265

پڑھیئے غضنفرعلی راجہ کی دل دہلادینے والی تحریر خواہشِ رزق نے چھینامیرابچپن مجھ سے

یوں تواللہ تعالیٰ نے ہرذی روح کواپنے ہم نسل دیگرجانداروں سے مختلف پیداکیاہے اورپھراپنی پیداکردہ مخلوقات میں مختلف خوبیاں خامیاں شامل کرکے کائنات کے حسین نظام کوقائم کیاہے لیکن بعض اوقات جب ہم اپنے معاشرے پراوراپنے اردگردروزمردہ پیش آنے والے معاملات پرچلتے پھرتے انسانوں پر،دھنددھناتی گاڑیوں پر،فلک بوس عمارتوں اورخش وخاشاک سے بنے جھونپڑوں پر،ماورائے عقل کارخانوں پراوران کے اندرجلنے والے ایندھن لہوپر،میلوں پھیلی جاگیروں اورجاگیردارکے ہاتھوں تڑپتی سسکتی انسانیت پر،اس ملک کے بے تاج بادشاہوں اورفٹ پاتھ پردم توڑتے بے بس مزدوروں پرنظرڈالتے ہیں توبلاشبہ یہ نتیجہ اخذکرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے کہ قدرت الٰہی نے کائنات میں اونچ نیچ کافرق حسنِ فطرت کے لیے پیداکیاہے ورنہ کارخانہ قدرت میں تمام انسانوں کوایک جیسی صلاحیتوں کامالک بنانا،برابردولت عطاکرنااورایک ہی عقل سے نوازناناممکن نہ تھا لیکن جب انسان نے اس فطری حسن میں نکھارپیداکرنے اورقدرت کے عطاء کردہ فضائل کوانسانیت کی بہتری کی بجائے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرناشروع کیاتومعاشرہ مختلف طبقات میں بٹتاچلاگیا اوراگرآج ان طبقات کوکتناہی یکجاکیوں نہ کیاجائے توباوجودہرکوشش کے معاشرے کے اندرایک واضح خلیج موجودہے جس کے ایک کنارے پرامیرہیں تودوسری طرف غریب۔ایک طرف ظالم ہے تودوسری طرف مظلوم،ایک طرف جاگیرداراورسرمایہ دارہے تودوسری طرف مظلوم وبے بس مزدور اورلاکھ کوشش کے باوجودایک کنارے کاانسان دوسرے کنارے تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ ایسی کوشش کرنے والا اس خلیج کی بے رحم خونی لہروں کی نذرہوجاتاہے۔ایک ایسامعاشرہ جہاں قانون بنانے والے سے لے کرنافذکرنے والے تک انصاف دینے والے سے لے کردلانے والے تک ظلم کرنے والے سے لے کرمجرم کوسزادینے والے تک کرپشن کرنے والے سے لے کراحتساب کرنے والے تک سب ایک ہی کنارے پربستے ہو ں توکیاآپ یہ توقع کرسکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی دوسرے کنارے پرکھڑے انسان کی بات کرے گاجواس نے کبھی دیکھاہی نہیں۔جہاں ہرطرف غنڈہ گردی کاراج ہو،لہوانسانی پانی سے بھی ارزاں ہو،رشوت،ڈاکہ زنی،زنا،گینگ ریب،اغوا اورقتل جیسے قبیح افعال معاشرے میں روزمرہ کے معاملات ہوں اورجس ملک کے ناخداایسے واقعات پرفکرمندہونے اورانہیں روکنے کی بجائے ان کے عادی ہوچکے ہوں توکیاایساملک ومعاشرہ اپنے آپ کومہذب اورشاہراہ ترقی پرگامزن تصورکرسکتاہے۔جہاں ایک طرف فلک بوس عمارتیں ہوں اوردوسری طرف چھت سے بھی محروم بسترسے ناآشنامزدورہو،ایک طرف آنکھوں کوچندیادینے والی گاڑیاں ہوں اوردوسری طرف پیدل چلنے والے مجبورانسان،ایک طرف نشۂ دولت میں مخمورکارخانہ داراوردوسری طرف دووقت کی روٹی کوترسنے والامحنت کش طبقہ جہاں ایک طرف بچے کی پیدائش اوردیکھ بھال پرلاکھوں روپے خرچ کیے جارہے ہوں اوردوسری طرف ایک بچہ پیٹ کاجہنم بھرنے کی فکرمیں ہو۔
قارئین کرام!ذرائع آمدن کی قلت ہے،روزگارکی کمی ہے،صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابرہے،قومی آمدن ہماری ضروریات کوپوراکرے کے لیے ناکافی ہے۔ان سب باتوں سے مجھے اتفاق بھی ہے لیکن جب اس ملک کے بے تاج بادشاہوں کے شاہی محلات پرنظرپڑتی ہے جنہیں دیکھ کرجہانگیراوراکبربادشاہ بھی غریبی کاروناروتے اورایسے حکمرانوں کی شہ خرچیاں دنیاکے ترقی یافتہ ممالک بھی برداشت کرنے سے شایدعاجزآجائیں توخیال آتاہے کہ شایدہماراملک دنیاکاامیرترین خطہ ہے کیوں کہ جس ملک میں ایک ایک بچے کوسکول لانے اورلے جانے کے لیے لاکھوں روپے کی گاڑی،باوردی ڈرائیور،گھرمیں صبح شام ٹیوٹر جس کی خدمت میں حاضرہووہ ملک بھلاکیسے غریب ہوسکتاہے۔
لیکن صدافسوس ہمارے ملک میں ایسے بچے بھی ہیں جوحالات سے مجبورہوکرصرف چندروپوں کی خاطر صبح سے شام تک ورکشاپوں میں کام کرتے ہیں یاپھرکسی ہوٹل میں برتن دھورہے ہوتے ہیں۔اب توان معصوم بچوں پرجنسی تشددکارجحان بھی زورپکڑگیاہے۔اول الذکربچے بھی معصوم ہیں اورثانی الذکربھی،وہ بھی ملک وقوم کے مستقبل کے معمارہیں اوریہ بھی جانب منزل گامزن،وہ بھی اپنے والدین کے دل کی دھڑکن ہیں اوریہ بھی والدین کے بڑھاپے کاسہاراہیں لیکن دیکھنایہ ہے کہ ان بچوں اوراُن بچوں میں فرق کیاہے۔کیایہ پیدائشی غریب ہیں،کیاان میں صلاحیتیں کم ہیں،کیاغریب کے گھرجنم لیناجرم ہے یاغریب کے گھرپیداہونے والے بچے کاپیدائش کوئی سنگین جرم ہے؟اگرنہیں توپھران ہوٹلوں،ورکشاپوں میں دکھائی دیے جانے والے کم سن معصوم بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں کس نے چھینی ہیں؟مٹی کے بنائے ہوئے کھلونے زیادہ دیرتک کیوں نہ ان کے ہاتھوں میں رہ سکے؟کیابچپن کی رنگینیوں اوربہاروں سے لطف اندوزہونے کاانہیں کوئی حق حاصل نہ تھا؟تعلیم جیسی نعمت سے بہرہ مندہوناان کامقدرنہ تھا،کیاماں باپ بہن بھائیوں،عزیزواقارب کی شفقت ان کے نصیب میں نہیں تھی؟کیایہ پھول بہارسے قبل ہی مرجھاجانے کے لیے تھے؟
قارئین کرام!یہ وہ سوالات ہیں جوورکشاپ،ہوٹل یاکسی بھی کارخانہ میں کام کرنے والے ہربچے کے چہرے پرواضح نظرآتے ہیں اوران کی آنکھیں ہرراہ گزرسے ان کاجواب طلب کرتی ہیں جسے محسوس توکیاجاسکتاہے لیکن احاطہ تحریرمیں لانا میرے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔البتہ یہ کہنابجاہوگاکہ یہ سماج پرست عناصراورسرمایہ دارکے تیارکردہ معاشرتی نظام کے وہ ان مٹ نقوش ہیں جنہیں سدھارنے کے لیے ہم دعوے توکرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔چائلڈلیبرکی بات توکی جاتی ہے لیکن ہمیں وہ بچہ نظرنہیں آتاجوجس دن کام پرنہ جائے اس دن اس معصوم کے گھرچولہاجلنامشکل ہے۔آج جب کہ ہمارا شماردنیاکی ایٹمی طاقتوں میں ہونے لگاہے اورہم ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ چلنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں لیکن ان کے قدم سے قدم ملانایقیناہمارے بس کی بات نہیں۔آخراس کی وجہ کیاہے؟میرے نزدیک اس کاجواب صرف اتناساہے کہ جس ملک وقوم کے بچوں کی اکثریت اپنے بچپن سے ناآشناہو،مایوسی جن کے چہروں سے چھلک رہی ہو،ویرانی اورتاریک مستقبل کی فکرہروقت جن کے ذہنوں پرمسلط ہواورجب وہ جوانی کی دہلیزپرقدم رکھیں توان کی اکثریت ان پڑھ ہواورجوپڑھ لکھ بھی جائیں،دن رات وزیروں،مشیروں کی سفارشوں کے محتاج ہوں،میرٹ پھربھی سفارش اوربرادری ٹھہرے ایسی نوجوان نسل کے خوابوں کاامین ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتااورنہ ہی ترقی یافتہ ممالک کامقابلہ کرنے کی صلاحیت پیداکرسکتاہے۔جب تک نونہالانِ قوم کوان کاکھویاہوااعتمادنہیں ملتا اورجب تک روشن مستقبل کی ضمانت نہیں ملتی مایوسی ان کاپیچھانہیں چھوڑتی ترقی یافتہ بنناتودورکی بات ہے موجودہ شرح ترقی کوان حالات میں برقراررکھنابھی محال ومشکل ہوگا۔
قارئین کرام!ہماراحکمران طبقہ غریب کے حقوق کے بلندوبانگ دعوے توکرتاہے،ان کی بے بسی کارونابھی رویاجاتاہے لیکن آج تک ماضی اورحال کے حکمرانوں نے ان دبے پسے مظلوم طبقات کے لیے کوئی عملی کام نہیں کیااورساتھ ہی یہ کہ انہیں اپنے ہی ہاتھوں لائے ہوئے مہنگائی کے سیلاب میں غوطہ زن غریب ومتوسط طبقہ نظرہی کم آتاہے جواسی سیلابی بہاؤ سے تنگ آکرآرزوئے زندگی کھوبیٹھے ہیں۔جس کی زندہ مثال آئے روزپیش آنے والے خودکشی،خودسوزی کے واقعات ہیں بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کسی غریب شخص نے اس لیے ساراخاندان قتل کرکے خوداپنے ہی ہاتھوں زندگی کاگھلاگھونٹ دیاکہ وہ نہ تواپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھاسکتاتھااورنہ ہی ان معصوموں کوبھوکاننگاتڑپتادیکھ سکتاتھابلکہ بڑے افسوس سے یہ کہناپڑرہاہے کہ ہماری حکومتیں تاحال اس سنگین مسئلہ کے تدارک کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھانے سے قاصردکھائی دیتی ہیں بلکہ دعوؤں ،تجویزوں اورتحریروں پرہی محض اکتفاکیاجارہاہے جس کی بدولت قوم کے پچاس فیصدنونہال پیداہوتے ہی ملک وقوم پربوجھ بن جاتے ہیں۔نامناسب تعلیم وتربیت اوروالدین کی سفیدپوشی خاندانی مجبوریوں کی وجہ سے انہیں بچپن،لڑکپن اورجوانی کاپتہ بھی نہیں چل پاتا۔اس میں قصوران کانہیں بلکہ اس معاشرے کاہے اوراس ملک کے اربابِ اختیارکاہے بالخصوص حکمران طبقے کاہے جووسائل ہونے کے باوجودانہیں درست منصوبہ بندی ایک مناسب لائحہ عمل کے تحت استعمال نہیں کررہے کیوں کہ میرے خیال میں ہمارے پاس اتنی وسائل کی کمی نہیں اورنہ ہی قومی خزانہ ان مسائل کوحل کرنے سے قاصرہے بلکہ اصل مسئلہ ان وسائل کے بہتراورہمدردانہ استعمال کاہے۔
قارئین کرام!اگرایمان داری سے پورے ملک کے اعدادوشماراکٹھے کیے جائیں اورایسے خاندان جن کاکوئی ذریعہ معاش نہیں اوران معصوم بچوں کوجوصرف پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنے بچپن کومشکلات وپریشانیوں میں دھکیل چکے ہیں،مناسب وظائف،بہتر تعلیم وتربیت اوربلاتخصیص روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تووہ وقت دورنہیں جب مستقبل میں یہی معصوم جانیں اپنے بوجھ کی بجائے ملک وقوم کابوجھ بھی اٹھاسکیں گی اوراس مقصدکوپروان چڑھانے کے لیے ہمارے پاس فنڈزفراہم کرنے کاسب سے موثرذریعہ زکوٰۃ ہے جوصرف ناقص حکمت عملی کی وجہ سے جمع اوربہترین مصرف میں نہیں لائی جارہی ورنہ ہرسال اس مدمیں وصول ہونے والے کروڑوں روپے ہمارے بے شماردرپیش مسائل حل کرنے کے لیے کافی ہیں۔اس کے علاوہ سالانہ بجٹ میں غیرضروری اورغیرترقیاتی اخراجات میں کمی کرکے ایسے خاندانوں کی تعدادکاتعین کرلیناچاہیے جنہیں اس فنڈسے روزگارکے مواقع بلاسودقرضے اوروظائف دیے جائیں تویقیناچندہی سالوں میں اس مسئلے کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے اوراگربیرونی اداروں سے ملنے والی امدادسیاست دانوں کی عیاشیوں،غیرملکی بے مقصددوروں،بیرون ملک علاج معالجے کے بہانے تفریح کی بجائے اپنے ملک کے دبے پسے اورپڑھے لکھے بے روزگارنوجوانوں کی فلاح وبہودپرخرچ کی جائے تویقیناملک کوچائلڈلیبراورغربت وافلاس کے بھنورسے نکالاجاسکتاہے لیکن ان تمام مقاصدکے لیے ٹھوس حکمت عملی،مربوط منصوبہ بندی اوروسیع لائحہ عمل کی ضرورت ہے اوران سب کے لیے اہم ضرورت جذبہ حب الوطنی،خدمت اورایمان داری کی ہے۔قارئین کرام!پھروہ وقت دورنہیں کہ ہم دنیاکی ترقی پسنداقوام کی صف میں کھڑاہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں