290

پڑھیئے راجہ محمد زبیر بھٹی کی تحریر میرا مثالی محلّہ

گردشِ دوراں نے مجھے ایک بڑے سے گاؤں کے ایسے محلے میں لا کر آباد کیا ہے جو پورے گاؤں تو کیا مجھے لگتا ہے کہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہوگا۔یہاں کے سبھی باسی ماشااللہ مسلمان ہیں لیکن ویسے نہیں جیسے کتابوں میں لکھا ہوتا ہے۔پرانے لوگوں کا تو تعلیم وتربیت سے کوئی واسطہ نہیں ہے لیکن نئی پود کے کچھ پھول کافی پڑھ لکھ گئے ہیں اس کے باوجود وہ حالات کی مجبوری کی وجہ سے یا اپنے ذوق و شوق سے بڑوں کے نقشِ قدم کو اپنا کر سعادت مندی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔
میرے اہلِ محلہ خود کو دنیا کی بہترین مخلوق قرار دیتے ہیں۔بعض اوقات تو ان کی باتیں سُن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ نعوذ بااللہ اوتار اور رشی بھی ان کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ان لوگوں میں بے شمار خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ان کی سب خاصیتوں کا احاطہ اس تحریر میں ممکن نہیں ہے لیکن چند ایک کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا۔میرے محلے داروں کی ایک بنیادی صفت یہ ہے کہ یہ آپسی پیار و محبت اور احترامِ باہمی جیسی بدعات سے کافی حد تک پاک ہیں جب کہ عداوت،حسد اور بُغض جیسی خوبیوں سے مالا مال ہیں۔ہر فرد دوسرے کے جینے کو ایک جُرم بلکہ گناہ کبیرہ خیال کرتے ہوئے اس امر کی بڑی فراخدلی سے کوشش کرتا ہے دوسرا امن وسکون سے زندہ نہ رہ سکے۔ویسے تو ان لوگوں کی ہر ممکن کوشش رہتی ہے کہ دوسرے سے جس قدر ممکن ہو دور رہا جائے لیکن کیا کریں اس ظالم زندگی کا کہ یہ پھر بھی دوسروں سے میل جول پر مجبور کر ہی دیتی ہے۔ایسے میں اگر دو لوگ آپس میں ملتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ وہ کسی کے لیے کوئی راحت یا آسانی پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کا اتحاد ہمیشہ کسی تیسرے کو پریشان کرنے کے لیے وجود میں آتا ہے۔
ہمارے محلے میں پانی کی شدید کمی رہتی ہے اوپر سے ہم پر قدرت کی نظرِ خاص بھی رہتی ہے اس لیے یہاں زیر زمین پانی بھی نہیں ہے۔ ارد گرد کے تمام علاقوں میں پانی موجود ہے لیکن ہمارے محلے میں نہیں ہے۔اگر کسی ذریعے سے یہاں پانی آ جائے تو ہر بندہ سر توڑ کوشش میں ہوتا ہے کہ دوسرا اس سے محفوظ رہے۔لوگوں کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل کم ہیں اس لیے خود بھرنے کے بعد وہ سبزی کی کیاریوں یا کھیتوں میں پانی لگا دیتے ہیں۔وہ فالتو پانی نالیوں میں بہانا پسند کرتے ہیں لیکن کیا مجال کہ وہ کسی انسان تک اسے پہنچنے دیں۔ایک دوسرے کے پائپ کاٹنا،بلاک کرناہر بندہ اپنا فرضِ منصبی سمجھتا ہے۔دوسروں کی کیبل اور بجلی کی تاریں کاٹنا بھی ہمارے رواج میں شامل ہے۔
محلے میں آنے والا راستہ مختلف لوگوں کی زمین سے گزرتا ہے اس لیے دوسروں کا راستہ بند کرنا ان لوگوں کا محبوب مشغلہ ہے۔جب نفرت عروج پا جاتی ہے تو راستے میں کانٹے بچھانے اور کچرا ڈالنے کی خدمت بھی انجام دی جاتی ہے۔کسی کو کوئی تجویز یا پیغام دینا ہو تو و ہمیشہ راستہ بند کرنے یا عدالت میں جانے کی دھمکی کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ان حالات میں باہر کے لوگوں کو راستہ کھلوانے کے لیے بطور ثالث بلایا جاتا ہے پر دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک بار آنے والا دوسری بار کبھی نہیں آتا۔
میرے پڑوسی ایک دوسرے کا اس لحاظ سے خاص خیال رکھتے ہیں کہ کسی دوسرے کو کوئی آسانی یا مدد نہ مل جائے۔اگر ایسا کوئی احتمال ہو تو یہ لوگ بڑی ذمہ داری اور لگن کے ساتھ اس کا بر وقت تدارک کرتے ہیں۔طنزیہ جملے بولنا ،اشاروں کنایوں میں دوسروں کو توہین کا احساس دلانے اور گالیوں سے تواضع کرنا ایک مستحسن روائت ہے اور اس کے لیے کوئی وجہ ہونا بھی ضروری نہیں۔محلے کے راستے ملے جلے ہیں اس لیے یہاں آنے والا بندہ اگر غلطی سے کسی دوسری گلی میں چلا جائے تو وہ بھی ان لوگوں کی گالیوں اور توہین آمیز رویے سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہتا۔حد تو یہ ہے کہ گالیاں کھانے والا تو دور بعض اوقات گالیاں دینے والے کو بھی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
میرے لوگوں کی یادداشت بہت اچھی ہے۔ یہ پنچائتوں اور عدالتوں میں معائدے کر کے بڑی آسانی سے بھول جاتے ہیں۔عقل ودانش میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔سڑک تو در کنار انہیں صاف ستھرا راستہ بھی اچھا نہیں لگتا۔بارش کر موسم میں اگر کوئی سفید پوش محلے سے گزر جائے تو وہ اپنے کپڑوں پر بڑی نفیس اورنادر قسم کی گلکاری سے محظوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جوتوں پر غسل بھی فرض ہو جاتا ہے۔گاؤں کے وہ افراد جنہیں علاقے میں معزز سمجھا جاتا ہے،میرے محلے میں قدم رکھنا اس کی بے ادبی خیال کرتے ہیں اس لیے وہ خطا کارہونے سے بچنے کے لیے یہاں آنے سے حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔
دوسرے علاقوں کے عوام کو جب بھی اخلاقیات کے انحطاط کے عروج کی مثال دینے ہو وہ بلا تردد ہمارے محلے کا نام لیتے ہیں۔ میرے محلے دار اپنی ان عادات اور رسوم پر اتنے راسخ ہو گئے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں بدل نہیں سکتی۔وہ اپنی ان خصوصیات کو گراں قدر سرمایہ جانتے ہوئے ان کی دل و جان سے حفاظت کرتے ہیں اور ان پر بہت فخر کرتے ہیں۔
یہ میرے اہل محلہ کے اعلیٰ و ارفعہ اخلاقیات کا مختصر سا خاکہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ سب لوگ ایک جیسے ہیں۔ یہاں کچھ ناپسندیدہ افرا بھی موجو دہیں۔ان کی طبیعتیں فطرتاً ایسی ہیں کہ وہ انفرادی طور پر عام محلے داروں سے سے الگ طرز فکر و عمل رکھتے ہیں۔اوروں کی عزت کرنے کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور تعاون کے جذبات بھی رکھتے ہیں لیکن جب ان کی ٹیم ایکشن میں ہوتی ہے تو انہیں مجبوراً اپنی ٹیم ہی کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔یہاں ایک اور دلچسپ بات بھی ہے کہ دیگرمحلے داروں سے مختلف افراد کی محلے تو کیا اپنے گھر میں بھی کوئی عزت نہیں ہے۔نہ ان کی بات سنی جاتی ہے نہ انہیں کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔البتہ دیگر گاؤں والے ان کی قدر کرتے ہیں۔قارئین کرام اس خاکے سے میرے اہلیان محلہ کی نفسیات بخوبی سمجھ گئے ہوں گے۔اگر آپ میں سے کسی کے محلے داروں میں ایسی خوبیاں ہوں تو مہربانی کر کے مطلع کریں ورنہ میں اپنے محلے کو بے مثال سمجھنے میں حق بجانب ہوں گا۔ایسے میں اگر انسانیت کی گراوٹ کا کوئی عالمی ایوارڈ نکل آیا تو اس پر میرے علاوہ کسی اور بستی کا حق بالکل نہیں ہو گا۔
(نوٹ ! اپنے مغل دوستوں اور عزیزوں کو سوچ بچار کی زحمت سے محفوظ رکھنے کی خاطر محلے کا نام نہیں لکھا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں