127

پڑھیئے راجہ محمدزبیربھٹی کاکالم:کشمیری عالمی حمائت سے محروم کیوں؟

کشمیری عموماً دنیا بھر سے اور خصوصاً اقوامِ متحدہ،او آئی سی اور دوسری انسانی حقوق کی تنظیموں سے ہمیشہ شاکی رہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے مہذب معاشرے محض دکھاوے کا درد دل رکھتے ہیں۔کتوں،بلیوں اور حشرات الارض سے محبت اورہمدردی جتانے والی صرف خبریں اور فلمیں ہی میڈیا پر نشر کرتے ہیں بصورت دیگر ان کے رویّوں کوئی انسانی ہمدردی نہیں پائی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام ادارے کچھ مخصوص طاقتوں کے مفادات کے تحت کام کرتے ہیں۔یہ عدل و انصاف اور اعلیٰ انسانی اقتدار کا صرف ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جب کہ عملاً کسی مظلوم کی مدد کرنے سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اہلِ کشمیر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا صرف مالی مفادات ، اقتدارا وراختیار ات کے حصول کے لیے کام کرتی ہے۔کچھ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر چونکہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے اس لیے غیر مسلم بالا دست قوتیں جان بوجھ کر اسے نظر انداز کرتی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر میں تیل نہیں نکلتا اس لیے کسی کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔
کشمیریوں کا یہ گلہ اپنی جگہ بجا ہے۔وہ گزشتہ 70سالوں سے قابض ممالک کے جبر و تشددکا شکار ہیں اور انہیں اس ستمِ مسلسل سے نجات دلانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔کوئی فرد،ادارہ یا حکومت ان کی داد رسی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔1947سے آج تک بھارتی فوج کے ہاتھوں لاکھوں کی تعداد میں کشمیری قتل اور معذور ہوئے،ہزروں خواتین اور بچیوں کے عصمت دری کی گئی ،گھر اور جائیدایں نذر آتش کی گئیں،لوگوں کے ذرائع روزگار برباد کیے گئے اور لاکھوں لوگ اپنے گھربار سے در بدر ہو کر بغیر کسی تحفظ اور شناخت کے دوسرے ممالک میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ہزاروں کشمیری بھارتی جیلوں میں صرف کشمیری ہونے کی وجہ سے صعوبتیں سہہ رہے ہیں۔ملک کے درمیان میں کھینچی گئی غیر قانونی سیز فائر لائن پر پاکستان اور بھارت لگاتار گولہ باری کرتے رہتے ہیں۔فوجی تو محفوظ بنکروں اور مورچوں کے اندر ہوتے ہیں اس لیے گولہ باری ان پر اثر انداز نہیں ہوتی لیکن بے چارے کشمیری،ان کی املاک اور جانور تسلسل کے ساتھ لقمہء اجل بنتے رہتے ہیں۔ کشمیر کی زمین اور شہری جبری طور پر چار ٹکڑوں میں کاٹ دیے گئے ہیں اورایک ہی گھر اور خاندان کے لوگوں پر ایک دوسرے سے میل ملاقات پر بھی مکمل پابندی عائد ہے۔ دنیا میں شائد ہی کوئی قوم اس قدر مظالم کا شکار ہوئی ہو جس قدر کہ کشمیری باشندے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور قابل تشویش امر یہ ہے کہ یہ سلسلہ آج تک بدستور جاری وساری ہے اور اس میں کسی قسم کے تعطل کا دور دور تک کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا۔ایسے حالات میں اس معاملے میں دو امکانات سامنے آتے ہیں۔اول یہ کہ دنیا واقعی بے حس بے ضمیر اور لاپرواہ ہے۔اسے انسانیت کے شرف ووقاراور تحفظ سے کوئی لینا دینانہیں ہے اوردوم یہ کہ کشمیریوں کا موقف غلط ہے۔
جہاں تک اقوامِ عالم کے قول و فعل کا تعلق ہے ممکن ہے کہ کچھ حلقے واقعی محض سیاسی و معاشی مفادات کی خاطر عمل اور ردِّ عمل کرتے ہوں لیکن مجموعی طور پر ایسا ہر گز نہیں ہے۔ دنیا میں زندہ ضمیر اور ہمدرد لوگ واضح اکثریت میں ہیں۔وہ حتی القدور اپنے ارد گرد ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے خلاف نہ صرف آواز اٹھاتے ہیں بلکہ علمی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ابی کچھ عرصہ پہلے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مقامی حکومت نے فوجی اوپریشن کروایا جس میں لوگوں پر ویسے ہی مظالم ڈھائے گئے جیسے کشمیریوں پر سات دھائیوں سے جاری ہیں۔اس پر ساری دنیا میں ہلچل مچ گئی۔مہذب لوگوں نے اس پر بڑے جاندار طریقے سے آواز اٹھائی اور نتیجے میں میانمار حکومت کو جواب دہ ہونا پڑا۔اس وقت چین نے اپنے لاکھوں مسلمان شہریوں کو حیلوں بہانوں سے جیلوں میں بند رکھا ہوا ہے اور ان بہت سختی برتی جاتی ہے اس پر دنیا کے انسانیت پرست لوگ چین کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔وہ چینی حکومت کو اپنا رویّہ نہ بدلنے کی صورت میں تادیبی کارروائیوں کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔ابھی چند ماہ پہلے امریکی حکومت نے امریکہ آنے والے تارکینِ وطن کے لیے بچوں اور والدین کو علیحدہ علیحدہ رکھنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت معصوم بچوں کو ان کے والدین سے دور کر کے الگ الگ کیمپوں میں رہنے پر مجبور کردیا گیا۔اس سے ایک بڑی المناک صورت حال پیدا ہو گئی۔جونہی یہ خبر عوام تک پہنچی ساری دنیا میں اس کی مذمت شروع ہو گئی یہاں تک کہ خود امریکی حکومت کے اراکین اور ٹرمپ کے گھر والوں نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ قانون تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔یوں صدر ٹرمپ کو یہ قانون تبدیل کرنا پڑا۔اس کے علاوہ افریقہ،مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے مختلف ممالک سے ہجرت کرنے والے لاکھوں لوگوں کو یورپ ممالک یہ صرف پناہ دے رہے ہیں بلکہ ان کی بھرپور کفالت بھی کرتے ہیں۔بیرونی لوگ کئی کئی سالوں تک مہاجرین کے کیمپوں میں رکھے جاتے ہیں اور انہیں اعلیٰ معیار کی ضروریات زندگی بغیر کسی لالچ کے مہیا کی جاتی ہیں۔دنیا میں کہیں بھی کوئی قدرتی یا انسانی آفت آ جائے انسانیت کے محافظ وہاں ہر قسم کی امداد پہنچاتے ہیں۔اس تناظر میں یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ دنیا میں اعلیٰ انسانی اقدار کی کوئی کمی ہے۔تو کیا کشمیریوں کا موقف حق پر مبنی نہیں ہے؟
کشمیر کا مسئلہ 22اکتوبر 1947کو شروع ہوا جب پاکستان نے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر کی سر زمین پر حملہ کر کے کشمیریوں کا قتلِ عام اور لوٹ مار کرتے ہوئے قبضہ کر لیا۔کشمیریوں نے بھارت سے مدد طلب کی۔بھارت نے اپنی فوج بھیج کر پاکستان کو روک تو دیا لیکن اسے باہر نکالنے میں ناکام ہو گیا۔اس پر وہ اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوا۔اقوام متحدہ نے اس کو ایک مسئلہ تسلیم کر کے سماعت کی اور وہاں پرمتفقہ طور پر یہ طے پایا کہ پاکستان کشمیر سے اپنی ساری فوج نکالے گا اور بھارتی فوج کا کچھ حصہ اور اقوام متحدہ مل کر کشمیر میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کروائیں گے اور اس طرح ملک کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے فورم پر بھارت مدعی ہے جبکہ پاکستان ایک نامزد ملزم ہے اور پاکستان نے اپنا جرم تسلیم کر تے ہوئے اس کا ازالہ کرنے کا قرار دے رکھا ہے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر نے محکوم اور غلام قوموں کو غاصبوں کے خلاف مسلح جنگ کرنے کا حق بھی دے رکھا ہے۔ان حالات سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ کشمیری عوام کسی قسمی کی زیادتی یا قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہو رہے اور یہ کہ وہ صد فیصد حق پر ہونے کی بنا پر قابل داد رسی ہیں۔ان کا موقف کسی طور بھی ناجائز یا قابل اعتراض نہیں ہے۔یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا بھی زندہ ضمیر ہے اور کشمیر بھی حق پر ہیں تو ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی؟انہیں جبر مسلسل اور اذیت سے چھٹکارہ کیوں نہیں دلایا جاتا؟
اس سوال کا جواب اگرچہ تلخ ہے لیکن موجود ہے کہ کشمیری قوم کا کوئی واضح موقف نہیں ہے جس کی دنیا حمائت کرسکے۔انہیں ابھی تک خود ہی یہ علم نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔کشمیری لیڈر ایک ہی جگہ ایک ہی وقت پر کئی کئی مطالبات پیش کرتے ہیں۔مثلاً عمومی مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ انڈیا کشمیر سے اپنی فوج نکالے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں نے کچھ شرائط کے تحت انڈیا کو کشمیر بلایا تھا اور جب تک وہ شرائط پوری یہ ہوں انڈیا یہاں سے جا ہی نہیں سکتا۔ان شرائط میں اولین اور بنیادی شرط کشمیر سے پاکستانی فوج کامکمل انخلاء ہے۔کشمیریوں کا دوسرا مطالبہ خود مختاری ہے لیکن کس سے؟یہ واضح نہیں ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انڈیا سے خود مختاری چاہتے ہیں۔تیسرا مطالبہ حقِ رائے شماری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے ان کے ساتھ رائے شماری کا وعدہ کر رکھا ہے اس پر عملدرآند کیا جائے۔چوتھ مطالبہ یہ ہے کشمیریوں کو حکومت خود اختیاری دی جائے۔پانچواں مطالبہ ہے کہ کشمیری انڈیا کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں۔چھٹا مطالبہ ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بننا چاہیے۔ایک آواز یہ بھی ہے کہ کشمیر تو ہے ہی بھارت یا پاکستان کا اٹوٹ انگ۔ کچھ کشمیری چاہتے ہیں کہ کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کر دیا جائے،کچھ اس کو جوں کا توں رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ علاوہ ازیں ایک جہادی طبقہ بھی ہے جو پاکستانی وسائل کی مددسے بھارت کے خلاف مسلح جہاد میں مصروف ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ کشمیر کو انڈیا سے آزاد کروا کر پاکستا ن میں مدغم کیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔
الغرض کہ کشمیریوں کے ان ڈھیروں مطالبات میں آزادی کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کشمیری آزادی کا مطالبہ کریں گے تو لا محالہ انہیں اس قوت سے مخاطب ہونا پڑے گا جس نے ان کی آزادی چھینی ہے اور وہ پاکستان کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔کشمیری پاکستان سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں مگر آزادی کا مطالبہ نہیں۔جس طرح کشمیری ذہن کوئی ٹھوس موقف نہیں رکھتا اور الجھن کا شکار ہے اسی طرح باقی دنیا بھی تذبذب کا شکار ہے کہ وہ کشمیریوں کے کس مطالبے کی حمائت کرے۔
کشمیری عوام کو اگر بیرونی دنیا کی حمائت درکار ہے تو انہیں ٹامک ٹوئیاں چھوڑ کرکوئی ایک موقف اپنانا ہوگا۔ اگروہ باقی سب کچھ چھوڑ کرصرف ایک آزادی کا مطالبہ لے کر چلیں توساری دنیا ان کی پشت پر کھڑی ہو گی اور وہ نہ صرف اپنے اوپر ہونے والے لا متناہی ظلم و جبر سے چھٹکارہ حاصل کریں گے بلکہ آزادی کی نعمت سے بھی ہمکنار ہو جائیں گے۔حقِ آزدی کا مطابہ ایک ایساموقف ہے جس پر کسی کشمیری کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور یہی مطالبہ دنیاکو ان کی امداد کے لیے معقول جواز بھی فراہم کرسکے گا۔ بصورت دیگر کشمیری نسل در نسل اس ظلم،جبر ،غلامی،تقسیم اورغیر انسانی سلوک کا نشانہ رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں