کرینہ کپورکی سیاست میں انٹری،کونسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑینگی

ممبئی (ویب ڈیسک )بولی وڈ بے بو کرینہ کپور یوں تو فلموں میں سیاست اور چالاک بازیاں کرتی نظر آتی ہیں، تاہم اب اطلاعات ہیں کہ وہ حقیقت میں بھی سیاست کرتی دکھائی دیں گی۔اگرچہ کرینہ کپور سے قبل بھی متعدد بولی وڈ اداکار سیاست میں آ چکے ہیں اور کچھ لوگ تو رکن پارلیمنٹ اور وزارتوں کے مزے بھی لوٹ چکے ہیں۔بھارتی اداکار نہ صرف رکن پارلیمنٹ اور وزارت بلکہ اعلیٰ حکومتی عہدوں پر بھی رہے ہیں۔بھارت کی سیاسی پارٹیاں اداکاروں کی شہرت اور عوامی

مقبولیت سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے انہیں میدان میں اتارتی ہیں اور بعض مرتبہ ان کی سیاسی حکمت عملی کامیاب بھی جاتی ہے۔اور اب اسی سیاسی حکمت عملی کے تحت بھارت کی مرکزی سیاسی جماعت ’انڈین نیشنل کانگریس‘ (کانگریس) بھی بولی وڈ بے بو کرینہ کپور کو سیاسی میدان میں اتارنے کا سوچ رہی ہے۔اطلاعات ہیں کہ بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے کانگریس عہدیدار چاہتے ہیں کہ کرینہ کپور کو حریف جماعت کے امیدواروںٓ کے خلاف 2019 کے انتخابات میں اتارا جائے۔شوبز ویب سائیٹ ’پنک ولا‘ کے مطابق اطلاعات تھیں کہ کانگریس کے مقامی رہنما یوگندرا سنگھ چوہان نے پارٹی کے صدر راہول گاندھی کو خط لکھ کر کرینہ کپور کو پارٹی ٹکٹ دینے کی تجویز دی ہے۔رپورٹ میں ایک اور نشریاتی ادارہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مدھیا پردیش کے مقامی رہنماؤں نے کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو خط میں لکھا ہے کہ وہ کئی سال سے بھوپال سے الیکشن ہارتے آ رہے ہیں، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ کسی مضبوط امیدوار کو میدان میں اتارا جائے۔رپورٹ کے مطابق خط میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ بھوپال سے مرکزی انتخابات جیتنے کے لیے پٹودی خاندان کے کسی فرد کو ٹکٹ دینا لازمی بن چکا ہے اور کرینہ کپور اس کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔خط میں واضح طور پر راہول گاندھی کو تجویز دی گئی ہے کہ کرینہ کپور کو ٹکٹ دے کر حریف جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دی جاسکتی ہے۔تاہم دوسری جانب کرینہ کپور نے ایسی خبروں کو مسترد کردیا۔پنک ولا نے بتایا کہ کرینہ کپور نے واضح کیا کہ تاحال ان سے اس حوالے سے کسی نے رابطہ نہیں کیا اور اب تک سامنے آنے والی اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں۔دوسری جانب این ڈی ٹی وی نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کرینہ کپور نے اپنے جاری کیے گئے بیان میں سیاست میں آنے کی خبروں کو مسترد کردیا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہیں تاحال ٹکٹ دینے کی پیش کش نہیں کی گئی۔ساتھ ہی کرینہ کپور نے واضح کیا کہ فوری طور پر ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں، وہ اس وقت اپنے فلمی کیریئر پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔خیال رہے کہ جس مرکزی حلقے سے کرینہ کپور کو ٹکٹ دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اسی حلقے سے ان کے سسر اور سیف علی خان کے والد منصور علی خان پٹودی 1991 میں کانگریس کی ٹکٹ پر انتخابات جیت چکے ہیں۔کانگریس نے آخری بار 1991 میں ہی سیٹ جیتی تھی، جسے منصور علی خان نے ہی جیتا تھا، اس کے بعد کانگریس مسلسل اس سیٹ پر شکست سے دوچار ہے۔مسلسل شکست سے دوچار ہونے کے بعد کانگریس کی مقامی قیادت نے مرکزی قیادت کو کرینہ کپور کو ٹکٹ دینے کی تجویز دی ہے، تاہم بے بو نے فوری طور پر سیاست میں انٹری دینے کی تجویز کو مسترد کردیا۔کرینہ کپور کو کانگریس کی جانب سے ٹکٹ دیے جانے کی خبر ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب کہ کچھ ماہ قبل ہی بھارتی مسلمان صحافی اور لکھاری رشد قدوائی کی شائع ہونے والی کتاب ‘نیتا ابھینیتا’ میں اداکارہ اور راہول گاندھی سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے تھے۔اس کتاب میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کرینہ کپور کیریئر کے آغاز میں راہول گاندھی پر فدا تھیں اور کانگریس کے صدر بھی ان کے بڑے چاہنے والوں میں شامل تھے۔اس کتاب میں دونوں کی جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ کی جانے والی باتوں اور ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ دونوں کے درمیان تعلقات تھے اور دونوں ایک دوسرے کو چاہتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں