246

پڑھیئے حافظ محمد صدیق ساقی کاکالم: معاشرہ میں خودکُشی کے بڑھتے ہُوئے واقعات

آئے روز خودکُشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کیوں وقوع پذیر ہو رہے ہیں؟اوران کے عوامل کیا ہیں؟میرے خیال میں اس کے درج ذیل عوامل ہیں:(1) غُربت(2)گھریلو ناچاقی(3)قرض(4) نام نہاد محبت میں ناکامی وغیرہ ،آیئے اسلامی حوالہ سے اس فعل کا جائزہ لیتے ہیں، حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی ہتھیار سے خودکُشی کرے تو جہنم میں وہ ہتھیار اس شخص کے ہاتھ میں ہو گااور وہ شخص اس ہتھیار سے جہنم میں خود کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا اور جو شخص زہر سے خودکُشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا جو شخص پہاڑ سے گِر کر خودکُشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا (مسلم شریف) اس حدیث پر یہ اعتراض ہو تا ہے کہ خودکُشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کُفر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب سے انسان دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوتا ،تو پھر خودکُشی کرنے والا جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کس وجہ سے رہے گا ؟ اس کے اعتراض کے دو جواب ہیں(1)جس شخص نے خودکُشی کا فعل حلال سمجھ کر کیا حالانکہ اس کو خودکُشی کے حرام ہونے کا علم تھا وہ کافر ہو جائے گا اور کافر کے لیے دائمی عذاب ہے یہ حدیث اس صورت پر محمول ہے۔ (2) اس حدیث میں خلود سے مراد مُدّتِ طویل ہے یعنی وہ شخص طویل مُدّت تک عذاب میں مبتلاء رہے گا۔کیا خودکُشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟مسلم شریف کی حدیث نمبر 2158میں ہے کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک ایسے شخص کا جنازہ لایا گیا جس نے اپنے آپ کو تیر سے ہلاک کر لیا تھا آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، علامہ نووی لکھتے ہیں امام اوزاعی کا نظریہّ یہ ہے کہ خودکُشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور ان کی دلیل حدیثِ مذکو ر ہے اس کے برخلاف حسن ، نخعی ، قتادہ ، امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ خودکُشی کرنے والے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس حدیث کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے زجر و توبیج کے لیے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تا کہ لوگ خودکُشی سے باز رہیں اور صحابہ کرام نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی تھی اس کی مثال ایسے ہے کہ آپﷺ نے ایک مرتبہ ایک مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور صحابہ کرام کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا تا کہ لوگ قرض کی ادائیگی میں سُستی سے باز رہیںآخر میں، میں نوجوان نسل سے مودبانہ التماس کرتا ہوں کہ وہ اپنے جذبات کو کنٹرول کریں والدین آپ کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں کوئی والد اور کوئی والدہ اپنے بچوں کو زندگی کی دوڑ میں ناکام نہیں دیکھنا چاہتے ! دراصل والدین آپ کو بُرے ماحول سے بچا کر آ پ کے حال کو خوشحال اور مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے ٹھنڈے دماغ سے اپنے احوال پر غور کریں میں یہاں والدین اور دیگر افراد خانہ کو بھی یہ میسج دینا چاہتا ہوں کہ حالات کی نزاکت کا احساس کریں ممکنہ حد تک بچوں کو پرسکون ماحول فراہم کریں یاد رکھیے! بے جا سختی اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بنتی ہے اور پھر نا خوشگوار حادثات جنم لیتے ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا فہم نصیب کرے اور ہمارے گھروں کو امن و سکون کا گہوارہ بنائے۔ (آمین ثم آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں