طرح جائز نہیں-

 *امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رض کے دیگر بعض انتظامی اور تعزیری فیصلے*
امیر المومنین عمر رض کے ایسے کئی اقدام ہیں جو انتظام کے طور پر تھے-
مثلا:
1_شرابی کا گھر جلانا-
(کتاب الاموال لابی عبید القاسم ابن سلام، ص:102 وما بعدھا)
2_ اسی طرح جب لوگ شراب سے باز نہیں آرہے تھے تو اس کی سزا 40 سے بڑھا کر 80 کوڑوں تک کردی اور بعض کو ملک بدر کردیا-
3_ کوفہ کے گورنر سعد رض کی جگہ کو جلانا اس لیے کہ رعیت والوں سے وہ پردہ میں تھے-
(اغاثۃ اللھفان، ج1، ص: 348- 349)

*ایسے اور کئی ان کے اقدامات ہیں اسی طرح طلاق کے مسئلہ میں بھی آپ نے انتظام کے طور پر ایک قدم اٹھایا مگر پھر اس پر ندامت کی یہ صریح دلیل ہے کہ وہ قدم اگرچہ انہوں نے اٹھایا تھا تاہم اس کو غلط سمجھنے لگے،*

*لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا فیصلہ ہی مسلمانوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے کہ ایک مجلس میں دی گئیں دو یا تین طلاقیں ایک ہی شمار ہونگی اور ایسی صورت میں ہی قرآن کی رجوع والی آیات پر بھی عمل ہو سکے گا یعنی اگر کوئی شخص ایک ہی وقت میں اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے دے تو وہ ایک شمار ہو گی اور شوہر اس ایک طلاق کے بعد عدت کے اندر بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور عدت کے بعد نکاح کر کے وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں،*

*لہذا یہ جاہل ملا کا بنایا ہوا حلالہ نکلوانے والا طریقہ چھوڑ دیں*

*انڈیا کے بعد اب گورنمنٹ آف پاکستان نے بھی تین طلاقیں اکٹھی دینے پر پابندی لگا دی ہے اور جو شخص تین طلاقیں اکٹھی دے گا اس کو ایک سال کی قید ہوگی اور ایک لاکھ جرمانہ دینا پڑے گا*

*بے شک لوگوں کی فلاح قرآن و سنت پر عمل کرنے میں ہی ہے،اللہ طاک صحیح معنوں میں دین اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں،*
آمین

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں