125

پڑھیئے راجہ محمدزبیربھٹی کی تحریرڈاکٹر طارق محمود چوہدری کو خراجِ تحسین

ہمارے ہاں عمومی رویّہ ہے کہ زندہ بندے کی تعریف کرنے میں بخل سے کام لیا جاتا ہے۔اگر کوئی کسی کی اچھی کارکردگی کی تحسین کر بھی دے تو اسے زیادہ اہمیت بھی نہیں دی جاتی لیکن وہی بندہ جب دنیا سے رُخصت ہو جاتاہے تو اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں جس کا بندے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔نفسیاتی طور پر ہم مُردہ پرست ذہنیت کی بنا پر کسی بھوکے کو ایک وقت کا کھانا نہیں دیا جاتا لیکن مردوں کے نام پر لنگر بانٹتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق طارق محمود صاحب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ٹلی کے میڈیکل سُپرنٹنڈنٹ تھے اور کوئی تین ہفتے قبل ملازمت سے ریٹائر ہو گئے۔میری ان سے کبھی مُلاقات نہیں ہوئی نہ ہی میں انہیں پہچانتا ہوں۔مجھے ان کا پورا نام بھی معلوم نہیں تھا۔ابھی ایک دوست سے پوچھا ہے۔ان کی کارکردگی سے متاثر ہو کرمیں ان کے بارے میں لکھنے پر راغب ہوا ہوں۔
ڈاکٹر طارق صاحب کے جذبے،فکر اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کی کارفرمائی کے نتیجے میں ہسپتال ہذا میں بہت سی مثبت تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔اس سے قبل کہ ان کی کارگزاری کا جائزہ لیا جائے یہ ضروری ہے کہ ادارے کے اس وقت کے حالات کا اجمالی نقشہ پیش کیا جائے جب انہوں نے اس کا چارج سنبھالا تھا۔ان سے پہلے اس ادارے کی عمارت گندگی سے اٹی رہتی تھی۔وارڈز سمیت ہر طرف کچرا پڑا ہوتا تھا۔پانی کا ظام بگڑا ہوا تھا۔ پائپوں اور ٹونٹیوں سے مسلسل پانی رستا رہتا تھا۔اس رساؤ کی وجہ سے ٹینک بہت جلد خالی ہو جاتا تھا ۔اوپر سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ عروج پر ہونے کی بنا پر اکثر ہسپتال میں پانی نہیں ہوتا تھا۔لیٹرینیں بلاک ہو جاتی تھیں جس سے ساری عمارت میں تعفن پھیلا رہتا تھا۔خواتین کی وارڈز ،با لخصوص زچہ بچہ شعبے کی حالت تو انتہائی خراب تھی۔اکثر لوگ گائنی وارڈ میں داخل ہوتے ہی اُلٹیاں کرنے لگتے تھے۔ سیورج کا سسٹم بھی زبوں حالی کا شکار تھا۔ لائینیں جگہ جگہ سے بلاک تھیں جس وجہ سے گتر اُبلتے رہتے تھے۔پانی کی کمی اور اچانک عدم دستیابی کی بنا پر ٹائلٹس بلاک رہتی تھیں۔مریضوں کے لواحقین بغیر کسی ٹائم ٹیبل کے ہر وقت وارڈز میں گھومتے پھرتے رہتے تھے۔لوگ بلا تکلف مریضوں کے پاس بیٹھ کر سگریٹ نوشی کرتے نظر آتے تھے۔مریضوں کو بہت گھٹیا معیار کا کھان دیا جاتا تھا اور اس میں بھی وقفے ہوتے رہتے تھے۔جب ڈاکٹر طارق نے اداے کا نظام سنبھالا تو مریضوں کا لنگر مکمل بند تھا جسے چالو کرنے میں انہیں تین ہفتے لگے۔اس دوران مریض اور ان کے اٹنڈنٹ بازار کے ہوٹلوں کا ناقص کھانا اپنے خرچے پر کھاتے رہے۔مریضوں کو ہسپتال کی طرف سے محض چند ایک ادویات دی جاتی تھیں وہ بھی گھٹیا کوالٹی کی ۔لوگوں کو بڑی مقدار میں ادویات بازار سے خریدنا پڑتی تھیں۔ایل پی اور زکوٰۃ وغیرہ کی دوائیں صرف ان لوگوں کے لیے ہوا کرتی تھیں جن پر خودزکوٰۃ دینافرض تھا۔ادارے کی مُہر لگی دوائیں بازار کے میڈیکل سٹوروں پر دستیاب تھیں۔دکاندار اتنے بے خوف تھے کہ مُہروں کو مٹائے بغیرکھلے عام دوائیں فروخت کرتے تھے۔
بجلی کا نظام بھی بد حالی کا ایک نمونہ تھا۔پنکھے خراب،بٹن ٹوٹے پھوٹیتھے،گیزر اور اے سی ناکارہ ہوگئے تھے۔ہسپتال کی مشینری زیادہ تر خراب پڑی تھی۔معمولی معمولی نقائص پر مشینری کچرے میں ڈال دی جاتی تھی۔گاڑیاں کھٹارہ کر دی گئی تھیں۔ایمبولینسیں ریڑھے بن چکی تھیں۔ سٹریٹ لائٹوں کی تو گویا ادارے کو کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔رہاشی کالونی کے باسیوں نے اپنی ضرورت کے لیے اپنے گھروں کے باہر بلب لٹکا رکھے تھے۔ہسپتال کالونی کے رہائشی ماہانہ لاکھوں روپے کی بجلی مُفت استعمال کرتے تھے۔کھانا پکانے کے لیے بڑے بڑے ہیٹر چل رہے تھے۔اس کے علاوہ پہلے سکیل کے ملازموں نے بھی ائیر کنڈیشنر لگا رکھے تھے۔ادارے کی پارکنگ سارے شہر کے لیے تھی۔ذاتی گاڑیاں تو ایک طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں بھی بلا تکلف ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی کی جاتی تھیں۔جس کا جہاں جی چاہتا تھا وہاں گاڑی کھڑی کر جاتا تھا۔ااوارہ کتے،بلیاں،بکریاں اور دوسرے جانور ادارے کے اندر آزادانہ گھومتے تھے۔کئی کئی سال تک عمارت کی مرمت اور رنگ وروغن نہیں کروایا جاتا تھا۔عملہ اپنی مرضی سے آتا جاتا تھا۔کوئی ٹائم ٹیبل تھا نہ احساسِ ذمہ داری۔ڈاکٹر تو اکثر غائب رہتے تھے۔ عملے اور عوام کے درمیان لڑائی جھگڑے روز انہ کامعمول ہو اکرتا تھا۔الغرض ڈاکٹر طارق کی آمد کے وقت یہ ادارہ لاری اڈّے کا منظر پیش کرتا تھا۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ شائد ادارے کو چلانے کے لیے فنڈز دستیاب نہیں تھے لیکن ایسا ہر گِز نہیں تھا۔ادارے کو حکومت کی طرف سے مسلسل بجٹ دیا جا رہا تھا۔بات صرف یہ تھی کہ وہ رقوم ادارے پر خرچ کرنے کی بجائے انتظامیہ کے اہلکار ہڑپ کر جاتے تھے۔اس کرپشن کی ابتدا ڈاکٹر شبیر کیانی کے زمانے سے ہوئی۔انہیں اپنے تعلق واسطے کے زور پر ایک طویل عرصہ تک ادارے کی سربراہی حاصل رہی۔لوگ انہیں خورد برد کا ٹھیکیدار کہا کرتے تھے۔ادارے کے خرید و فروخت ،سٹورز اور اکاؤنٹ کے شعبوں میں کام کرنے والے وہ چھوٹے ملازم جن کے پاس ماضی میں مہینے کے آخری دنوں گھر جانے کا کرایہ نہیں ہوتا تھا اور وہ دوسروں سے ادھار لیا کرتے تھے،ڈاکٹر شبیر کے دور میں کروڑ پتی بن گئے۔وہ اس مال کی نمود و نمائش کرنے سے ہچکچاتے بھی نہیں تھے۔ عالی شان لباس،شاہانہ طرزِ رہائش،بڑی بڑی قیمتی گاڑیاں،مکان اور وسیع کاروبار اسی کرپشن کے مال سے بنائے گئے۔اِنہی اہلکاروں میں سے ایک دفعہ ایک شخص کے گھر میں چوری ہوئی جس کی مالیت اُس نے صحافیوں کی موجودگی میں ایک کروڑ سے زائد بتائی۔یہ لوگ اتنے سفاک تھے کہ ہسپتال کی چادروں ،پردوں اور اپریشن تھیٹر کے کپڑوں کی دھلائی کے لیے دیا جانے والاصابن اور کیمیکل تک ہڑپ کر جاتے تھے جس کے نتیجے میں دھوبی بغیر صابن ،سوڈے اور بلیچ کے سادہ پانی سے پارچات دھو کر واپس کرتے تھے۔اس طرح جراثیم سارے کپڑوں میں پھیل جاتے تھے۔اس عمل سے اور گھٹیا دواؤں کی وجہ سے ڈاکٹر طارق کے چارج لیتے وقت ادارے میں انفیکشن کی سطح بہت بلند تھی۔ عملاً ہسپتال کے نام پرڈاکٹر طارق کو ایک لاری اڈہ چلانے کے لیے دیا گیا۔
طارق صاحب نے ابتدائی طور پر سارے نظام کی جانچ کی اور کام کا آغاز کیا۔وہ خود صاف ہاتھوں کے مالک اورڈسپلن کے پابند تھے لہٰذا انہوں نے ما تحت اہلکاروں کو نظم و ضبط میں لانے سے ابتدا کی۔چوروں،کام چوروں اورغیر ذمہ داروں کو راہ راست پر لانے کے لیے ایک ایک دن میں بیسیوں ملازموں کو معطل کیا،ان کی تنخواہیں روکیں اور دیگر تادیبی اقدامات عمل میں لائے۔ اس طرح سارا کرپٹ مافیا ڈاکٹر طارق کا مخالف ہو گیا لیکن انہوں نے کسی کی پرواہ نہ کی۔بہت سے چوروں نے ادارے سے اپنی ٹرانسفر کروا لی۔انہوں نے صفائی ستھرائی کا نظام ٹھیک کیا۔پانی اور سیورج کا سسٹم درست کروایا۔ملاقاتیوں کے لیے اوقات مقرر کیے۔پارکنگ کے معاملات کو ضبط میں لایا۔عمارے کی مرمت کے ساتھ ساتھ رنگ وروغن درست کرایا۔ملازمین کو ڈسپلن کا پابند کیا۔محنتی اور ذمہ دار اہلکاروں کو عزت دی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے زنانہ وارڈوں اس حد تک صاف کروایا کہ دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ کوٹلی کا ہسپتال ہے۔انہوں نے گاڑیوں کو درست کروایا۔ایل پی اور زکوٰۃ کے فنڈز کو صرف مستحق افراد کے لیے مختص کیا۔سرکاری کواٹروں میں بجلی کے میٹر نصب کروا کر قومی خزانے میں مستقل لاکھوں روپے ماہانہ جمع کرانے کا بندوبست کیا۔انہوں نے لنگر مریضاں کو نہ صرف چالو کیا بلکہ اسے اعلیٰ معیار پر لائے۔الغرض کہ اب ہسپتال کے اندر داخل ہونے پر گماں ہوتا ہے کہ ہم یورپ کے کسی شفاخانے میں قدم رکھ رہے ہیں۔انہوں نے اخراجات اور ادارے کی ترقی کے لیے اپنے ذاتی دوستوں سے فنڈز حاصل کیے۔ اس مختصر تحریر میں ڈاکٹر طارق کی صلاحیتوں اور خدمات کو مکمل طور پر پیش کرنا نا ممکن ہے۔ ان کی محنت ، لگن اورفرض شناسی کا ثبوت آج کا دسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بزبانِ خود دے رہا ہے۔کسی کو شک ہو تو وہ اپنی آنکھوں سے موقع پر جا کر تصدیق کر سکتا ہے۔
جب سے اس ادارے نے کام شروع کیا ہے تب سے ڈاکٹر مرغوب صاحب کے بعد ڈاکٹر طارق دوسرے ایم ایس ہیں جنہوں نے اپنے قومی جذبے کی مدد سے ادارے کو چار چاند لگائے۔میں اہلیان کوٹلی اور خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے طارق صاحب کے دور میں ہسپتال سے استفادہ کیا ،ڈاکٹر طارق صاحب کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب کا کردار انہیں ایک قومی ہیرو کا درجہ دیتا ہے۔ان کا نقشِ قدم دیگر ریاستی ذمہ داران کے لیے مشعل راہ ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں