104

پڑھیئے سرینگرسے ملک شاکرکاکالم:یہ کس کاخون بہا،وادی کشمیرخون میں لت پت

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری۔


 جنت بے نظیر وادی کشمیر ایک خون خرابے کے دریا میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں ظلم و جبر کی کوئی ایسی تصویر دیکھنے کو نہیں ملتی مگر پھر بھی اقوام عالم یہ سب کچھ دیکھ کر تماشا دیکھ رہا ہے انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کی زبانوں پر تالے لگے ہیں اور انسانیت کے ٹھیکیداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہر حال میں انسانیت کا قتل ہو رہا ہے جہاں بچے بزرگ نوجوان مرد و زن انسانی زیادتی اور ظلم کا شکار بنے ہوئے ہیں ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں اور ہر شخص پریشان حال ہے کہ کس کو قصوروار ٹھہرایا جاے ہر طرف بے بسی کا عالم ہے جہاں ریاست جموں و کشمیر کی عوام اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی ہے۔اس وادی جنت میں جس طرف نظر دہرایی جاے صرف انسان کا بہتا لہو نظر آتا ہے اور چند سیاسی سوداگروں نے اسے جہنم کی تصویر اختیار کر لینے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی جن سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے قوم کے سامنے آزادی کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے اور ریاستی عوام کے خون کو بیھج ان کی پیٹھ پر خنجر مارا یہ سلسلہ جاری رکھنے کے لئے اقتدار کے نشے میں وادی کشمیر کی ماؤں بیٹیوں کی لٹتی ہوئی عزت کے لٹیروں کے حقدار بننے جس انسانی درندگی کے وہ برابر حصے دار بھی ہیں اور ذمہ دار بھی ایسے میں ریاست کی مظلوم عوام کس کے سامنے اپنی آواز بلند کرے جو انسانیت کے ٹھیکیدار بنے ہیں وہی تو اصل دشمن ہیں جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر کی عوام کی آزادیوں کو چھین لینے میں برابر قرار نبھا کر باطل کی طرف داری کی اور باطل کی پالیسی کو جاری وساری رکھا ہے۔آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر آنکھ رو رہی ہے مگر فریاد سننے والا کوئی بھی نظر نہیں آتا آیے روز عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں بیٹوں کے سروں سے انکے باب کا سایا اٹھتا ہے والدین اپنے لختِ جگر کھو رہے ہیں ہر سمت خون تو انسانیت کا ہی ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دور حاضر کا نوجوان اپنے کھیل کود کے دن چھوڑ کر باطل کے مقابلے کے لیے میدان جنگ کا راستہ اختیار کر چکا ہے جہاں آیے روز معصوموں کی لاشیں انکے والدین اپنے کندھوں پر لے کر جنازے ادا کرتے ہیں بہنے اپنے بھائیوں کے راستے تلاش کر رہی ہیں اور لاکھوں لوگوں کو آذادی کے راستے میں بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کی بینائی چھین لی گئی ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد میں بہنوں کی آنکھوں سے بھی انکی روشنی چھین لی گئی ہے۔مگر عالمی میڈیا یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کیا وہ یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ میڈیا کو بھی آذاد نہیں چھوڑا گیا ہے نتیجے کے طور پر عالمی میڈیا بھی وادی کشمیر کے حالات کو منظر عام پر نہیں لاتا جو کہ کسی نہ کسی طرح باطل کے لئے مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ خون میں لپٹی ہوئی وادی کشمیر میں انسانی حقوقوں کی پامالیاں ظلم و جبر تشدت مار دھاڑ نوجوانوں کا قتل عام انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعات ابھی بھی جاری وساری ہیں جس کی اب انتہا ہو چکی ہے اور اب تو کمسن بچے بھی بچپن چھوڑ کر جام شہادت نوش کر رہیں ہیں۔ مگر بے شمار قربانیاں دینے کے باوجود ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہے کس طرح باطل کا مقابلہ کریں اور کس طرح وادی کشمیر کو پھر سے جنت کی صورت میں تبدیل کیا جائے جہاں انسان آزادی کے ساتھ چین کی سانس لے سکے اور اپنی زندگی خوشگوار ماحول میں گزارے اور برسغیر میں امن و امان قائم ہو سکے۔

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری۔
 جنت بے نظیر وادی کشمیر ایک خون خرابے کے دریا میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں ظلم و جبر کی کوئی ایسی تصویر دیکھنے کو نہیں ملتی مگر پھر بھی اقوام عالم یہ سب کچھ دیکھ کر تماشا دیکھ رہا ہے انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کی زبانوں پر تالے لگے ہیں اور انسانیت کے ٹھیکیداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہر حال میں انسانیت کا قتل ہو رہا ہے جہاں بچے بزرگ نوجوان مرد و زن انسانی زیادتی اور ظلم کا شکار بنے ہوئے ہیں ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں اور ہر شخص پریشان حال ہے کہ کس کو قصوروار ٹھہرایا جاے ہر طرف بے بسی کا عالم ہے جہاں ریاست جموں و کشمیر کی عوام اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہی ہے۔اس وادی جنت میں جس طرف نظر دہرایی جاے صرف انسان کا بہتا لہو نظر آتا ہے اور چند سیاسی سوداگروں نے اسے جہنم کی تصویر اختیار کر لینے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی جن سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے قوم کے سامنے آزادی کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے اور ریاستی عوام کے خون کو بیھج ان کی پیٹھ پر خنجر مارا یہ سلسلہ جاری رکھنے کے لئے اقتدار کے نشے میں وادی کشمیر کی ماؤں بیٹیوں کی لٹتی ہوئی عزت کے لٹیروں کے حقدار بننے جس انسانی درندگی کے وہ برابر حصے دار بھی ہیں اور ذمہ دار بھی ایسے میں ریاست کی مظلوم عوام کس کے سامنے اپنی آواز بلند کرے جو انسانیت کے ٹھیکیدار بنے ہیں وہی تو اصل دشمن ہیں جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر کی عوام کی آزادیوں کو چھین لینے میں برابر قرار نبھا کر باطل کی طرف داری کی اور باطل کی پالیسی کو جاری وساری رکھا ہے۔آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر آنکھ رو رہی ہے مگر فریاد سننے والا کوئی بھی نظر نہیں آتا آیے روز عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں بیٹوں کے سروں سے انکے باب کا سایا اٹھتا ہے والدین اپنے لختِ جگر کھو رہے ہیں ہر سمت خون تو انسانیت کا ہی ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دور حاضر کا نوجوان اپنے کھیل کود کے دن چھوڑ کر باطل کے مقابلے کے لیے میدان جنگ کا راستہ اختیار کر چکا ہے جہاں آیے روز معصوموں کی لاشیں انکے والدین اپنے کندھوں پر لے کر جنازے ادا کرتے ہیں بہنے اپنے بھائیوں کے راستے تلاش کر رہی ہیں اور لاکھوں لوگوں کو آذادی کے راستے میں بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کی بینائی چھین لی گئی ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد میں بہنوں کی آنکھوں سے بھی انکی روشنی چھین لی گئی ہے۔مگر عالمی میڈیا یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کیا وہ یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ میڈیا کو بھی آذاد نہیں چھوڑا گیا ہے نتیجے کے طور پر عالمی میڈیا بھی وادی کشمیر کے حالات کو منظر عام پر نہیں لاتا جو کہ کسی نہ کسی طرح باطل کے لئے مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ خون میں لپٹی ہوئی وادی کشمیر میں انسانی حقوقوں کی پامالیاں ظلم و جبر تشدت مار دھاڑ نوجوانوں کا قتل عام انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعات ابھی بھی جاری وساری ہیں جس کی اب انتہا ہو چکی ہے اور اب تو کمسن بچے بھی بچپن چھوڑ کر جام شہادت نوش کر رہیں ہیں۔ مگر بے شمار قربانیاں دینے کے باوجود ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہے کس طرح باطل کا مقابلہ کریں اور کس طرح وادی کشمیر کو پھر سے جنت کی صورت میں تبدیل کیا جائے جہاں انسان آزادی کے ساتھ چین کی سانس لے سکے اور اپنی زندگی خوشگوار ماحول میں گزارے اور برسغیر میں امن و امان قائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں